خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں آخری امریکی قونصل جنرل تھامس ایکرٹ نے کہا ہے کہ پشاور میں امریکی قونصل خانہ بند کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امریکہ کی خیبر پختونخوا کے خطے میں دلچسپی ختم ہو گئی ہے۔ اسلام آباد میں پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن اور انٹرنیشنل ریسرچ کونسل فار ریلیجئس افیئرز کی جانب سے منعقدہ ایک الوداعی تقریب اور ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قونصلر خدمات، تجارتی و کاروباری روابط کے فروغ، سیکیورٹی تعاون کی مضبوطی اور خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان کے عوام کے ساتھ شراکت داری استوار کرنے کی سفارتی کوششیں مستقبل میں بھی بدستور جاری رہیں گی۔
پشاور میں امریکی قونصل خانے کی باقاعدہ بندش کے بعد اب خیبر پختونخوا کے ساتھ تمام سفارتی اور عوامی روابط کی ذمہ داریاں باقاعدہ طور پر اسلام آباد میں واقع امریکی سفارت خانے کو منتقل کر دی گئی ہیں۔ تھامس ایکرٹ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر اور تجربہ کار سفارت کار ہیں جو اپریل دو ہزار تین سے امریکی وزارتِ خارجہ سے وابستہ ہیں۔ اپنے بائیس سالہ سفارتی کیریئر کے دوران انہوں نے گبون، ویتنام، برما اور قبرص میں اہم خدمات انجام دی ہیں، جبکہ وہ دو مرتبہ بغداد (عراق) میں سیکیورٹی آپریشنز کی نگرانی اور بغداد ایمبیسی سیکیورٹی فورسز کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کابل (افغانستان) میں عارضی ڈیوٹی کے دوران اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی کی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں بھی ادا کی تھیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور قونصلیٹ جنرل آف پاکستان، نیویارک کے مشترکہ اور باہمی اہتمام سے چانسلری کی عمارت میں ملک کے 79ویں یومِ آزادی کی مناسبت سے ایک انتہائی شاندار، والہانہ اور پروقار پرچم کشائی کی تقریب منعقد کی گئی۔ اس تاریخی اور اہم تقریب میں امریکہ بالخصوص نیویارک اور گرد و نواح میں مقیم پاکستانی برادری، سفارتی اہلکاروں، خواتین، بچوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے انتہائی جوش و جذبے اور ملی یکجہتی کے ساتھ شرکت کی۔
تقریب کا باقاعدہ اور پروقار آغاز پاکستان کے قومی ترانے کی دلکش اور روح پرور دھن سے ہوا، جس کے ساتھ ہی اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے تمام حاضرین کی موجودگی میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا۔ اس موقع پر چانسلری کا احاطہ پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ پرچم کشائی کے فوراً بعد تقریب میں موجود تمام ارکان اور معزز مہمانوں نے ملکی سلامتی، پائیدار ترقی، استحکام اور امن و امان کے لیے خصوصی اجتماعی دعا کی۔
بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور تحریکِ پاکستان کو خراجِ عقیدت
تقریب کے باقاعدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس دن کی تاریخی اہمیت، پاکستان کے بنیادی نظریہ اور قومی مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال قیادت، اصول پسندی اور دوراندیشی کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک غیر معمولی مدبر اور تاریخی ریاست ساز قرار دیا۔ سفیر عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ قائداعظم نے نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کی تاریخی جدوجہد کی باوقار قیادت کی بلکہ عالمی نقشے پر ایک آزاد، خود مختار اور باوقار قومی ریاست کی بنیاد بھی رکھی۔
اپنے خطاب کے دوران سفیر عاصم افتخار احمد نے مشہور و معروف امریکی مؤرخ اور سوانح نگار اسٹینلے وولپرٹ کے قائداعظم محمد علی جناح کے بارے میں تاریخی قول کا بالخصوص حوالہ دیا۔ انہوں نے اسٹینلے وولپرٹ کے الفاظ کو دہراتے ہوئے کہا:
“بہت کم افراد تاریخ کے دھارے کا رخ نمایاں طور پر بدلتے ہیں۔ اس سے بھی کم لوگ دنیا کے نقشے میں تبدیلی لاتے ہیں۔ اور شاید ہی کسی کو ایک قومی ریاست کے قیام کا اعزاز حاصل ہوتا ہے۔ محمد علی جناح نے یہ تینوں عظیم الشان کارنامے تنہا انجام دیے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ قائداعظم کے متعین کردہ اصول—اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط—آج بھی پاکستانی قوم کے لیے ایک روشن مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور انہی اصولوں پر کاربند رہ کر ہم دنیا میں پیش آنے والے کسی بھی چیلنج پر آسانی سے قابو پا سکتے ہیں۔
1947ء سے 2026ء تک کا شاندار قومی سفر اور مسلح افواج کو سلام
سفیر عاصم افتخار احمد نے 14 اگست 1947ء سے لے کر آج یعنی 14 اگست 2026ء تک کے قومی سفر کی کٹھن راہوں کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اپنے قیام کے بعد سے متعدد سخت، جیو پولیٹیکل اور معاشی چیلنجز کا سامنا کیا ہے، لیکن پاکستانی قوم نے ہر مشکل گھڑی میں غیر معمولی استقامت، اتحاد اور عالی ہمتی کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے وطنِ عزیز کی سرحدوں کے دفاع اور شہریوں کی تحفظ کی خاطر دن رات کوشاں پاکستان کی مسلح افواج کی جرات، شجاعت اور مسلسل ثابت قدمی کو دل کھول کر سراہا۔ سفیر عاصم افتخار نے مئی 2025ء میں بھارت کے ساتھ پیش آنے والی حالیہ شدید کشیدگی اور سرحدی ناخوشگوار صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہماری افواج نے مئی 2025ء کے دوران جس بے مثال طاقت، پیشہ ورانہ مہارت، حکمتِ عملی اور دفاعی عزم کا مظاہرہ کیا، اس نے پوری دنیا پر ثابت کر دیا کہ پاکستان کی سرحدیں مکمل طور پر محفوظ اور ناقابل تسخیر ہیں۔ انہوں نے شہدائے وطن کو سلام پیش کیا جن کی عظیم قربانیوں کی بدولت آج ملک آزاد اور محفوظ فضا میں سانس لے رہا ہے۔
پاکستانی خواتین، نوجوانوں اور بین الاقوامی سفارت کاری میں کامیابی
پاکستانیوں کی عالمی سطح پر حاصل کردہ کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں بالخصوص شعبہ سائنس، تکنیکی جدت، کھیلوں، فن و ثقافت اور سفارت کاری میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی شخصیات کی تعریف کی۔ انہوں نے تقریب میں موجود سفارتی مشن سے منسلک ممتاز خواتین محترمہ صائمہ سلیم اور محترمہ علینہ مجید کی خدمات کو بالخصوص سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں مستقل مشن میں سب کے لیے باعثِ فخر اور مشعلِ راہ ہیں۔
عالمگیر امن کے قیام اور بین الاقوامی سفارت کاری میں پاکستان کے مثبت کردار پر بات کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ عالمی سطح پر رونما ہونے والے تنازعات کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ امن کا راستہ اپنایا ہے۔ انہوں نے حالیہ ایران تنازع کے دوران پاکستان کے مثبت اور مؤثر ثالثانہ کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے اور عالمی سطح پر پائیدار امن اور استقامت کے لیے ہمیشہ ذمہ دارانہ سفارت کاری کی پاسداری کی ہے۔
کشمیر اور فلسطین کے لیے غیر متزلزل اخلاقی و سفارتی حمایت
سلامتی کونسل اور اقوامِ متحدہ کے فورمز کا حوالہ دیتے ہوئے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے تاریخی اور اصولی موقف پر سختی سے قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے غیر ملکی تسلط میں محصور عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کے لیے پاکستان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رہے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، انہوں نے مظلوم فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ جب تک مقبوضہ عرب علاقوں اور فلسطین کے عوام کو ان کا جائز اور قانونی حقِ خودارادیت نہیں مل جاتا، پاکستان عالمی سطح پر ان کی آواز بلند کرتا رہے گا۔
قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی کا خطاب اور پاک امریکہ تعلقات
تقریب سے قونصل جنرل پاکستان نیویارک عامر احمد اتوزئی نے بھی ایک فکر انگیز اور تفصیلی خطاب کیا۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح، مصورِ پاکستان علامہ محمد اقبال اور تحریکِ پاکستان کے تمام شہداء و مجاہدین کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی ایک انمول نعمت اور عظیم الشان ورثہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بھاری قومی ذمہ داری بھی ہے۔
قونصل جنرل نے امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد برادری کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملک کا اصل سرمایہ اور ہمارا فخر ہیں۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی نہ صرف معاشی ترسیلاتِ زر، براہ راست سرمایہ کاری، خیراتی کاموں اور اپنے تعلیمی و معاشی تجربات کے ذریعے ملکی ترقی میں اہم ترین حصہ ڈال رہے ہیں، بلکہ وہ پاکستان اور امریکہ کے کے درمیان ایک مضبوط، پائیدار اور ناقابلِ شکست سفارتی و ثقافتی پل کا کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے یومِ آزادی کو صرف ایک روایتی جشن تک محدود رکھنے کے بجائے ایک مضبوط، خوشحال، مساوی اور جدت پسند پاکستان کی تعمیر کے لیے اپنے عزم کو دہرانے کا دن قرار دیا۔ قونصل جنرل نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ آئندہ دو دہائیوں کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو علم، ٹیکنالوجی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سے آراستہ کریں، تاکہ جب پاکستان اپنی آزادی کے سو سال مکمل کرے تو وہ دنیا کی صفِ اول کی قوموں میں شامل ہو۔
پیغامات کی خواندگی اور بچوں کے ساتھ کیک کاٹنے کی تقریب
تقریب کے ابتدائی مرحلے میں چانسلری کے سینئر افسران ذوالفقار علی، عمر شیخ اور محمد فہیم نے بالترتیب صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے یومِ آزادی کی مناسبت سے بھیجے گئے خصوصی، فکر انگیز اور تہنیتی پیغامات تمام حاضرین کو پڑھ کر سنائے۔ پرچم کشائی اور پورے پروگرام کی باقاعدہ نظامت و کارروائی کے فرائض قونصلر جواد اجمل نے انتہائی خوش اسلوبی سے انجام دیے۔
تقریب کے اختتامی مرحلے پر سفیر عاصم افتخار احمد نے قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی، ڈپٹی مستقل مندوب سفیر عثمان جدون، سفارتی افسران اور تقریب میں موجود بچوں کے ساتھ مل کر یومِ آزادی کا کیک کاٹا۔ بچوں سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے انہیں پاکستان کا تابناک مستقبل قرار دیا اور کہا کہ یہ ہماری اجتماعی قومی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ایک ایسا پاکستان سونپیں جو ہمیشہ روشن، پائیدار اور خود مختار رہے۔ تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء کے لیے پرکلف روایتی پاکستانی refreshments کا انتظام بھی کیا گیا تھا، جہاں برادری کے افراد نے ایک دوسرے کو گلے مل کر جشنِ آزادی کی مبارکباد دی۔
پاکستان اور امریکہ نے اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق اور انسانی وسائل کی پیشہ ورانہ ترقی کو وسعت دینے کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور یونائیٹڈ سٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن ان پاکستان (یو ایس ای ایف پی) کے درمیان تاریخی پانچ سالہ فل برائٹ-ایچ ای سی معاہدے کی باقاعدہ تجدید کر دی ہے۔
وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق تجدید شدہ معاہدہ مالی سال 2026-27ء سے مالی سال 2031-32ء تک اگلے پانچ برسوں کے لیے نافذ العمل رہے گا۔ اس معاہدے کے تحت فل برائٹ ماسٹرز اور پی ایچ ڈی پروگرامز، پوسٹ ڈاکٹریٹ وزٹنگ اسکالر پروگرام، فارن لینگوئج ٹیچنگ اسسٹنٹ پروگرام اور ہیوبرٹ ایچ ہمفری فیلوشپ پروگرام کے ذریعے پاکستانی طلبہ اور محققین کو امریکی جامعات میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
معاہدے کے تحت آئندہ پانچ سالوں کے دوران 66 پاکستانی پی ایچ ڈی اسکارلرز کو خصوصی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس فنڈنگ کے لیے ایچ ای سی سالانہ کم از کم 4.54 ملین ڈالر فراہم کرے گا جبکہ پانچ سال کی مدت میں مجموعی مالیاتی حجم 6.48 ارب روپے تک ہوگا۔ مزید برآں، یو ایس ای ایف پی کے پاس موجود فنڈز سے حاصل ہونے والے منافع کو بھی مزید اسکالرشپس کی فراہمی کے لیے استعمال کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق طلبہ اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔
معاہدے کی اہم شرط کے مطابق اسکارلرز کا انتخاب مکمل طور پر شفاف میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا اور کسی خطے یا شعبے کے لیے کوئی مخصوص کوٹہ نہیں ہوگا، جبکہ انتخابی کمیٹی میں ایچ ای سی کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ پروگرام کی کارکردگی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ جائزہ کمیٹی سال میں دو بار اجلاس منعقد کرے گی اور تمام مالیاتی معاملات کا سالانہ آڈٹ کرایا جائے گا۔
یہ معاہدہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلیمی شراکت داری کے تیسرے مرحلے کا آغاز ہے جو کہ فروری 2016ء کے ابتدائی معاہدے کے تسلسل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وفاقی حکومت نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس اقدام سے ملک میں معیاری اعلیٰ تعلیم، جدت اور بین الاقوامی تعلیمی و تحقیقی روابط کو بے حد فروغ حاصل ہوگا۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان میں امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے وزارتِ خزانہ میں اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان معاشی تعلقات، دوطرفہ تجارت، اور مالیاتی تعاون کو وسعت دینے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیر خزانہ نے امریکی ناظم الامور کو اپنے حالیہ دورۂ واشنگٹن کی تفصیلات سے آگاہ کیا، جہاں انہوں نے امریکی وزیر خزانہ، آئی ایم ایف کی اعلیٰ انتظامیہ، امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن اور ایگزم بینک کے حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اداروں کے ساتھ تعمیری گفتگو ہوئی ہے اور پاکستان تجارتی بنیادوں پر قابلِ عمل منصوبوں کے لیے امریکی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتا ہے۔
ملاقات میں امریکی تجارتی نمائندہ دفتر کے ساتھ باہمی تجارت کے فریم ورک پر ہونے والی پیش رفت پر بھی گفتگو کی گئی۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ ان مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے، جس سے مارکیٹ تک رسائی اور پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت زرمبادلہ کے ذخائر اور کریڈٹ پروفائل کو مستحکم بنانے کے لیے مالی معاونت کے ذرائع کو متنوع بنا رہی ہے۔
گفتگو کے دوران بندرگاہوں، لاجسٹکس، توانائی، ٹیلی کمیونیکیشن، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، اور مصنوعی ذہانت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر غور کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے علاقائی صورتحال کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں سے ہم آہنگی کے لیے یومیہ قیمتوں کی نظرثانی کے نظام کا بھی ذکر کیا۔
امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے مشکل عالمی معاشی حالات اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے باوجود معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کو سراہا۔ انہوں نے امریکی حکومت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت اور خصوصی شعبوں میں امریکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلیمی اور عسکری و ٹیکنالوجی روابط کو مزید مستحکم کرنے کی سمت ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امریکہ کی ریاست واشنگٹن کے نمائندے کانگریس مین مائیکل جیمز بامگارٹنر اور ریاست مونٹانا سے منتخب ہونے والے سابق امریکی وزیرِ داخلہ و کانگریس مین ریان کیتھ زنکے سے ایک اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم وجیہہ قمر، چیئرمین نیوٹیک قمرالاسلام راجہ، سیکرٹری تعلیم اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ ملاقات میں سائبر سیکیورٹی، جدید تکنیکی مہارتوں اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے میدان میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی اور نتیجہ خیز تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں درپیش ڈیجیٹل سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستانی طلبہ اور پیشہ ور افراد کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے، جس کے لیے سائبر سیکیورٹی کے خصوصی کورسز اور سرٹیفیکیشن پروگرامز فوری طور پر تیار کیے جائیں گے۔ دونوں فریقوں نے دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں کے مابین جدید نصاب کی تیاری، مشترکہ تحقیق، فیکلٹی کے تبادلے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی و فن ٹیک کے شعبوں میں قریبی علمی شراکت داری استوار کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امریکی کانگریسی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ پارلیمانی اور تعلیمی وفود کی اس طرح کی باقاعدہ آمد سے پاک امریکہ دیرینہ اور متعدد الجہتی تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔ حکومتِ پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مضبوط تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم اور کلیدی ستون ہیں اور دونوں ممالک کے روابط مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اعلیٰ سطحی رابطوں کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، معدنیات، صحت، زراعت اور تعلیم جیسے باہمی دلچسپی کے اہم شعبوں میں تعاو ن کی نئی راہداریاں کھولی جا سکیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امریکی حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے فل برائٹ پروگرام اور دیگر تعلیمی تبادلے کے پروگراموں کے اثرات کو سراہتے ہوئے بتایا کہ اب تک 44 ہزار سے زائد پاکستانی ان میرٹ پر مبنی پروگراموں سے مستفید ہو چکے ہیں، جو انسانی وسائل کی تعمیر میں ایک عظیم سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے پاکستان کے تمام صوبوں سے ان توانائی، پانی، ماحولیات، صحت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے حیاتیاتی موضوعات پر ریسرچ میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کی تاکہ مشترکہ چیلنجز سے احسن طریقے سے نمٹا جا سکے۔
اس اہم ملاقات کے دوران بین الاقوامی امیگریشن، ویزا پالیسیوں اور حساس ٹیکنالوجیز کے تحفظ کے موجودہ تناظر پر بھی تعمیری گفتگو ہوئی، جس پر وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ امریکی جامعات اور انڈسٹریز آج بھی عالمی سطح پر ‘سٹیم’ صلاحیتوں کی معترف ہیں اور پاکستان آئی ٹی، فن ٹیک، اور ایگری ٹیک کے میدان میں واشنگٹن کا ایک انتھائی قابلِ اعتماد، باصلاحیت اور متحرک شراکت دار بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ دونوں فریقین نے قلیل مدتی تحقیقی تبادلوں، ورچوئل لیبارٹریز، دوہری ڈگری پروگرامز اور اساتذہ کی تربیت کے لیے مشترکہ مراکز کے قیام کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ دونوں ممالک کے نمائندوں نے اس بات پر حتمی اتفاق کیا کہ تعلیم، تحقیقی ویزہ سہولیات اور تکنیکی جدت طرازی ہی وہ بنیادی ذرائع ہیں جو دونوں اقوام کے درمیان اعتماد، افہام و تفہیم اور معاشی خوشحالی کو طویل عرصے تک یقینی بنا سکتے ہیں، جبکہ وفاقی وزارتِ تعلیم نے اس اہم شراکت داری کو مزید نئی بلندیوں تک لے جانے کے اپنے اٹل عزم کا اعادہ کیا۔
پاکستان اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے مابین کاروباری و معاشی شراکت داری کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے، جس سلسلے میں معروف امریکی سرمایہ کاروں، کاروباری رہنماؤں اور ٹیکنالوجی ماہرین پر مشتمل 40 رکنی اعلیٰ سطح وفد 26 سے 31 جولائی تک پاکستان کے اہم دورے پر موجود ہے۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل ، وزارتِ تجارت اور واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے باہمی اشتراک سے ترتیب دیے گئے اس دورے کا مقصد بی ٹو بی اجلاس، پالیسی بریفنگز اور سرمایہ کاری کے ٹھوس معاہدوں کو حتمی شکل دینا ہے۔ دورے کے دوران وفد کی وزیرِ اعظم، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ، اور ایس آئی ایف سی کے حکام سے اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔ امریکی وفد مصنوعی ذہانت ، ٹیلی میڈیسن، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ایرو اسپیس، معدنیات، توانائی اور دفاع جیسے جدید شعبوں میں پاکستان کے ساتھ مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔