علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں جدید تھیٹر ہال کا شاندار افتتاح

روزینہ اسماعیل, September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے مرکزی اکیڈمک کمپلیکس میں علم و ادب، ثقافتی اقدار اور تخلیقی سرگرمیوں کے ہمہ گیر فروغ کے لیے تمام جدید ترین سہولیات سے آراستہ ایک وسیع تھیٹر ہال کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے۔

افتتاح کیا جانے والا یہ جدید تھیٹر ہال یونیورسٹی کے لاکھوں طلبہ کو روایتی نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے آزادانہ اظہارِ خیال، پوشیدہ تخلیقی صلاحیتوں، فنونِ لطیفہ اور متنوع ثقافتی سرگرمیوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بلاشبہ موثر اور جدید ترین قومی پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ اس پروقار افتتاحی تقریب میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود، یونیورسٹی کے سرکردہ اساتذہ، اور شعبہ جات کے پرنسپل افسران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس نو تعمیر شدہ تھیٹر ہال میں پہلی علمی و ادبی تقریب کے طور پر پنجاب یونیورسٹی کی پروفیسر ایمریٹس اور ممتاز ترین ماہرِ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر منور سلطانہ مرزا کی شہرہ آفاق کتاب “ٹیچر ایجوکیشن ان پاکستان” کی باقاعدہ رونمائی کی گئی، جس کی صدارت کا اعزاز چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے سنبھالا۔

تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ پاکستان کے اندر معیاری اور عالمی سطح کی تعلیم کا خواب شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے باصلاحیت، جدید تربیت یافتہ اور بلند کردار استاد کا ہونا بنیادی طور پر ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ استاد صرف کتابی معلومات کا امین یا ناقل نہیں ہوتا بلکہ اسے اپنے طلبہ، ان کے والدین اور پورے معاشرے کے لیے ایک عملی نمونہ اور حقیقی رول ماڈل ہونا چاہیے۔ دورِ حاضر کے بدلتے ہوئے عالمی اور تعلیمی تقاضوں کے پیشِ نظر انہوں نے اساتذہ کی علمی، تدریسی اور جدید پیشہ ورانہ تربیت پر بلا تعطل مسلسل توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ “ٹیچر ایجوکیشن ان پاکستان” ایک بلاشبہ معرکہ الآرا کتاب ہے جو اساتذہ کی جدید تعلیم و تربیت، ان کے معاشرتی کردار اور پیشہ ورانہ ترقی کے بنیادی پہلوؤں کو باریک بینی سے سمجھنے میں مشعلِ راہ ثابت ہوگی، جس کا تمام اساتذہ کو لازمی مطالعہ کرنا چاہیے۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے مصنفہ پروفیسر ڈاکٹر منور سلطانہ مرزا کی دہائیوں پر محیط علمی و تدریسی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر منور سلطانہ مرزا ملکی تعلیم و تدریس کے میدان میں ایک نہایت معتبر، صاحبِ بصیرت اور قابلِ فخر شخصیت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تحریر کردہ کتاب ان کی سالہا سال کی فکری کاوش، عمیق تجربے اور سائنسی بصیرت کا بہترین مظہر ہے جو تعلیم کے شعبے سے وابستہ تمام افراد کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔

افتتاحی تقریب سے وفاقی وزارتِ تعلیم کے ایڈیشنل سیکرٹری حسن ثقلین، پارلیمانی سیکرٹری رابعہ نسیم، سابق وائس چانسلر و پروفیسر ایمریٹس پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن بٹ اور معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر افشاں ہما نے بھی خطاب کیا۔ تمام مقررین نے اس کتاب کو ملک میں اساتذہ کی تربیت کے موضوع پر ایک انتہائی جامع اور بروقت تحقیقی کاوش قرار دیتے ہوئے مصنفہ کی گرانقدر خدمات کو سراہا۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں جدید تدریسی مواد کی تیاری کے لیے 3 روزہ کنٹینٹ ڈویلپمنٹ ورکشاپ کا آغاز

روزینہ اسماعیل, September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سنٹر فار لائف لانگ لرننگ کے زیرِ اہتمام یونیورسٹی فیکلٹی کی پیشہ ورانہ استعدادِ کار، یونٹ رائٹنگ اور جدید ترین معیاری تدریسی مواد کی تیاری کے لیے 3 روزہ ‘کنٹینٹ ڈویلپمنٹ ورکشاپ’ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔

اس اہم اور عملی تربیتی ورکشاپ کا بنیادی مقصد یونیورسٹی کے لاکھوں طلبہ و طالبات کے لیے اوپن اینڈ ڈسٹنس لرننگ کے جدید تقاضوں کے مطابق مؤثر، آسان اور جامع تعلیمی کورسز تیار کرنا اور اساتذہ کی فنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔

ورکشاپ کی پروقار افتتاحی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ اوپن یونیورسٹی کے فاصلاتی تعلیمی نظام میں معیاری تعلیمی مواد ہی استاد اور طالب علم کے درمیان بنیادی پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے طلبہ کی علمی ضروریات، بین الاقوامی ترجیحات اور جدید ہائبرڈ تدریسی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سائنسی بنیادوں پر مواد تیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی مسلسل تربیت اور جدید طریقوں سے آگاہی یونیورسٹی کے تعلیمی گراف کو مزید بلند کرے گی۔

سنٹر فار لائف لانگ لرننگ کی ڈائریکٹر طوبیٰ سلیم نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد اور طریقہ کار پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ تربیتی سرگرمی کے دوران فیکلٹی ممبران کو یونٹ ڈویلپمنٹ، تعلیمی تحریر، اور کورس اسٹرکچرنگ کے جدید عملی و فنی پہلوؤں سے روشناس کرایا جا رہا ہے۔

تقریب میں جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی کے نمائندے عابد گل نے بھی شرکت کی اور کہا کہ معیاری تعلیمی مواد کسی بھی فاصلاتی تعلیمی ادارے کی کامیابی کی بنیادی بنیاد ہوتا ہے۔ انہوں نے اے آئی او یو کی اس انتظامی کاوش کو سراہا اور جائیکا کے تعاون کا اعادہ کیا۔

ورکشاپ کے پہلے روز نامور تعلیمی ماہرین کی جانب سے شرکاء کو کورس آؤٹ لائنز، یونٹ اسائنمنٹس اور گائیڈ لائنز کے حوالے سے عملی مشقیں کرائی گئیں تاکہ معیاری تعلیمی مواد کو حتمی شکل دی جا سکے۔

پاکستانی اخبارات میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کی کوریج محدود اور واقعاتی ہے: علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی تحقیقی رپورٹ

کاشف عباسی , August 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

پاکستان کے قومی اخبارات میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے باعث آنے والے سیلاب اور اس کے تباہ کن اثرات کی کوریج زیادہ تر واقعاتی اور محدود نوعیت کی رہی ہے، جبکہ تقریباً ستتر فیصد خبریں صرف مسئلے کی نشاندہی تک محدود رہیں اور قبل از وقت تیاری، ابتدائی انتباہی نظام، موسمیاتی موافقت اور طویل المدتی لچک جیسے اہم حل پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ یہ اہم انکشافات علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغِ عامہ کے ریسرچ اسکالر محمد سلیم شیخ کی نئی تحقیقی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جو انہوں نے پروفیسر ڈاکٹر ثاقب ریاض کی نگرانی میں مکمل کی۔ اس تحقیق میں سال دو ہزار تئیس اور دو ہزار چوبیس کے دوران شائع ہونے والے دو سو سات مضامین، خبروں اور اداریوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔

تحقیق کے مطابق انگریزی اخبارات نے اردو اخبارات کے مقابلے میں زیادہ تفصیلی کوریج دی، تاہم یہ خبریں شاذ و نادر ہی صفحہ اول پر نمایاں ہوئیں۔ کوریج میں فوری نقصانات اور معاشی اثرات کو زیادہ ترجیح دی گئی جبکہ پالیسی اقدامات اور طویل المدتی حکمت عملی کو نظر انداز کیا گیا۔ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے ڈائریکٹر جنرل محمد آصف صاحبزادہ کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے تقریباً بیس لاکھ افراد کو اس مسئلے سے مسلسل خطرات درپیش ہیں، جس کے لیے میڈیا کا باقاعدہ اور باخبر نقشِ راہ انتہائی ضروری ہے۔ ماہرین نے سفارش کی ہے کہ صحافیوں کی خصوصی تربیت اور موسمیاتی ماہرین کے ساتھ میڈیا کے قریبی تعاون کے ذریعے حل پر مبنی کوریج کو یقینی بنایا جائے۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں “پودے لگاؤ، ملک سنوارو” مون سون شجرکاری مہم کا آغاز: کیمپس کو سرسبز بنانے اور مصنوعی جنگل کے قیام کے عزم کا اعادہ

روزینہ اسماعیل, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے سنگین چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کیمپس کو ماحول دوست بنانے کے لیے ”پودے لگاؤ، ملک سنوارو“ کے عنوان سے مون سون شجرکاری مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کوالٹی انہانسمنٹ سیل کی عمارت کے سامنے واقع مرکزی پارک میں ”کوریزیا“ کا پودا لگا کر اس مہم کا افتتاح کیا۔ افتتاح کے پروقار موقع پر یونیورسٹی کے تمام ڈینز، رجسٹرار، تمام پرنسپل افسران اور شعبہ ہارٹیکلچر کے حکام بھی موجود تھے۔ وائس چانسلر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ درخت لگانا صرف خوبصورتی کی سرگرمی نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بقا اور صحت مند مستقبل کا ضامن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے شجرکاری کو ہر شہری کے لیے قومی فرض کا درجہ دینا ہوگا۔

پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے شعبہ ہارٹیکلچر کو ہدایت جاری کی کہ یونیورسٹی کیمپس کے اندر ایک مصنوعی جنگل کے قیام کے لیے تمام ضروری انتظامات کو فوری طور پر حتمی شکل دی جائے تاکہ کیمپس کو جدید اور پائیدار ماحولیاتی ماڈل میں ڈھالا جا سکے۔

شعبہ زرعی سائنس کے ہارٹیکلچر آفیسر وجیح الحسن نے مہم کی تفصیلات بتاتے ہوئے آگاہ کیا کہ پہلے مرحلے میں کیمپس کے اندر ستر خوبصورت پھول دار پودے لگائے جا رہے ہیں، جبکہ اس پوری مون سون مہم کے لیے کل دو سو پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسی دوران پروفیسر ڈاکٹر ارشاد احمد ارشد نے بتایا کہ اس مہم میں استعمال ہونے والے ستر فیصد پودے کسی باہر کی نرسری سے خریدنے کی بجائے یونیورسٹی میں پہلے سے موجود پودوں ہی سے تیار کیے گئے ہیں، جو کہ حکومتی و ادارے کے مالی وسائل کے انتہائی موثر اور پائیدار استعمال کا بہترین ثبوت ہے۔

تقریب کے اختتام پر تمام ڈینز اور سینئر افسران نے بھی پودے لگائے اور یونیورسٹی میں سبزہ زاروں کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس مہم کا بنیادی مقصد کیمپس کو خوبصورت بنانے کے ساتھ ساتھ اساتذہ، طلبہ اور ملازمین میں ماحولیاتی تحفظ اور شجرکاری کی اہمیت کا شعور بیدار کرنا ہے۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے تاریخ رقم کر دی: داخلوں کے ساتھ ہی طلبہ کو درسی کتب کی ترسیل کا آغاز

روزینہ اسماعیل, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے طلبہ کو بروقت تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے عزم کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ایک نئی مثال قائم کر دی ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود کی خصوصی ہدایات پر سمسٹر خزاں 2026ء کے داخلوں کا عمل جاری رہتے ہی داخلہ لینے والے طلبہ کو درسی کتب کی ترسیل بھی شروع کر دی گئی ہے۔ یونیورسٹی کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ داخلے جاری ہونے کے ساتھ ہی طلبہ کو درسی کتب کی فراہمی کا عمل بھی بیک وقت شروع کیا گیا ہے۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ طلبہ کو کتب کے انتظار سے نجات دلانا اور بروقت تعلیمی مواد فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد طلبہ کو تعلیمی سفر کے آغاز ہی پر ضروری تعلیمی مواد فراہم کرنا اور فاصلاتی نظامِ تعلیم کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ یونیورسٹی کے سالانہ تعلیمی کیلنڈر کے مطابق کتب کی ترسیل مقررہ نظام الاوقات کے تحت مکمل کی جائے اور ہر طالب علم کو اس کے داخل شدہ کورسز کے مطابق کتب کا مکمل سیٹ بروقت فراہم کیا جائے۔

پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے گزشتہ سمسٹر کے دوران طلبہ کو کتب کے نامکمل سیٹس موصول ہونے سے متعلق شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ رواں سمسٹر میں اس نوعیت کی شکایات سامنے نہیں آنی چاہئیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہر طالب علم کے منتخب کردہ کورسز کے مطابق کتب کا مکمل پیکٹ انتہائی احتیاط سے تیار کیا جائے اور اس کی بروقت ترسیل یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کتب کی تیاری اور ترسیل کے عمل میں دستیاب افرادی قوت، وسائل اور انتظامی صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جائے تاکہ طلبہ کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

شعبہ داخلہ کے ڈائریکٹر سید ضیاء الحسنین نے وائس چانسلر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پہلے مرحلے میں ایسوسی ایٹ ڈگری اِن آرٹس اور ایسوسی ایٹ ڈگری اِن کامرس کے طلبہ کو درسی کتب ارسال کی جا رہی ہیں جبکہ دیگر پروگرامز میں داخلہ لینے والے طلبہ کو بھی مرحلہ وار مقررہ نظام الاوقات کے مطابق کتب کی ترسیل جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سمسٹر خزاں 2026ء میں داخلہ لینے والے تمام طلبہ کو درسی کتب کی ترسیل کا عمل 15 نومبر 2026ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کتب کی ترسیل کے عمل کو داخلوں کے ساتھ مربوط کرنے سے طلبہ کو تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز ہی سے اپنے متعلقہ کورسز کے مطالعاتی مواد تک رسائی حاصل ہوگی جس سے انہیں اپنی تعلیمی سرگرمیوں کی بروقت منصوبہ بندی اور مطالعے میں آسانی ہوگی۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا یہ اقدام محض کتب کی ترسیل کے نظام میں بہتری نہیں بلکہ طلبہ کے وقت کی قدر، تعلیمی تسلسل اور بروقت خدمات کی فراہمی کے عزم کا عملی اظہار ہے۔ داخلوں کے ساتھ ہی درسی کتب کی ترسیل کا آغاز فاصلاتی تعلیم کے طلبہ کے لیے ایک اہم سہولت ہے جو یونیورسٹی کی انتظامی کارکردگی، تعلیمی خدمات میں بہتری اور طلبہ مرکز پالیسیوں کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا باصلاحیت نوجوانوں کے لیے بڑا اقدام؛ پی ایچ ڈی طلبہ کے لیے مکمل فنڈڈ اسکالرشپ پروگرام متعارف

روزینہ اسماعیل, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

ملک میں اعلیٰ معیاری تحقیقی کلچر کے فروغ اور باصلاحیت نوجوان محققین کی تزویراتی حوصلہ افزائی کے لیے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے ایک بڑا مقتدر قدم اٹھایا ہے. یونیورسٹی انتظامیہ نے پی ایچ ڈی کے ہونہار طلبہ کے لیے میرٹ پر مبنی مکمل فنڈڈ اسکالرشپ پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے. اتوار کے روز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس انقلابی اقدام کا بنیادی مقصد مستحق اور قابل ترین طلبہ کو مالی مشکلات اور فیسوں کے بوجھ سے مکمل طور پر بے نیاز کرنا ہے تاکہ انہیں عالمی معیار کی جدید تحقیق کے لیے ایک بہترین اور سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے.

اس مقتدر پروگرام کے تحت منتخب ہونے والے پی ایچ ڈی سکالرز کو یونیورسٹی پالیسی کے مطابق ماہانہ معقول وظیفہ، مکمل ٹیوشن فیس کی معافی اور دیگر تمام منظور شدہ تعلیمی و تحقیقی اخراجات کی بھرپور مالی معاونت فراہم کی جائے گی، تاکہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں اور توجہ صرف اور صرف معیاری تحقیق اور علمی سرگرمیوں پر مرکوز رکھ سکیں. مزید برآں، اس اسکالرشپ پروگرام کے تحت محققین کو یونیورسٹی میں تدریسی تحقیقی اور دیگر علمی پراجیکٹس میں عملی طور پر حصہ لینے کے بہترین مواقع بھی دیے جائیں گے، جس سے انہیں مستقبل کے لیے عملی تدریسی تجربہ، جدید تحقیقی مہارت اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو عالمی معیار کے مطابق نکھارنے کا موقع ملے گا.

یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے اس اسکالرشپ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں اعلیٰ تحقیقی کلچر کا فروغ ان کی اولین ترین ترجیحات میں شامل ہے. انہوں نے واضح کیا کہ ایک مضبوط تحقیقی بنیاد ہی کسی بھی ملک کی پائیدار ترقی، نئی اختراعات اور علم پر مبنی معیشت کی حقیقی ضامن ہوتی ہے، اسی لیے یونیورسٹی نوجوانوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کر رہی ہے. انہوں نے مزید کہا کہ یہ فنڈڈ پروگرام محققین کو قومی ترقی، سماجی مسائل کے عملی حل اور جدید سائنسی تحقیق کے میدان میں مؤثر ترین کردار ادا کرنے کے قابل بنائے گا. وائس چانسلر نے خواہشمند طلبہ پر زور دیا کہ وہ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے فوری درخواست دیں. اسکالرشپ کے اہلیت کا معیار اور درخواست جمع کرانے کی تمام تر تفصیلات یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی ہیں.

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور چینی ادارے کے درمیان تعلیمی و تکنیکی تعاون کا معاہدہ، لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط

روزینہ اسماعیل, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی (اے آئی او یو) اور چین کے معروف ادارے ‘ٹینگ چائنیز انٹرنیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹیکنالوجی’ کے درمیان تعلیمی و تکنیکی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک مقتدر لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اس تزویراتی شراکت داری کے تحت دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تعلیمی پروگرام، طلبہ و اساتذہ کے تبادلے، چینی زبان کے فروغ، مشترکہ تحقیق، جدید مہارتوں کی تربیت اور جامعات و صنعت (انڈسٹری) کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔ دستاویزات پر اوپن یونیورسٹی کی جانب سے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود جبکہ چینی ادارے کی جانب سے بانی سانگ جیاءنگ نے باقاعدہ دستخط کیے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور مہارتوں سے آراستہ نوجوان ہی مستقبل کی اصل طاقت ہیں، اس لیے جامعات کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیم اور عملی مہارتوں سے لیس کریں تاکہ وہ بدلتی ہوئی عالمی ضروریات کے مطابق مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس شراکت داری کے تحت جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے مہارت پر مبنی تعلیمی پروگرام متعارف کرائے جائیں گے تاکہ باصلاحیت اور ہنر مند افرادی قوت تیار کی جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس تعاون کے نتیجے میں جامعہ میں چینی زبان و ثقافت کا مرکز بھی قائم ہوگا، جبکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ترک، جاپانی اور روسی زبانوں کے مراکز پہلے ہی کامیابی سے کام کر رہے ہیں۔ وائس چانسلر نے مزید کہا کہ پاک چین دیرینہ دوستی وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہو رہی ہے اور تعلیم اس دوستی کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔

چینی ادارے کے بانی مسٹر سانگ جیاءنگ نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں ٹیکنالوجی اور مہارت پر مبنی تعلیم کے فروغ کے لیے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ایک بہترین اور مقتدر شراکت دار ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ تعاون دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی، تحقیقی اور تکنیکی روابط کو نئی جہت دے گا اور نوجوانوں کو عالمی معیار کی ہنر مندی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس موقع پر کوالٹی انہانسمنٹ سیل کی ڈائریکٹر ڈاکٹر صائمہ ناصر نے کہا کہ یہ معاہدہ اوپن یونیورسٹی کی بین الاقوامی روابط کو وسعت دینے کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے جس سے طلبہ اور اساتذہ کو بین الاقوامی معیار کے تعلیمی اور تحقیقی مواقع میسر آئیں گے۔ تقریب میں یونیورسٹی کے ڈینز، پروفیسرز، شعبہ جات کے سربراہان اور دیگر پرنسپل افسران نے بھی شرکت کی۔