ہائر ایجوکیشن کمیشن نے لاء ایڈمیشن ٹیسٹ کے نتائج کا اعلان کر دیا

روزینہ اسماعیل, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے لاء ایڈمیشن ٹیسٹ کے نتائج کا باضابطہ طور پر اعلان کر دیا ہے۔ ملک بھر سے ٹیسٹ میں شریک ہونے والے امیدوار اب ایچ ای سی کی ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل (ای ٹی سی) کے آن لائن پورٹل کے ذریعے اپنے نتائج کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق تمام امیدوار اپنے رجسٹرڈ اکاؤنٹ کے ذریعے ای ٹی سی پورٹل پر لاگ ان کر کے اپنا نتیجہ اور اسکور کارڈ حاصل کر سکتے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تمام متعلقہ امیدواروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ نتائج اور دیگر تمام ضروری تفصیلات کے لیے محض ای ٹی سی کے آفیشل پورٹل پر رجوع کریں اور وہاں فراہم کردہ ہدایات کے مطابق اگلا مرحلہ مکمل کریں۔

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت پر تربیتی نشست کا انعقاد: طلبہ کی غیر معمولی دلچسپی

روزینہ اسماعیل, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے طلبہ ترقی و تقرری مرکز (اسٹوڈنٹ ڈویلپمنٹ اینڈ پلیسمنٹ سینٹر) کے زیرِ اہتمام مصنوعی ذہانت (AI) کے جدید تقاضوں پر مبنی آن لائن تربیتی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے غیر معمولی اور والہانہ دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ اس خصوصی ورکشاپ کے لیے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے 293 طلبہ نے رجسٹریشن کروائی، جبکہ 116 طلبہ نے براہِ راست آن لائن سیشن میں مکمل طور پر شرکت کی۔

ورکشاپ کے دوران معروف کمپنی گوگل کے ماہر محمد عمر نذیر نے کلیدی سپیکر کے طور پر شرکت کی۔ انہوں نے شرکاء کو ‘گوگل ڈویلپر گروپس’ اور یونیورسٹی کیمپس میں قائم ‘گوگل ڈویلپر گروپس آن کیمپس’ کے آپریشنز اور فوائد کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ان عالمی سطح کے پلیٹ فارمز سے متحرک طور پر وابستہ ہو کر اپنی فنی صلاحیتوں کو جلا بخشیں، مشترکہ طور پر جدید ٹیکنالوجی پروژیکٹس پر کام کریں، اپنے پیشہ ورانہ نیٹ ورک کو وسعت دیں اور موجودہ صنعتی تقاضوں سے خود کو ہم آہنگ کریں۔

نشست کے آخری مرحلے میں ایک فکر انگیز سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا جس میں طلبہ نے اپنے اپنے مخصوص تعلیمی شعبہ جات میں مصنوعی ذہانت کے عملی اطلاق سے متعلق سوالات کیے۔ محمد عمر نذیر نے ان کے جوابات دیتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ مصنوعی ذہانت اب صرف کمپیوٹر سائنس کے شعبے تک محدود نہیں رہی بلکہ نفسیات کے طلبہ اسے طبی و روئیاتی تحقیق میں، شعبہ صحت کے ماہرین بیماریاں کی تشخیص میں اور لاجسٹکس کے ادارے اپنے انتظامی امور کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کلیدی، اسٹریٹجک اور اہم فیصلوں میں انسانی سوچ اور نگرانی ہمیشہ ناگزیر رہے گی۔

ورکشاپ کے اختتام پر اسٹوڈنٹ ڈویلپمنٹ اینڈ پلیسمنٹ سینٹر کے انچارج ڈاکٹر عارف سلیم نے مہمانِ خصوصی محمد عمر نذیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سیشن نے طلبہ کو مصنوعی ذہانت کے عملی فوائد اور ڈیجیٹل مہارتوں سے مستفید ہونے کا شاندار موقع فراہم کیا ہے۔ انہوں نے مستقبل میں گوگل کے ساتھ آن کیمپس مزید تربیتی پروگرامز کے انعقاد کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ ایسی سرگرمیاں طلبہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو عالمی منڈی کے معائیر کے مطابق ڈھالنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔