اٹلی میں چار پاکستانی مزدوروں کو گاڑی میں زندہ جلا کر قتل کرنے کا ہولناک انکشاف، دو پاکستانی ملزمان گرفتار

محمود احمد june 02,2026

روم (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جون 2026ء

یورپی ملک اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک دل دہلا دینے والا اور انتہائی سفاکانہ واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں چار پاکستانی کھیت مزدوروں کو مبینہ طور پر ایک منی وین کے اندر بند کر کے زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا ہے۔ اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ واقعے میں ملوث ہونے کے قوی شبے میں دو پاکستانی شہریوں کو ہی گرفتار کر کے باقاعدہ تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

پٹرول پمپ پر جلتی ہوئی وین سے لاشوں کی برآمدگی اطالوی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس کے مطابق، یہ افسوسناک اور انسانیت سوز واقعہ کلابریا کے علاقے امینڈولارا کے قریب ایک پٹرول پمپ پر پیش آیا، جہاں ایک جلتی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی شہریوں کی بری طرح جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں۔ ابتدائی کرائم سین تحقیقات کے مطابق، چاروں مقتولین گاڑی کے اندر ہی موجود تھے جب نامعلوم سفاک ملزمان نے مبینہ طور پر گاڑی کے تمام دروازے باہر سے مضبوطی سے بند کر دیے۔

نگرانی کیمروں کی ریکارڈنگ اور لرزہ خیز مناظر تحقیقاتی اداروں کو پٹرول پمپ پر لگے حفاظتی نگرانی کیمروں (سی سی ٹی وی) کی جو ریکارڈنگ موصول ہوئی ہے، اس کے مطابق دو افراد نے گاڑی کے قریب آ کر مبینہ طور پر کوئی انتہائی تیز رفتار آتش گیر مادہ (پٹرول یا کیمیکل) پھینکا، جس کے نتیجے میں وین میں اچانک ہولناک آگ بھڑک اٹھی۔ گاڑی پر آگ پھینکنے کے فوری بعد ملزمان بڑی آسانی سے موقع سے فرار ہو گئے، جبکہ گاڑی کے دروازے باہر سے بند ہونے کے باعث اندر موجود بے بس افراد اپنی جانیں بچانے میں ناکام رہے۔

فائر بریگیڈ کی آمد اور پولیس کی جانب سے قتل کی تصدیق اطلاعات کے مطابق، پٹرول پمپ انتظامیہ کی اطلاع پر فائر بریگیڈ کے اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر گاڑی میں لگی آگ پر قابو پایا، تاہم اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی اور گاڑی کے اندر موجود چاروں بدقسمت پاکستانی شہری جاں بحق ہو چکے تھے۔ مقامی پولیس کے اعلیٰ حکام نے اس واقعے کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ‘سنگین قتل’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کے مختلف پہلوؤں پر باریک بینی سے تحقیقات جاری ہیں اور گرفتار ملزمان سے مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

تارکینِ وطن کے گروہوں میں دیرینہ کشیدگی اور تنازعات مقامی ذرائع اور رپورٹس کے مطابق، اٹلی کا یہ مخصوص علاقہ گزشتہ کچھ عرصے سے غیر قانونی و قانونی تارکینِ وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا۔ مقامی باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ زرعی شعبے (کھیتوں) میں مزدوری کرنے، رہائش کے مسائل اور قانونی دستاویزات (ویزہ و پیپرز) سے متعلق دیرینہ تنازعات کے باعث وہاں مقیم مختلف گروہوں کے درمیان شدید اختلافات اور دشمنی موجود تھی۔

سخت سزا کا یقین اور پاکستانی برادری میں صدمے کی لہر اطالوی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس اندوہناک واقعے کے تمام اصل محرکات، پسِ پردہ کارفرما عناصر، ممکنہ دیگر مفرور ساتھی ملزمان اور واقعے کے پس منظر کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے۔ اطالوی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یقین دلایا ہے کہ اس گھناؤنے جرم کے ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے گی۔

دوسری جانب، یورپ کے ملک اٹلی میں پیش آنے والے اس لرزہ خیز واقعے نے وہاں مقیم پوری پاکستانی برادری کو شدید صدمے اور خوف میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے حلقوں نے بھی اطالوی حکومت سے اس واقعے کی مکمل، شفاف اور فوری تحقیقات کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔