یوتھ اینڈ اے آئی سمٹ: اقوام متحدہ میں گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل کا جامع اور نوجوانوں پر مرکوز مصنوعی ذہانت کی حکمرانی پر زور

محمود احمد, August 13,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 13 اگست 2026ء

گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے زیادہ جامع، اخلاقی اور انسان مرکز نقطۂ نظر اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت کے مستقبل اور اس کی عالمی حکمرانی کی تشکیل میں بامعنی اور فعال کردار دیا جانا چاہیے۔

انٹرنیشنل یوتھ ڈے 2026ء کے موقع پر اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں منعقدہ ‘یوتھ اینڈ اے آئی سمٹ’ سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے پاکستان کے روشن مستقبل میں نوجوانوں کی اہمیت اجاگر کی اور بتایا کہ ملک کی تقریباً 70 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نیشنل اے آئی پالیسی علم پر مبنی معیشت کے فروغ کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل فراہم کرتی ہے، جس کے تحت سال 2030ء تک 10 لاکھ مصنوعی ذہانت کے ماہرین کی تربیت، اے آئی تعلیم و تحقیق کے فروغ اور حکومت، تعلیمی اداروں و صنعت کے درمیان تعاون کو وسعت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ڈیجیٹل تبدیلی کی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے گورنر مندوخیل نے کہا کہ مصنوعی ذہانت جغرافیائی فاصلوں کو کم کرتے ہوئے بلوچستان جیسے پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے، تاہم یہ اسی وقت ممکن ہے جب ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے اور مہارتوں تک مساوی رسائی حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی تعلیم، صحت، موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے اور عوامی خدمات کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہے، لیکن بین الاقوامی تعاون کے بغیر یہ انقلاب ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان عدم مساوات کو بڑھا سکتا ہے۔

نوجوان شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے گورنر مندوخیل نے زور دیا کہ اے آئی کا مستقبل محض نئی نسل پر مسلط نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں خود اس کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کو زیادہ مواقع، شمولیت اور انسانی فلاح و بہبود کا ذریعہ بنانے کے لیے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔