عمرہ زائرین کے لیے بڑا حکم نامہ: 14 ستمبر سے کراچی ایئرپورٹ پر نادرا ڈیجیٹل ویکسینیشن سرٹیفکیٹ لازم قرار

محمود احمد, September 12,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

بارڈر ہیلتھ سروسز کے فیڈرل ایئرپورٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے عمرہ کی ادائیگی کے لیے جانے والے تمام مسافروں کے لیے نادرا ڈیجیٹل ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کو لازمی قرار دے دیا ہے۔

ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے فیڈرل ایئرپورٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے فوکل پرسن ڈاکٹر سید مرتضیٰ شاہ بخاری نے واضح کیا کہ 14 ستمبر 2026ء کے بعد سے کراچی ایئرپورٹ سے سفر کرنے والے عمرہ زائرین پر نادرا کے جاری کردہ ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر سفری پابندی عائد ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیو، گردن توڑ بخار (میننجائٹس)، یلو فیور اور انفلوئنزا کی ویکسینیشن کے لیے فیڈرل گورنمنٹ سول ڈسپنسری کو واحد مجاز مرکز مقرر کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر مرتضیٰ شاہ نے وضاحت کی کہ گزشتہ روز کے اعلامیے سے یہ غلط تاثر قائم کرنے کی کوشش کی گئی کہ جیسے یہ پابندی تمام بین الاقوامی پروازوں کے عام مسافروں پر عائد کی گئی ہے، جو کہ بالکل غلط ہے؛ یہ ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ فی الوقت صرف اور صرف عمرہ زائرین کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس پابندی کا فوری اطلاق کراچی ایئرپورٹ کے مسافروں پر ہوگا، جبکہ بعد میں مرحلہ وار پشاور، اسلام آباد اور لاہور ایئرپورٹس کے زائرین پر بھی اس کا اطلاق کیا جائے گا۔ عمرہ زائرین کے بعد حج پر جانے والے مسافروں کے لیے بھی یہی ضابطہ نافذ العمل ہوگا۔

فوکل پرسن نے افریقہ، وسطی اور جنوبی امریکہ سے آنے یا وہاں ۱۰ گھنٹے سے زیادہ کا ٹرانزٹ کرنے والے مسافروں کے لیے ‘یلو فیور’ کی ویکسینیشن کو لازمی قرار دیا۔ ان ممالک سے آنے والے ایک سال یا اس سے زائد عمر کے تمام مسافروں کے لیے پاکستان میں داخلے کے وقت ویکسینیشن سرٹیفکیٹ دکھانا واجب ہوگا۔

سرٹیفکیٹ نہ رکھنے والے مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پرواز سے کم از کم ۶ گھنٹے قبل ایئرپورٹ پہنچیں جہاں ایئرپورٹ ڈیپارچر پر ہیلتھ کاؤنٹرز کے ذریعے ویکسینیشن کا ہنگامی انتظام کیا جا رہا ہے۔ تمام ائیر لائنز کے اسٹیشن منیجرز اور ٹریول ایجنٹس کو آگاہی نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں اور انہیں پابند کیا گیا ہے کہ وہ نادرا سرٹیفکیٹ کے بغیر کسی زائر کو بورڈنگ کارڈ جاری نہ کریں۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن عمل کا جائزہ، سسٹم میں خرابی کا فوری نوٹس اور متبادل انتظامات کا حکم

محمود احمد, August 29,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کراچی میں واقع جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا ایک اہم اور تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے بین الاقوامی پروازوں کی روانگی اور آمد کے کاؤنٹرز پر امیگریشن کے مجموعی عمل، مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور عملے کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اپنے اس اچانک اور ہنگامی دورے کے دوران وزیر داخلہ نے بیرونی ممالک سفر کرنے والے عام مسافروں اور خاندانوں کے پاس جا کر ان سے خود ملاقات کی، اور ان سے امیگریشن پراسیس میں درپیش سہولیات، متوقع تاخیر اور عملے کے رویے سے متعلق تفصیلات دریافت کیں، جس پر مسافروں نے اپنے خدشات اور خیالات کا اظہار کیا۔

وزارتِ داخلہ کی جانب سے ہفتے کے روز اسلام آباد اور کراچی سے جاری ہونے والے ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے دورے کے عین دوران ایئرپورٹ کا مرکزی امیگریشن سسٹم اچانک تکنیکی خرابی کے باعث ڈاؤن ہو گیا۔ امیگریشن سسٹم بند ہوتے ہی لائنوں میں لگے مسافروں کی روانگی کا عمل سست روی کا شکار ہوا، جس پر وزیر داخلہ نے معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے تاخیر کا سخت نوٹس لیا اور فوری طور پر موقع پر سے ہی متعلقہ اعلیٰ حکام اور آئی ٹی ماہرین سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ انہوں نے حکام کو سخت احکامات جاری کرتے ہوئے امیگریشن سسٹم میں پیدا ہونے والی اس تکنیکی خرابی اور نیٹ ورک سست روی کو فوری طور پر دور کرنے کی ہدایت کی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے امیگریشن حکام اور ایئرپورٹ انتظامیہ کو واضح الفاظ میں ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ “سسٹم ڈاؤن ہونے یا کسی بھی غیر متوقع تکنیکی خرابی کی صورت میں ہنگامی بنیادوں پر متبادل طریقہ کار اور مینوئل پروسیسنگ کا بندوبست ہر وقت تیار رکھا جائے، کیونکہ بین الاقوامی مسافروں کی سہولت کے پیشِ نظر امیگریشن پراسیس کسی بھی صورت اور کسی بھی قیمت پر رکنا نہیں چاہیے”۔ انہوں نے انتظامیہ کو واضح کیا کہ مسافروں کا وقت اور ان کی عزتِ نفس نہایت محترم ہے اور سسٹم کی بحالی کے کام کو جنگی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔

دورے کے اختتام پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے امیگریشن کنٹرول اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے افسران کو ملک گیر سطح پر جعلسازی روکنے اور جعلی دستاویزات پر بیرونِ ملک سفر کرنے کی کوشش کرنے والے گینگ اور مسافروں کے خلاف فی الفور سخت ترین قانونی ایکشن لینے کا حکم دیا۔ محسن نقوی نے دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا کہ نامکمل، مشکوک اور بغیر تصدیق شدہ پاسپورٹ یا ویزا دستاویزات کے حامل کسی بھی فرد کو کسی صورت ایئرپورٹ سے سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس سلسلے میں سیکیورٹی اور سکیننگ پر کوئی بھی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے کی ریکارڈ 18 ماہ میں تعمیرِ نو؛ عالمی ہوا بازی کے ادارے ‘آئی سی اے او’ کے اجلاس میں پاکستان کی بڑی کامیابی کا اعتراف

کاشف عباسی , JULY 15,026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 15 جولائی 2026ء

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے کی تعمیرِ نو کا انتہائی پیچیدہ اور اہم ترین منصوبہ محض 18 ماہ کی مقررہ مدت میں کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ اس مقتدر کامیابی اور تزویراتی مہارت کا باقاعدہ اعتراف تھائی لینڈ کے شہر بینکاک میں منعقدہ اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے ‘انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن’ (آئی سی اے او) کے تحت ایشیا پیسیفک ریجنل ایوی ایشن سیفٹی ٹیم کے پچیسویں اہم اجلاس کے دوران کیا گیا، جہاں پاکستانی وفد نے ملک کی مقتدر نمائندگی کی۔

ترجمان پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، بینکاک میں ہونے والے اس بین الاقوامی اجلاس میں شریک پاکستانی وفد میں پراجیکٹ ڈائریکٹر جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ انجینئر حافظ زاہد اسحاق، سینئر ڈپٹی ڈائریکٹر انجینئر منیب احمد خان اور سینئر ڈپٹی ڈائریکٹر سول ایوی ایشن اتھارٹی ماہ رخ ایم حسین شامل تھے۔ اجلاس کے دوران انجینئر حافظ زاہد اسحاق نے پاکستان کی ہوا بازی کی تاریخ کے اس منفرد منصوبے پر ایک تکنیکی ورکنگ پیپر پیش کیا، جس میں لائیو ایئرپورٹ آپریشنز کے دوران مکمل حفاظتی انتظامات کے ساتھ رن وے کی تعمیرِ نو کے مراحل کو تفصیلاً اجاگر کیا گیا۔

عالمی فورم کو دی جانے والی پریزنٹیشن میں تزویراتی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ رن وے کی تعمیرِ نو کے دوران ایئرپورٹ کے آپریشنز کو ایک لمحے کے لیے بھی بند نہیں کیا گیا، بلکہ اس دوران تقریباً 60 ہزار فضائی پروازوں کو مکمل طور پر محفوظ انداز میں سہولت فراہم کی گئی اور ایک کروڑ کے قریب مسافروں کو سفری خدمات دی گئیں، جبکہ پورے منصوبے کے دوران کوئی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ یا حادثہ پیش نہیں آیا۔ رن وے کی مکمل اور معیاری تعمیر کے بعد اسے تجارتی پروازوں کے لیے باقاعدہ طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ اجلاس میں موجود امریکہ اور تھائی لینڈ کی ہوا بازی کے مقتدر اداروں نے پاکستان کے اس بہترین سیفٹی فریم ورک اور مختلف اداروں کے مابین شاندار تعاون کو بے حد سراہا اور اسے پورے ایشیا پیسیفک خطے کے لیے ایک بہترین اور قابلِ تقلید مثال قرار دیا۔