

منصور احمد, August 31,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء
پاکستان اور ایتھوپیا کے مابین تجارتی، ثقافتی اور عوامی روابط کے فروغ میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ملک کے پہلے اختصاصی ’ایتھوپیئن کافی کیفے‘ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ دونوں برادر ممالک کے بڑھتے ہوئے دوطرفہ سفارتی تعلقات کے تناظر میں اسے ثقافتی پل کی تعمیر کی جانب ایک غیر معمولی اور اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
افتتاحی تقریب کے بعد روایتی ایتھوپیئن کافی کی مخصوص اور خوبصورت رسم بھی منعقد کی گئی، جس میں پاکستان میں مقیم ایتھوپیئن کمیونٹی، سفارتخانے کے اعلیٰ عملے، ممتاز شخصیات اور میڈیا کے نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے کہا کہ اس کیفے کا افتتاح پاکستان میں ایتھوپیئن کافی اور اس کی عظیم تاریخ کے باقاعدہ تعارف کی علامت ہے، جبکہ جڑواں شہروں (اسلام آباد و راولپنڈی) کی سطح پر یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد ایتھوپیئن کافی ہاؤس ہے۔ انہوں نے اجاگر کیا کہ ایتھوپیا کو انسانیت کی جائے پیدائش اور دنیا کی بہترین ‘عربیکا کافی’ کا اصل وطن ہونے کے باعث بجا طور پر “لینڈ آف اوریجنز” کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
ایتھوپیئن سفیر نے مزید بتایا کہ اس کیفے کا قیام اور اس کی ملکیت ایک ایتھوپیئن-پاکستانی جوڑے کے پاس ہونا اس اقدام کو عوامی سطح پر مزید دوآتشہ اور اہم بناتا ہے، جو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت اور برادری کی روشن عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کیفے کا باضابطہ نام “حبیشہ” رکھا گیا ہے، جو کہ ایتھوپیا کا قدیم اور تاریخی نام ہے۔ یہ نام پاکستانی عوام کے لیے بھی خاص روحانی و تاریخی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ مسلمان حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ اور حبشہ کے منصف مزاج بادشاہ نجاشی سے گہری اور تاریخی عقیدت رکھتے ہیں، جنہوں نے ہجرتِ حبشہ کے کٹھن وقت میں ابتدائی مسلمانوں کو اپنے ملک میں پناہ فراہم کی تھی۔ سفیر نے دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ثقافتی تبادلوں میں اضافے پر زور دیا۔
کیفے کے مالکان میں شامل نعیم ہاشمی نے تقریب کے موقع پر میڈیا کو بتایا کہ “حبیشہ کیفے” کے قیام کا بنیادی مقصد پاکستان اور ایتھوپیا کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانے کے لیے ایک ایسا فعال پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں دونوں ممالک کے لوگ ایک دوسرے کے آرٹ، ثقافت، روایتی موسیقی، رسم و رواج اور سیاحتی مقاصد سے آگاہی حاصل کر سکیں اور ان کا آزادانہ تبادلہ کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کیفے محض بہترین کافی پیش کرنے کا مرکز نہیں، بلکہ پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان مضبوط ثقافتی اور عوامی روابط کے فروغ کا ایک اہم زریعہ ثابت ہو گا۔