نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں پر مقناطیسی میدان کے مضبوط شواہد دریافت، فلکیات کی دنیا میں بڑی پیش رفت

روزینہ اسماعیل.june 02,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 02 جون 2026ء

دنیا بھر کے ماہرینِ فلکیات نے نظامِ شمسی سے باہر دور دراز کائنات میں موجود مختلف سیاروں پر مقناطیسی میدان (میگنیٹک فیلڈ) کی موجودگی کے اب تک کے سب سے اہم اور ٹھوس شواہد حاصل کر لیے ہیں۔ سائنسی حلقوں کی جانب سے اسے فلکیات اور خلائی تحقیق کی دنیا میں ایک بہت بڑی اور تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

جدید دوربینوں کی مدد سے سات بڑے سیاروں کا مطالعہ سائنسی رپورٹ کے مطابق، فلکیاتی سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی کے خطوں میں نصب دنیا کی جدید ترین دوربینوں کے مشاہدات اور ڈیٹا کی مدد سے نظامِ شمسی سے باہر موجود سات بڑے اور انتہائی گرم گیسوں سے بھرپور سیاروں کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ اس جدید ترین تحقیق کے دوران ان دور دراز سیاروں پر چلنے والی خوفناک حد تک تیز رفتار ہواؤں کے رویے اور رخ کا گہرا جائزہ لیا گیا، جس کے نتیجے میں ان کے گرد ایک مضبوط مقناطیسی میدان کی موجودگی کے واضح اور ناقابلِ تردید آثار سامنے آئے۔

مقناطیسی میدان کیا ہے اور اس کی اہمیت؟ خلائی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقناطیسی میدان دراصل ایک غیر مرئی (نظر نہ آنے والی) حفاظتی قوت یا ڈھال ہوتی ہے، جو کسی بھی سیارے کے اندرونی حصے میں موجود برقی طور پر متحرک مادّوں کی تیز حرکت کے باعث پیدا ہوتی ہے۔ ہماری زمین سمیت ہمارے پورے نظامِ شمسی کے بیشتر سیاروں میں یہ مقناطیسی میدان پہلے سے موجود ہے، جو ان سیاروں کو سورج کی تباہ کن شعاعوں اور مختلف دیگر خطرناک خلائی خطرات سے محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

مشتری جیسے دیو ہیکل سیارے اور وہاں کا درجہ حرارت حالیہ تحقیق میں جن ساتوں سیاروں کا مطالعہ کیا گیا ہے، وہ حجم اور بناوٹ کے اعتبار سے ہمارے نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے ‘مشتری’ جیسے یا اس سے بھی کہیں زیادہ بڑے (دیو ہیکل) ہیں۔ یہ تمام سیارے کائنات میں اپنے اپنے میزبان ستاروں (سورج) کے انتہائی قریب ہو کر گردش کرتے ہیں، جس کے باعث ان سیاروں کا ایک حصہ مسلسل شدید گرمی کی لپیٹ میں رہتا ہے جبکہ دوسرا حصہ مستقل تاریکی اور سردی کا شکار رہتا ہے۔ درجہ حرارت کے اسی شدید ترین فرق کے باعث ان سیاروں پر خوفناک فضائی دباؤ بنتا ہے اور انتہائی تیز رفتار طوفانی ہوائیں چلتی ہیں۔

پچیس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوائیں سائنس دانوں کے مطابق، ان میں سے بعض سیاروں پر چلنے والی ہواؤں کی رفتار تقریباً پچیس ہزار (25,000) کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جاتی ہے، جو کہ ہمارے نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری پر چلنے والی طوفانی ہواؤں کی رفتار سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔ انہی ہواؤں کی غیر معمولی حرکات، دباؤ اور رفتار کے جدید ترین ریاضیاتی تجزیے نے محققین کو ان سیاروں کے گرد مقناطیسی میدان کی موجودگی کے حتمی شواہد فراہم کیے۔

کائنات میں زندگی کی تلاش کے لیے نئی امید ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان نئے دریافت ہونے والے سیاروں کے مقناطیسی میدان مشتری کے انتہائی طاقتور مقناطیسی میدان جتنے مضبوط نہیں ہیں، تاہم ان کی موجودگی اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ وسیع کائنات میں سیاروں کی بنیادی ساخت اور ان کے ارتقاء کے عمل میں مقناطیسی میدان ایک اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق، یہ شاندار دریافت نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں کے بارے میں انسانی علم میں نمایاں اضافہ کرے گی اور مستقبل میں کائنات کے دور دراز حصوں میں ایسے نئے سیاروں کی تلاش میں انتہائی مددگار ثابت ہوگی جہاں زندگی کے وجود کے امکانات ہو سکتے ہیں۔