

منصور احمد, September 06,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء
پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ رواں مالی سال 2026-27 کے پہلے ماہ جولائی میں ڈرامائی اور نمایاں حد تک کم ہو گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ خلیجی ممالک سے پٹرولیم، گیس اور توانائی کی درآمدات میں ہونی والی بڑی کمی اور برآمدات میں معمولی بہتری ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعداد و شمار کے مطابق، جولائی 2026 کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے لیے پاکستان کی مجموعی برآمدات 5.6 فیصد اضافے کے ساتھ 271.60 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی ماہ (جولائی 2025) میں 257.16 ملین ڈالر تھیں۔ دوسری جانب، خطے کے ممالک سے پاکستان کی برآمدات (درآمدی حجم) میں 44.3 فیصد کی نمایاں اور حیران کن کمی دیکھی گئی اور یہ حجم 1.578 ارب ڈالر سے گھٹ کر صرف 879.98 ملین ڈالر پر آ گیا۔
درآمدات میں اس بڑی سیکیورنگ کی بدولت جولائی میں پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ مجموعی تجارتی خسارہ سکڑ کر تقریباً 608.4 ملین ڈالر رہ گیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 1.32 ارب ڈالر سے زائد کا ایک بھاری تجارتی بوجھ تھا۔
اسٹیٹ بینک کے جزوی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب اور اردن کے لیے پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ قطر، کویت اور بحرین کے لیے پاکستانی برآمدی حجم میں کچھ کمی آئی۔ دوسری جانب درآمدی محاذ پر سب سے بڑا جھٹکا توانائی کی خرید کو لگا؛ بالخصوص متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر سے پٹرولیم مصنوعات اور مائع قدرتی گیس کی آمد میں شدید کمی دیکھی گئی، تاہم بحرین اور اردن سے معمولی اضافہ سامنے آیا۔
پاکستان اپنی قومی اور صنعتی توانائی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے خلیجی ممالک پر بری طرح انحصار کرتا ہے جہاں سے تیل، ایل این جی اور دیگر خام کیمیکلز درآمد کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ مالی سال 2025-26 کے کل اعداد و شمار بھی بتاتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ سے پاکستان کی کل درآمدات 4 فیصد کمی کے ساتھ 16.413 ارب ڈالر رہی تھیں۔
توانائی کے معاشی و تکنیکی ماہر فرحان محمود نے اس پیش رفت کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا کہ خلیجی ممالک بالخصوص قطر سے گیس کی درآمد میں اچانک اور نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ماضی میں قطر سے روزانہ تقریباً 700 ملین مکعب فٹ گیس درآمد کرتا تھا، جو کہ سپلائی چین کے درپیش مسائل اور علاقائی دباؤ کے باعث اب ڈرامائی طور پر کم ہو کر صرف 450 ملین مکعب فٹ پر آ گئی ہے۔
معاشی ماہرین اور انرجی اینالسٹس کا ماننا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جغرافیائی و سیاسی کشیدگی ، سمندری راستوں کی ناکہ بندی، اور عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ براہِ راست پاکستان کے تجارتی خسارے اور درآمدی بل پر اثر انداز ہو رہا ہے۔