

محمود احمد, September 16,2026
صنعا (نیوز اینڈ نیوز) — 16 ستمبر 2026ء
یمن کے حوثی گروہ نے سعودی عرب کی حدود میں دو الگ اور بڑی عسکری کارروائیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے بحیرہ احمر کے انتہائی اہم ساحلی شہر ینبع میں قائم سعودی آرامکو کی تجارتی تنصیبات اور جنوبی سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط میں واقع ایک بڑے عسکری ایئر بیس کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔
حوثی گروہ کے ترجمان یحییٰ سریع نے بدھ کے روز جاری کردہ بیان میں مؤقف اپنایا کہ سعودی عرب کے اندر کیے گئے یہ تازہ ترین حملے یمن کی حدود میں جاری سعودی اتحادی فورسز کی عسکری کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ ان کے بقول ینبع میں واقع آرامکو کی آئل تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے مشترکہ حملے سے نشانہ بنایا گیا جبکہ خمیس مشیط کے ملٹری بیس پر بیلسٹک میزائل داغے گئے۔
حوثی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ دونوں الگ الگ کارروائیوں میں طے شدہ اہداف کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ ینبع میں آرامکو کے احاطے میں آگ لگنے اور بڑے پیمانے پر مالیااتی و ساختاتی نقصان کا ادعا بھی کیا گیا۔ تاجیحاً سعودی حکام اور کمپنی آرامکو کی طرف سے ان مبینہ حملوں یا ان سے ہونے والے کسی بھی قسم کے نقصان کی فوری طور پر باضابطہ تصدیق جاری نہیں کی گئی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کا یہ تازہ دعویٰ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب یمن میں جاری تنازع اور حوثیوں کے درمیان عسکری کشیدگی شدید تر ہو چکی ہے۔ حوثی گروہ نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے اقتصادی و فوجی مراکز کو مزید نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی تھیں۔
اس سے ایک روز قبل سعودی اتحادی فورسز نے اعلامیہ جاری کیا تھا کہ حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں خمیس مشیط، ابہا اور طائف میں 13 عام شہری زخمی ہوئے جبکہ متعدد گھروں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ اتحادی فورسز نے ان حملوں کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کا عزم ظاہر کیا تھا۔
حوثیوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے اندر حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک یمن پر کارروائیاں ختم نہیں ہوتیں۔ واضح رہے کہ ینبع بحیرہ احمر پر سعودی عرب کی توانائی کی برآمدات کا سٹریٹجک مرکز ہے، جبکہ خمیس مشیط جنوبی حصے کا مرکزی عسکری مرکز شمار ہوتا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر حوثی ملٹری ترجمان یحییٰ سریع کے پریس بیان، بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ اور عرب اتحاد کے سابقہ عسکری اعلامیے کی روشنی میں شائع کی گئی ہے۔
ماخذ: رائٹرز نیوز ایجنسی، حوثی ملٹری ڈیسک، صنعا اور نیویارک۔