عمان کے متبادل راستے سے سعودی خام تیل کی ترسیل کا آغاز: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں سست روی

محمود احمد, September 16,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 16 ستمبر 2026ء

عالمی منڈی میں بدھ کے روز خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے عمان کے متبادل اور محفوظ بحری راستے سے اضافی خام تیل کی ترسیل شروع کرنے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد عالمی سرمایہ کاروں اور تاجروں کے درمیان مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی میں طویل تعطل کے خدشات میں واضح کمی دیکھی گئی ہے، تاہم اس کے برعکس یورپ کی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمتیں اب بھی ریکارڈ بلند سطح پر موجود ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کے مطابق بدھ کے روز برینٹ خام تیل (Brent Crude) کے نومبر کے سودوں کی قیمت 1.30 ڈالر یعنی تقریباً 1.2 فیصد کمی کے بعد 107.45 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں بھی 1.96 ڈالر یعنی تقریباً 1.85 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد اس کی قیمت 103.87 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں یہ کمی منگل کے روز ہونے والے شدید اضافے کے بعد سامنے آئی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز بحیرۂ احمر کی اہم برآمدی بندرگاہ ینبع سے آرامکو کی لوڈنگ میں تعطل کی اطلاعات پر دونوں بینچ مارکس کی قیمتوں میں 3 ڈالر سے زائد کا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، جو 19 مئی کے بعد کی بلند ترین سطح تھی۔

تاہم بدھ کو سعودی عرب کی جانب سے عمان کے ساحلی شہر صحار کی بندرگاہ کے قریب ‘جہاز سے جہاز میں منتقلی’ (Ship-to-Ship Transfer) کے ذریعے خام تیل کی ترسیل کے امکانات نے عالمی سپلائی چین کے تناؤ کو کچھ کم کیا ہے۔ اس پیش رفت سے تاجروں کو اشارہ ملا کہ ینبع تنصیبات سے پیدا ہونے والے رکاوٹی خلا کو فوری طور پر متبادل راستوں سے پُر کیا جا سکتا ہے۔

علاوہ ازیں، امریکی مارکیٹ سے جاری ہونے والے تازہ اعداد و شمار نے بھی قیمتوں میں ہٹ دھرمی کو توڑا ہے۔ امریکی پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 11 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکہ کے پاس خام تیل کے ذخائر میں 71 لاکھ بیرل کا غیر متوقع اضافہ ہوا ہے جس سے فوری رسد کا دباؤ کم ہوا۔ تاہم آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور بحری نقل و حمل میں سست روی کے باعث مارکیٹ اب بھی محتاط ہے۔ دوسری جانب روسی پابندیوں اور مشرقِ وسطیٰ کی ترسیلی رکاوٹوں کے سبب یورپ میں ڈیزل کے ذخائر کی قلت بدستور برقرار ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ معاشی و عالمی تجارت کی رپورٹ بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘روئٹرز’ (Reuters) اور عالمی آئل مارکیٹس کی جانب سے جاری کردہ بدھ کے برائے راست اعداد و شمار کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔

ماخذ: روئٹرز عالمی معاشی ڈیسک، لندن و سنگاپور۔

حوثیوں کا سعودی آرامکو تنصیبات اور خمیس مشیط ایئر بیس پر حملوں کا دعویٰ

محمود احمد, September 16,2026

صنعا (نیوز اینڈ نیوز) — 16 ستمبر 2026ء

یمن کے حوثی گروہ نے سعودی عرب کی حدود میں دو الگ اور بڑی عسکری کارروائیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے بحیرہ احمر کے انتہائی اہم ساحلی شہر ینبع میں قائم سعودی آرامکو کی تجارتی تنصیبات اور جنوبی سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط میں واقع ایک بڑے عسکری ایئر بیس کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

حوثی گروہ کے ترجمان یحییٰ سریع نے بدھ کے روز جاری کردہ بیان میں مؤقف اپنایا کہ سعودی عرب کے اندر کیے گئے یہ تازہ ترین حملے یمن کی حدود میں جاری سعودی اتحادی فورسز کی عسکری کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ ان کے بقول ینبع میں واقع آرامکو کی آئل تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے مشترکہ حملے سے نشانہ بنایا گیا جبکہ خمیس مشیط کے ملٹری بیس پر بیلسٹک میزائل داغے گئے۔

حوثی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ دونوں الگ الگ کارروائیوں میں طے شدہ اہداف کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ ینبع میں آرامکو کے احاطے میں آگ لگنے اور بڑے پیمانے پر مالیااتی و ساختاتی نقصان کا ادعا بھی کیا گیا۔ تاجیحاً سعودی حکام اور کمپنی آرامکو کی طرف سے ان مبینہ حملوں یا ان سے ہونے والے کسی بھی قسم کے نقصان کی فوری طور پر باضابطہ تصدیق جاری نہیں کی گئی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کا یہ تازہ دعویٰ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب یمن میں جاری تنازع اور حوثیوں کے درمیان عسکری کشیدگی شدید تر ہو چکی ہے۔ حوثی گروہ نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے اقتصادی و فوجی مراکز کو مزید نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی تھیں۔

اس سے ایک روز قبل سعودی اتحادی فورسز نے اعلامیہ جاری کیا تھا کہ حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں خمیس مشیط، ابہا اور طائف میں 13 عام شہری زخمی ہوئے جبکہ متعدد گھروں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ اتحادی فورسز نے ان حملوں کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

حوثیوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے اندر حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک یمن پر کارروائیاں ختم نہیں ہوتیں۔ واضح رہے کہ ینبع بحیرہ احمر پر سعودی عرب کی توانائی کی برآمدات کا سٹریٹجک مرکز ہے، جبکہ خمیس مشیط جنوبی حصے کا مرکزی عسکری مرکز شمار ہوتا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر حوثی ملٹری ترجمان یحییٰ سریع کے پریس بیان، بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ اور عرب اتحاد کے سابقہ عسکری اعلامیے کی روشنی میں شائع کی گئی ہے۔

ماخذ: رائٹرز نیوز ایجنسی، حوثی ملٹری ڈیسک، صنعا اور نیویارک۔