یمن پر 120 سے زائد سعودی فضائی حملوں کے بعد حوثیوں کا شدید جوابی ردِعمل: سعودی عرب پر درجنوں میزائل اور ڈرونز داغنے کا دعویٰ

روزینہ اسماعیل, September 08,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

یمن کے حوثی عسکری گروپ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ تین روز کے دوران یمنی سرزمین پر 120 سے زائد سعودی فضائی و بحری حملوں کے ردِعمل میں سعودی عرب کے اہم اقتصادی اور عسکری اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے درجنوں بیلسٹک میزائل اور بارود سے لیس ڈرونز داغے ہیں۔

حوثی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع نے اپنے باضابطہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ یمنی عسکری دستوں نے طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھنے والی ایک انتہائی بڑے پیمانے کی ملٹری آپریشنل کارروائی مکمل کی ہے۔ ان کے بقول اس جامع حملے میں درجنوں جدید بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا مربوط استعمال کیا گیا، جن کا بنیادی ہدف سعودی عرب کے اندر قائم مختلف عسکری اڈوں اور حساس معاشی تنصیبات کو بنانا تھا تاکہ حالیہ سعودی بمباری کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔

یہ سنسنی خیز پیش رفت ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آئی ہے جب سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے منگل کی صبح باضابطہ آگاہ کیا گیا تھا کہ ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں حوثی حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 شہری زخمی ہوئے ہیں۔ ریاض حکومت نے خبردار کیا تھا کہ بے گناہ شہریوں اور عام انفراسٹرکچر پر متواتر بمباری کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

اس عسکری ٹکراؤ سے قبل یمن کے حوثی ابلاغی ادارے ‘المسیرہ’ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی جنگی طیاروں نے گزشتہ شب صوبہ الجوف کے شہر الحزم میں واقع ‘سینٹرل کریکشنل فیسلٹی’ یعنی مرکزی جیل کو شدید فضائی بمباری کا نشانہ بنایا۔ حوثی حکام کے مطابق تباہ شدہ جیل کے ملبے سے ایک خاتون سمیت 11 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ مزید 20 سے زائد افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ حوثیوں کا یہ بھی الزام ہے کہ الجوف کے علاوہ البیضا، مارب، تعز اور الحدیدہ پر بھی کروز میزائلوں سے شدید حملے کیے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں حوثی عسکری ترجمان نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی فورسز کے چار جدید ترین جاسوس ڈرونز، جن میں ایک طاقتور سی ایچ-4 ڈرون بھی شامل ہے، کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا نیا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم سعودی عسکری حکام یا سرکاری ذرائع کی جانب سے حوثیوں کے تازہ ترین فضائی و میزائل حملوں، ڈرونز کی تباہی اور جیل پر بمباری کے ان دعوؤں پر فی الوقت کوئی باضابطہ تبصرہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔