خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام کے لیے پولیس کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں؛ شہدا کے اہل خانہ کی فلاح و بہبود اور فورس کی استعداد کار کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رہے گا

کاشف عباسی , August 04,2026

سوات (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے صدر انجینئر امیر مقام نے یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر پولیس لائن سوات میں واقع یادگارِ شہدا کا خاص دورہ کیا، جہاں انہوں نے وطنِ عزیز کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شجاع شہدا کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا، یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ان کے بلندیِ درجات کے لیے فاتحہ خوانی کی۔

اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سوات سمیت پولیس کے دیگر اعلیٰ و سینئر افسران بھی موجود تھے۔ ڈی پی او سوات نے وفاقی وزیر کو ضلع سوات میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، سیکیورٹی انتظامات اور پولیس فورس کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے پولیس کے شہدا کی بے مثال قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن و استحکام اور قانون کی حاکمیت کے قیام کے لیے پولیس فورس کی خدمات اور عظیم قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی اور انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت شہدا کے غمیزدہ اہل خانہ کی فلاح و بہبود اور پولیس فورس کی پیشہ ورانہ استعداد کار میں اضافے کے لیے ہر ممکن تعاون اور وسائل کی فراہمی جاری رکھے گی۔

تقریب میں سابق صوبائی وزیر و ن لیگ سوات ڈویژن کے صدر واجد علی خان، سابق صوبائی وزیر و سیکرٹری جنرل محمد علی شاہ خان، ضلعی صدر قوی خان، سٹی مینگورہ صدر حاجی عمران خان، سیکرٹری جنرل نور خان، وزیراعظم یوتھ کوآرڈینیٹر سید صادق عزیز باچا، سابق رکن صوبائی اسمبلی فضل اللہ خان سمیت مسلم لیگ (ن) کے متعدد مرکزی و مقامی عہدیداران اور ذمہ داران بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔

تھانہ خرکی مردان پولیس کی بڑی کارروائی: علاقے میں فائرنگ کر کے خوف و ہراس پھیلانے والے دونوں فریقین کے 3 ملزمان گرفتار، بھاری مقدار میں اسلحہ و کارتوس برآمد

منصور احمد, JULY 28,2026

پشاور/مردان (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جولائی 2026ء

خیبر پختونخوا پولیس نے مردان میں امن و امان کی صورتِ حال کو برقرار رکھنے اور عوام الناس میں خوف و ہراس پھیلانے والے عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے ایک اہم اور بروقت کامیابی حاصل کی ہے۔ تھانہ خرکی مردان پولیس نے منگل کے روز علاقے میں فوری اور تیز رفتار کارروائی کرتے ہوئے ایک ایک دوسرے پر سرِعام فائرنگ کرنے والے اور علاقے کا امن برباد کرنے والے دونوں فریقین سے تعلق رکھنے والے مجموعی طور پر تین مرکزی ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے ان کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔ پولیس کی اس بروقت کارروائی سے علاقے میں کوئی بڑا جانی نقصان ہونے سے بچ گیا اور صورتِ حال کو فوراً کنٹرول میں لے لیا گیا۔

ترجمان مردان پولیس کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، تھانہ خرکی کی حدود میں دو فریقین کے مابین تنازع کے باعث فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس سے مقامی رہائشیوں اور بازار میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لیا اور دونوں جانب سے فائرنگ میں ملوث افراد کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار کیے گئے ملزمان میں سے پہلے فریق کا تعلق تازہ گرام کے رہائشی روزی شاہ ولد ہمیش گل اور اس کے بیٹے عبید ولد روزی شاہ سے ہے، جبکہ دوسرے فریق سے تازہ گرام ہی کا رہائشی گوہر ولد مکمل شاہ شامل ہے۔ پولیس نے موقع پر کارروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان کے قبضے سے 3 عدد جدید پستول اور 53 عدد زندہ کارتوس برآمد کر کے باضابطہ طور پر اپنی تحویل میں لے لیے ہیں۔

پولیس ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والے ملزمان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت تھانہ خرکی میں مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور معاملے کی گہرائی سے مزید قانونی تفتیش و کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ مردان پولیس کی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں امن و امان کے قیام کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا اور ہوائی فائرنگ، باہمی تنازعات کی بنا پر قانون ہاتھ میں لینے اور عام شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پولیس ترجمان نے واضح کیا کہ قانون شکن عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور سخت ترین قانونی اقدامات کا سلسلہ آئندہ بھی بلا تعطل جاری رہے گا تاکہ شہری خود کو مکمل طور پر محفوظ محسوس کر سکیں۔