یومِ شہدائے پولیس: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا خراجِ تحسین، شہدا کو قوم کا عظیم سرمایہ اور ماتھے کا جھومر قرار دے دیا

منصور احمد, August 04,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پولیس کے شہدا کو قوم کا عظیم سرمایہ اور پاکستان کے ماتھے کا جھومر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وطن کے امن، قانون کی بالادستی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والے بہادروں نے وفا، شجاعت اور فرض شناسی کی لازوال داستانیں رقم کی ہیں۔

یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پولیس کے افسران اور جوانوں کی قربانیاں ہماری قومی تاریخ کا ایک روشن اور درخشندہ باب ہیں، جسے قوم ہمیشہ عزت، احترام اور فخر کے ساتھ یاد رکھے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان پولیس گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی، انتہا پسندی اور جرائم کے خلاف پہلی صف میں برسرِ پیکار ہے اور پولیس کی انہی بے مثال قربانیوں کی بدولت آج صوبے میں امن و امان کی صورتحال نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے اور ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم خاک میں ملائے جا چکے ہیں۔

میر سرفراز بگٹی نے بالخصوص زیارت کے شہدائے پولیس کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان عظیم سپوتوں نے دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے جرات، استقامت اور حب الوطنی کی ایسی نادر مثال قائم کی ہے جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے زیارت کے شہدا کے اہلِ خانہ کے صبر اور قربانیوں کو زبردست سلام پیش کیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان نے شہدا کے ورثا کی عزت، فلاح و بہبود اور مالی معاونت کو اپنی بنیادی ریاستی ذمہ داری سمجھتے ہوئے متعدد عملی اقدامات کیے ہیں اور یہ سلسلہ مزید موثر انداز میں جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ شہدا کے بچوں کی معیاری تعلیم، صحت اور دیگر تمام ضروریات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت بلوچستان پولیس فورس کی استعدادِ کار میں اضافے، جدید ترین تربیت، اسلحہ، حفاظتی سازوسامان، جدید ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے بھرپور سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ فورس ہر قسم کے سیکیورٹی چیلنجز سے نبٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں امن، قانون کی حکمرانی اور عوامی تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور شہدائے پولیس کے مقدس مشن کو ہر قیمت پر انجام تک پہنچایا جائے گا۔

پاکستان اب بغیر کسی بیرونی امداد کے موٹرویز اور شاہراہوں کا نیٹ ورک پھیلا رہا ہے؛ گرو نانک ایکسپریس وے، سیالکوٹ-کھاریاں-راولپنڈی شاہراہ اور پر کام کی تیز رفتار پیش رفت کا اعلان

کاشف عباسی , August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے انکشاف کیا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کا سالانہ ریونیو 64 ارب روپے سے دوگنا ہو کر 127 ارب روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ چکا ہے۔ اس غیر معمولی مالی خودمختاری کی بدولت پاکستان اب کسی بیرونی امداد یا قرض کے بغیر اپنے ذاتی قومی وسائل کے ذریعے ملک بھر میں موٹرویز اور جدید شاہراہوں کا نیٹ ورک کامیابی سے پھیلا رہا ہے۔

منگل کے روز نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس آڈیٹوریم اسلام آباد میں “یومِ شہدائے پولیس” کی پروقار تقریب سے بطور مہمانِ خاص خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے شجاع شہدا کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ 4 اگست ہماری قومی اور سیکیورٹی تاریخ کا انتہائی اہم اور درخشان دن ہے اور سی سی پی او پشاور صفوت غیور کی عظمت و شہادت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موٹروے پولیس کے 59 شہدا سمیت تمام شہدائے پولیس کی عظیم قربانیاں قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ موٹروے پولیس کے پٹرولنگ افسران کے تحفظ، آرام اور طبی امداد کے لیے ٹول پلازوں کے قریب جدید پولیس اسٹیشنز، پارکنگ اور فوری ایمبولینس سروسز بھی قائم کی جا رہی ہیں۔

وفاقی وزیر نے ملک گیر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ کرتار پور اور ننکانہ صاحب کے مقدس مقامات کو اپس میں جوڑنے کے لیے تاریخی “گرو نانک ایکسپریس وے” پر کام تیزی سے جاری ہے جس سے دنیا بھر کی سکھ برادری کے لیے مذہبی سیاحت کو شاندار فروغ ملے گا۔ اسی طرح سیالکوٹ-کھاریاں-راولپنڈی شاہراہ کی تعمیر سے اسلام آباد تا لاہور کے سفر میں 100 کلومیٹر فاصلے اور ایک گھنٹے کے قیمتی وقت کی بچت ہوگی۔

عبدالعلیم خان نے مزید بتایا کہ مری ایکسپریس وے کی مظفرآباد تک توسیع سے آزاد کشمیر کو عالمی معیار کی سفری سہولیات میسر آئیں گی، جبکہ جدید موٹروے شاہراہِ قراقرم کا بہترین متبادل بن کر چین کے ساتھ پاکستان کے اسٹریٹجک و تجارتی روابط کو ناقابلِ تسخیر بنائے گی۔

تجارت اور علاقائی ترسیل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کراچی پورٹ سے تجارتی نقل و حمل کو تیز بنانے کے لیے M-10 اور لیاری ایکسپریس وے کو متحرک کر دیا گیا ہے، جبکہ M-6 موٹروے پر جلد باقاعدہ کام شروع ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں M-8 منصوبوں کی تکمیل سے برادر ملک ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کو زبردست تقویت ملے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گلگت کی سیاحتی سڑکوں پر کام جاری ہے جبکہ این-25 (N-25) شاہراہ کو اگلے سال تک مکمل کر لیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام کے لیے پولیس کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں؛ شہدا کے اہل خانہ کی فلاح و بہبود اور فورس کی استعداد کار کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رہے گا

کاشف عباسی , August 04,2026

سوات (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے صدر انجینئر امیر مقام نے یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر پولیس لائن سوات میں واقع یادگارِ شہدا کا خاص دورہ کیا، جہاں انہوں نے وطنِ عزیز کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شجاع شہدا کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا، یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ان کے بلندیِ درجات کے لیے فاتحہ خوانی کی۔

اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سوات سمیت پولیس کے دیگر اعلیٰ و سینئر افسران بھی موجود تھے۔ ڈی پی او سوات نے وفاقی وزیر کو ضلع سوات میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، سیکیورٹی انتظامات اور پولیس فورس کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے پولیس کے شہدا کی بے مثال قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن و استحکام اور قانون کی حاکمیت کے قیام کے لیے پولیس فورس کی خدمات اور عظیم قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی اور انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت شہدا کے غمیزدہ اہل خانہ کی فلاح و بہبود اور پولیس فورس کی پیشہ ورانہ استعداد کار میں اضافے کے لیے ہر ممکن تعاون اور وسائل کی فراہمی جاری رکھے گی۔

تقریب میں سابق صوبائی وزیر و ن لیگ سوات ڈویژن کے صدر واجد علی خان، سابق صوبائی وزیر و سیکرٹری جنرل محمد علی شاہ خان، ضلعی صدر قوی خان، سٹی مینگورہ صدر حاجی عمران خان، سیکرٹری جنرل نور خان، وزیراعظم یوتھ کوآرڈینیٹر سید صادق عزیز باچا، سابق رکن صوبائی اسمبلی فضل اللہ خان سمیت مسلم لیگ (ن) کے متعدد مرکزی و مقامی عہدیداران اور ذمہ داران بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔