امریکی افواج کا جزیرہ لارک پر بڑا حملہ: ایران کے دو راکٹ لانچرز تباہ، جولائی کے بعد پہلا براہِ راست امریکی اقدام

محمود احمد, August 31,2026

واشنگٹن/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کی شب امریکی مسلح افواج کی جانب سے خلیجِ فارس میں واقع سٹریٹجک ‘جزیرہ لارک’ پر ایرانی فوج کے دو بڑے لانچرز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جولائی کے اواخر کے بعد سے یہ ایران کی سرزمین پر امریکہ کی جانب سے کیا جانے والا پہلا براہِ راست اور شدید ترین عسکری حملہ ہے۔

امریکی افواج کی یہ سرجیکل کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب حالیہ چند ہفتوں کے دوران ایران اور امریکہ کے مابین جاری براہِ راست عسکری تصادم کی شدت میں کچھ کمی آئی تھی اور دونوں فورسز کے درمیان جنگ ایک طرح کے تعطل کی کیفیت اختیار کر چکی تھی۔ ایک نامعلوم اعلیٰ امریکی فوجی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ انٹیلی جنس بیسڈ حملہ اس وقت کیا گیا جب پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار آبنائے ہرمز کے سمندری راستوں کی جانب بحری بارودی سرنگیں لے جانے والے گائیڈڈ راکٹ داغنے کی آخری تیاریوں میں المصروف تھے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں میں ایرانی فورسز کی جانب سے بچھائی گئی تمام بارودی سرنگیں یا تو مکمل طور پر ناکارہ بنا دی گئی ہیں یا امریکی بحریہ کے قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ امریکی صدر نے ایران کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں کوئی بھی جہاز، کشتی یا نجی ڈرون جو نئی بارودی سرنگ بچھانے کی کوشش کرے گا، اسے امریکی فورسز فوری طور پر تباہ کر دیں گی۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اس ہمہ گیر اور تباہ کن جنگ کو شروع ہوئے اب چھ ماہ کا طویل عرصہ بیت چکا ہے، جبکہ دنیا کی سب سے اہم تیل بردار گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کے عملی کنٹرول اور اسے بین الاقوامی بحری آمد و رفت کے لیے کھلا رکھنے کے معاملے پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان شدید ترین تنازع اور عسکری کشیدگی بدستور جاری ہے۔