یوکرینی حملوں کے باعث روس میں پیٹرول کی شدید قلت اور عالمی توانائی منڈیوں میں دباؤ؛ ٹرمپ نے حملے روکنے پر زور دے دیا

محمود احمد, September 13,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولودی میر زیلینسکی پر زور دیا ہے کہ وہ روس کی آئل ریفائنریوں اور ڈیزل و ایندھن کی پیداوری تنصیبات پر دور مار ڈرون حملے فوری طور پر بند کریں۔

بین الاقوامی سفارتی اور دفاعی ذرائع کے مطابق، حالیہ مہینوں کے دوران یوکرین کی جانب سے روس کی سرحدی اور اندرونی توانائی تنصیبات پر کیے جانے والے طویل فاصلے کے ڈرون حملوں نے روسی ایندھن کی پیداواری صلاحیت کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں روس کے متعدد اضلاع اور شہروں میں پیٹرول اور ڈیزل کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر کے ساتھ گفتگو کے دوران اس تشویش کا اظہار کیا کہ روسی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں نہ صرف روس کے اندر شہری ایندھن کا بحران پیدا ہو رہا ہے، بلکہ اس سے عالمی توانائی کی منڈیوں میں خام تیل اور بنیادی ایندھن کی فراہمی اور قیمتوں پر شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، یوکرین نے حالیہ مہینوں میں روس کی اقتصادی اور عسکری ایندھن سپلائی چین کو مفلوج کرنے کی حکمتِ عملی اپنا رکھی تھی تاکہ جنگ میں روس کی عسکری صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔ تاہم، امریکہ کی جانب سے زیلینسکی انتظامیہ کو ان حملوں سے روکنے کی ہدایت ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب واشنگٹن عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں استحکام اور تنازع کے سفارتی حل کی کوشش کر رہا ہے۔

حکام کے مطابق، امریکی صدر کی اس ہدایت کے بعد یوکرینی حکومت یا ملٹری کمانڈ کی جانب سے روسی ریفائنریوں پر حملے معطل کرنے کے حوالے سے فی الوقت کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ آرٹیکل امریکی انتظامیہ اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی تازہ رپورٹس کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ یوکرین کے ڈرون حملوں سے روس کے اندر پیٹرول کی قلت اور ٹرمپ کی زیلینسکی کو دی گئی ہدایت کا بنیادی مقصد عالمی مارکیٹ میں ایندھن کا بحران روکنا ہے۔ یوکرین کے دفاعی حکام کی جانب سے اس امریکی ہدایت پر حتمی عملدرآمد کی تصدیق باقی ہے۔

ماخذ: بین الاقوامی خبر رساں ادارے (روئٹرز/اے پی)، امریکی و یوکرینی سفارتی بیانات۔