بین الاقوامی فیڈریشن کے سربراہ ڈیوڈ فشر کا متاثرہ علاقوں کا جائزہ، ریڈ کراس کا عالمی امدادی نیٹ ورک متحرک، ہنگامی صورتحال کے پیش نظر امدادی کارروائیاں تیز کرنے کا اعلان

محمود احمد, August 29,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

جنوبی ایشیائی ملک نیپال میں بدھ کے روز آنے والے قیامت خیز سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد اب ایک اور ممکنہ سیلابی ریلے کے شدید اور سنگین خطرات نے جنم لے لیا ہے، جس پر بین الاقوامی امدادی اداروں اور ریسکیو تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کی بین الاقوامی فیڈریشن کے سربراہ ڈیوڈ فشر نے نیپال کی موجودہ نازک صورتحال اور موسمیاتی خطرات پر بات کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ان کا ادارہ ملک میں کسی بھی وقت دوبارہ آنے والے دوسرے سیلاب کے خطرے کے حوالے سے انتہائی فکر مند ہے اور تمام ٹیموں کو اعلیٰ الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے۔

جمعی کے روز دارالحکومت کھٹمنڈو میں بین الاقوامی پریس کے نمائندوں اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیوڈ فشر نے متاثرہ علاقوں کے زمینی حقائق اور اعداد و شمار سے آگاہ کیا۔ ان کے فراہم کردہ مستند ڈیٹا کے مطابق، بدھ کے روز گلیشیئر اور شدید بارشوں کے بعد آنے والی ہولناک قدرتی تباہی سے اب تک نیپال کے مختلف اضلاع میں تقریباً 93 ہزار سے زائد افراد براہِ راست اور شدید طور پر متاثر ہو چکے ہیں۔ ان متاثرین میں سے ہزاروں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں اور کھلے آسمان تلے بنیادی انسانی ضروریات، بشمول ادویات، خوراک اور پینے کے صاف پانی سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اس ایمرجنسی اور انسانی بحران سے فوری طور پر نمٹنے کے لیے ریڈ کریسنٹ اور ریڈ کراس نے ہنگامی بنیادوں پر بین الاقوامی عطیہ دہندگان، این جی اوز اور عالمی برادری سے تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ سوئس فرانک —جو کہ امریکی ڈالر میں تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ ڈالر بنتے ہیں—فراہم کرنے کی باقاعدہ اپیل جاری کر دی ہے۔ ریڈ کریسنٹ کا کہنا ہے کہ اس خطیر رقم کا بنیادی اور اولین مقصد متاثرین کے لیے فوری جان بچانے والی ہنگامی امدادی کارروائیاں، عارضی پناہ گاہوں کا قیام، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، اور ممکنہ دوسرے سیلاب کے پیشِ نظر پیشگی دفاعی اقدامات کو ممکن بنانا ہے۔

ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم رسمی اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ نیپال میں درپیش ہنگامی صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے کے تمام عالمی امدادی نیٹ ورک کو فوری طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔ عالمی ٹیمیں سامانِ زیست اور طبی امداد کے ہمراہ نیپال کے دور دراز اور کٹے ہوئے علاقوں میں پہنچ رہی ہیں۔ اعلامیے میں زور دیا گیا ہے کہ اگر دوسرے ممکنہ سیلاب کا خطرہ حقیقت بنتا ہے تو اس کے اثرات پہلے سے شدید متاثرہ 93 ہزار سے زائد آبادی کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، جس کے لیے دنیا کو بلا تاخیر مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنا ہوگی۔