سرکاری خریداری کے نظام میں شفافیت اور جوابدہی کے لیے اصلاحات ضروری ہیں: قانون دان سینیٹر اعظم نذیر تارڑ

کاشف عباسی , August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پبلک پروکیورمنٹ کے موجودہ قانونی فریم ورک میں مزید وضاحت، ذمہ داری اور جوابدہی کے موثر طریقہ کار کی اشد ضرورت ہے، جبکہ سرکاری خریداری کے عمل میں شفافیت اور ادارہ جاتی آزادی کو یقینی بنانا انتہائی اہم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ قانون سازی مقدمات (سی سی ایل سی) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

ترجمان وزارتِ قانون و انصاف کے مطابق اجلاس کے دوران پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) آرڈیننس 2002ء میں مجوزہ ترامیم اور پبلک پروکیورمنٹ رولز 2025ء کے مسودے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ نیشنل ٹیرف کمیشن ایکٹ 2015ء، سیف گارڈ اقدامات آرڈیننس 2002ء، متبادل ادویات و ہیلتھ پروڈکٹس رولز 2026ء اور بائیو سٹڈی رولز 2017ء میں ترامیم کا جائزہ بھی لیا گیا۔ کمیٹی نے تمام سرکاری تقرریوں میں میرٹ اور شفافیت پر زور دیا جبکہ پی پی آر اے کے اختیارات میں اضافے اور ای پروکیورمنٹ پلیٹ فارمز کے فروغ کے اقدامات پر بات چیت کی گئی۔

وفاقی وزیرِ قانون نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری خریداری میں شکایات کے آزادانہ ازالے، تھرڈ پارٹی جائزے اور مفادات کے ٹکرائو سے بچائو کے لیے ایک جامع اور موثر نظام بنانا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے نتیجے میں سرکاری خریداری کے نظام میں شفافیت، جوابدہی اور کارکردگی مزید بہتر ہوگی۔