دہشت گردی کے متاثرین کے عالمی دن پر وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا پیغام: شہدا اور ان کے اہل خانہ کے حقوق و وقار کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے

منصور احمد, August 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے دہشت گردی کے تمام متاثرین اور شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے حقوق، انصاف اور وقار کا تحفظ ریاست کی اولین اور اہم ذمہ داری ہے۔

ترجمان وزارتِ قانون و انصاف کے مطابق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے “دہشت گردی کے متاثرین کی یاد اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے عالمی دن” کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں شہدا کے اہل خانہ سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سیکیورٹی فورسز کے بسالت مند اہلکاروں اور عام شہریوں کی قربانیوں کو قوم قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور یہ قربانیاں ہماری قومی یادداشت کا مستقل حصہ ہیں۔

وفاقی وزیرِ قانون نے اس بات پر زور دیا کہ متاثرین کو انصاف اور قانونی معاونت کی بروقت فراہمی ایک محفوظ اور پرامن معاشرے کی بنیاد ہے، اور انتہا پسندی، عدم برداشت اور نفرت کے مکمل خاتمے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون کی حکمرانی اور متاثرین کی بحالی کا مؤثر نظام حکومت پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہے اور پاکستان امن، انسانی حقوق اور آئین کی پاسداری کے عزم پر قائم ہے۔

انسانی ہمدردی کے عالمی دن پر دنیا بھر کے امدادی کارکنان کو خراجِ تحسین: وفاقی وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا اہم پیغام

منصور احمد, August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے انسانی ہمدردی کے عالمی دن کے موقع پر دنیا بھر اور بالخصوص پاکستان میں خدمات انجام دینے والے امدادی کارکنان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اپنے ایک خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا کہ سخت، مشکل اور انتہائی خطرناک حالات کے باوجود امدادی کارکنان کی خدمات بلا شبہ قابلِ تحسین ہیں، جو دنیا بھر میں انسانیت، باہمی ہمدردی اور بے لوث خدمت کی روشن ترین مثال قائم کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیرِ قانون نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی ہمدردی صرف کسی آفت کے وقت فوری امدادی سامان کی فراہمی کا نام نہیں ہے بلکہ یہ متاثرین کے وقار، مکمل تحفظ اور ان کے لیے انصاف کو یقینی بنانے کا بنیادی تقاضا بھی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات اور دیگر نادیدہ بحرانوں کے دوران متاثرہ افراد، بالخصوص خواتین، بچوں، معذور افراد اور دیگر معاشی یا سماجی طور پر کمزور طبقات کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ ہنگامی اور ہنگامی نوعیت کے حالات میں ریاست کی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تمام متاثرہ افراد کو بلا کسی امتیاز کے مکمل تحفظ اور بنیادی سہولیات فراہم کرے۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اپنے پیغام میں ریاستی اداروں، سول سوسائٹی کے تنظیموں، طبی عملے اور ہر سطح کے رضاکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بحران کی اس گھڑی میں کوئی بھی انسان بے یارومددگار نہ رہے، یہ ہم سب کی اجتماعی اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ سے انسانی حقوق، احترامِ انسانیت اور قانون کی حکمرانی کے اعلیٰ اصولوں پر قائم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک مؤثر انسانی ہمدردی کے نظام میں محض فوری امداد کے ساتھ ساتھ متاثرین کی مکمل بحالی، انہیں عدل و انصاف اور تمام بنیادی زندگی کی سہولیات تک رسائی فراہم کرنا شامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ انسانی ہمدردی عالمی سطح پر آپسی تعاون اور یکجہتی کا تقاضا کرتی ہے اور پاکستان مشکل کی ہر گھڑی میں تمام ضرورت مند انسانوں کے ساتھ کھڑا رہنے کے اپنے عزم پر سختی سے قائم ہے۔

سرکاری خریداری کے نظام میں شفافیت اور جوابدہی کے لیے اصلاحات ضروری ہیں: قانون دان سینیٹر اعظم نذیر تارڑ

کاشف عباسی , August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پبلک پروکیورمنٹ کے موجودہ قانونی فریم ورک میں مزید وضاحت، ذمہ داری اور جوابدہی کے موثر طریقہ کار کی اشد ضرورت ہے، جبکہ سرکاری خریداری کے عمل میں شفافیت اور ادارہ جاتی آزادی کو یقینی بنانا انتہائی اہم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ قانون سازی مقدمات (سی سی ایل سی) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

ترجمان وزارتِ قانون و انصاف کے مطابق اجلاس کے دوران پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) آرڈیننس 2002ء میں مجوزہ ترامیم اور پبلک پروکیورمنٹ رولز 2025ء کے مسودے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ نیشنل ٹیرف کمیشن ایکٹ 2015ء، سیف گارڈ اقدامات آرڈیننس 2002ء، متبادل ادویات و ہیلتھ پروڈکٹس رولز 2026ء اور بائیو سٹڈی رولز 2017ء میں ترامیم کا جائزہ بھی لیا گیا۔ کمیٹی نے تمام سرکاری تقرریوں میں میرٹ اور شفافیت پر زور دیا جبکہ پی پی آر اے کے اختیارات میں اضافے اور ای پروکیورمنٹ پلیٹ فارمز کے فروغ کے اقدامات پر بات چیت کی گئی۔

وفاقی وزیرِ قانون نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری خریداری میں شکایات کے آزادانہ ازالے، تھرڈ پارٹی جائزے اور مفادات کے ٹکرائو سے بچائو کے لیے ایک جامع اور موثر نظام بنانا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے نتیجے میں سرکاری خریداری کے نظام میں شفافیت، جوابدہی اور کارکردگی مزید بہتر ہوگی۔