

کاشف عباسی , August 08,2026
لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء
لاہور کی سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں معاہدوں اور قانونی تقاضوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث سرکاری خزانے کو 70 کروڑ 96 لاکھ 64 ہزار روپے کے سنگین مالیاتی و ریونیو نقصان کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ نشاندہی پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون میں زیرِ سماعت آڈٹ رپورٹ کے دوران سامنے آئی ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے تحریری حقائق کے مطابق سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں مجموعی طور پر 339 صنعتکاروں کو کمپلیشن سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے تھے، تاہم ان میں سے صرف 214 صنعتکاروں نے ہی باقاعدہ سیل ڈیڈز کی کاغذی کارروائی مکمل کی۔ دوسری جانب 125 صنعتکاروں نے کمپلیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے باوجود سیل ڈیڈز مکمل نہیں کروائیں، جس کی وجہ سے متعلقہ تمام صنعتی پلاٹس آڈٹ اعتراض کی زد میں آ گئے ہیں۔
آڈٹ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ 125 صنعتکاروں کی جانب سے سیل ڈیڈز کی عدم تکمیل کے باعث اسٹامپ ڈیوٹیز اور دیگر سرکاری ٹیکسز کی مد میں تقریباً 71 کروڑ روپے کی رقم وصول نہیں ہو سکی۔ آڈٹ کے مطابق ان نادہندہ پلاٹوں کا مجموعی رقبہ 213 ایکڑ سے زائد بنتا ہے، جبکہ علاقے کا مقررہ ڈی سی ریٹ 5 لاکھ روپے فی مرلہ تھا۔
رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ انڈسٹریل اسٹیٹ کی انتظامیہ نے صنعتکاروں سے سیل ڈیڈز کی تکمیل کے لیے کوئی موثر اقدام یا سخت ہدایت جاری نہیں کی، جس کی وجہ سے سرکاری واجبات کی وصولی شدید متاثر ہوئی۔
اسی اثناء میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹل آڈٹ کمیٹی نے سیل ڈیڈز کی تکمیل کا معاملہ عدالتی فیصلے تک موخر کر دیا ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون نے انتظامیہ کو سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیل ڈیڈز کی جلد از جلد تکمیل کے لیے کیس کو بھرپور قانونی انداز میں آگے بڑھایا جائے۔
واضح رہے کہ سندر انڈسٹریل اسٹیٹ کے صنعتکاروں نے حکومت کے موجودہ ڈی سی ریٹ کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ صنعتکاروں کا موقف ہے کہ موجودہ ڈی سی ریٹ ‘پنجاب انڈسٹریل اسٹیسٹس ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی’ کی مقرر کردہ قابلِ اطلاق فروخت قیمت سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔