وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ: سپریم کورٹ کا مونال ریسٹورنٹ ختم کرنے کا حکم کالعدم قرار

منصور احمد, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وفاقی آئینی عدالت نے ایک بڑا تزویراتی فیصلہ سناتے ہوئے جون 2024ء میں سپریم کورٹ کی جانب سے اسلام آباد کے مشہورِ زمانہ ‘مونال ریسٹورنٹ’ کو ختم کرنے کا دیا گیا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے دو سال پرانے فیصلے کو برقرار رکھنے والے حکمِ امتناعی کو باقاعدہ ختم کرتے ہوئے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی اپیلیں منظور کر لی ہیں۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 11 جون 2024ء کو مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں واقع مونال سمیت تمام ریستورانوں کو تین ماہ کے اندر مکمل طور پر بند اور ختم کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد ستمبر 2024ء میں مونال ریسٹورنٹ کو باقاعدہ ختم کر دیا گیا تھا۔

کیس کی سماعت کے دوران وفاقی آئینی عدالت کے مقتدر جج جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے میں بہت سے اہم قانونی نکات کو مدِنظر نہیں رکھا گیا تھا۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ جب انہوں نے سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھا تو انہیں اندازہ ہوا کہ اس میں بہت کچھ ایسا لکھا گیا جو عدالتی کارروائی کا حصہ ہی نہیں تھا، اور فیصلے میں وہ باتیں شامل کی گئیں جن کا اصل واقعاتی فسانہ میں کوئی ذکر تک نہ تھا۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے مقتدر لہجے میں واضح کیا کہ عدالت کوئی جذباتی فیصلہ نہیں کرے گی اور ہم اپنے فیصلے میں الف لیلیٰ کی کہانیاں تحریر نہیں کریں گے۔ دورانِ سماعت جب وکیل احسن بھون نے آئینی عدالت کے ریمارکس پر تعریف کرنا چاہی تو جسٹس حسن اظہر رضوی نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ عدالت میں ہماری تعریفیں نہ کی جائیں، جو باقاعدہ سماعت ہوئی ہے اسی کے مطابق میرٹ پر حکم جاری کیا جائے گا۔