ایم اے پاس شہری سے سوئیپر کا کام لینا المیہ اور نظام کے منہ پر طمانچہ ہے؛ وفاقی آئینی عدالت کی خیبرپختونخوا حکومت پر شدید برہمی

کاشف عباسی , JULY 16,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 جولائی 2026ء

وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں اعلیٰ تعلیم یافتہ (ایم اے پاس) شخص کو سوئیپر کی حیثیت سے ملازمت پر برقرار رکھنے کے خلاف صوبائی حکومت کی جانب سے دائر اپیل کو مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے کیس کی سماعت کے دوران صوبائی حکومت کو سخت مقتدر ہدایات جاری کی ہیں کہ شکایت کنندہ کو اس کی تعلیمی قابلیت کے مطابق کسی دوسری مناسب جگہ پر فوری ملازمت فراہم کی جائے۔

تزویراتی تفصیلات کے مطابق، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی معزز بینچ نے جمعرات کے روز اس حساس کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران فاضل جج نے ملک میں تعلیم اور روزگار کے گرتے ہوئے معیار پر گہرے دکھ اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیا اب ہمارے ملک میں ایم اے پاس کرنے والا شخص سوئیپر کا کام کرے گا؟ انہوں نے واضح کیا کہ چونکہ مذکورہ ملازم گزشتہ دس سال سے فرائض انجام دے رہا ہے، اس لیے اب اس مرحلے پر اسے ملازمت سے نکالنا سراسر ناانصافی ہوگی، لہٰذا صوبائی حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ اسے کسی دوسری باوقار آسامی پر تعینات کرے۔

دورانِ سماعت جب ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت صوبے میں سوئیپر کی کوئی آسامی خالی نہیں ہے، تو جسٹس حسن اظہر رضوی نے طنزیہ استفسار کیا کہ کیا خیبرپختونخوا اب اتنا صاف ستھرا ہو گیا ہے کہ وہاں سوئیپر کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی؟ انہوں نے مزید ریمارکس دیئے کہ صاف ستھرا ہونے کا شہرہ تو ہم نے کسی اور صوبے کا سنا تھا۔ عدالت نے ایم اے پاس شہری سے صفائی ستھرائی کا کام لینے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نظام کو تو شاباش دینی چاہیے جو پڑھے لکھے نوجوانوں سے یہ کام کروا رہا ہے، اور ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص کا سوئیپر کی نوکری کرنا ہمارے پورے معاشرے کے لیے ایک المیہ ہے۔

کیس کی کارروائی کے دوران ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (ڈی ای او) بھی ذاتی حیثیت میں عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ معزز عدالت کے پوچھنے پر انہوں نے تصدیق کی کہ متعلقہ ملازم کی بنیادی ذمہ داری اسکول میں جھاڑو لگانا اور صفائی کرنا ہے۔ اس پر ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس حسن اظہر رضوی نے انتہائی دردمندی سے پوچھا کہ کیا ایک ایم اے پاس نوجوان کے ہاتھوں میں جھاڑو دیکھ کر کسی کو شرم نہیں آتی؟ بعد ازاں، وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کو خارج کر دیا اور نوجوان ملازم کو دوسری مناسب جگہ ایڈجسٹ کرنے کا حکم دے دیا۔

وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ: سپریم کورٹ کا مونال ریسٹورنٹ ختم کرنے کا حکم کالعدم قرار

منصور احمد, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وفاقی آئینی عدالت نے ایک بڑا تزویراتی فیصلہ سناتے ہوئے جون 2024ء میں سپریم کورٹ کی جانب سے اسلام آباد کے مشہورِ زمانہ ‘مونال ریسٹورنٹ’ کو ختم کرنے کا دیا گیا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے دو سال پرانے فیصلے کو برقرار رکھنے والے حکمِ امتناعی کو باقاعدہ ختم کرتے ہوئے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی اپیلیں منظور کر لی ہیں۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 11 جون 2024ء کو مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں واقع مونال سمیت تمام ریستورانوں کو تین ماہ کے اندر مکمل طور پر بند اور ختم کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد ستمبر 2024ء میں مونال ریسٹورنٹ کو باقاعدہ ختم کر دیا گیا تھا۔

کیس کی سماعت کے دوران وفاقی آئینی عدالت کے مقتدر جج جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے میں بہت سے اہم قانونی نکات کو مدِنظر نہیں رکھا گیا تھا۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ جب انہوں نے سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھا تو انہیں اندازہ ہوا کہ اس میں بہت کچھ ایسا لکھا گیا جو عدالتی کارروائی کا حصہ ہی نہیں تھا، اور فیصلے میں وہ باتیں شامل کی گئیں جن کا اصل واقعاتی فسانہ میں کوئی ذکر تک نہ تھا۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے مقتدر لہجے میں واضح کیا کہ عدالت کوئی جذباتی فیصلہ نہیں کرے گی اور ہم اپنے فیصلے میں الف لیلیٰ کی کہانیاں تحریر نہیں کریں گے۔ دورانِ سماعت جب وکیل احسن بھون نے آئینی عدالت کے ریمارکس پر تعریف کرنا چاہی تو جسٹس حسن اظہر رضوی نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ عدالت میں ہماری تعریفیں نہ کی جائیں، جو باقاعدہ سماعت ہوئی ہے اسی کے مطابق میرٹ پر حکم جاری کیا جائے گا۔