

منصور احمد, September 02,2026
نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء
پڑوسی ملک بھارت میں موسمیاتی تبدیلی کے مہلک اثرات شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں رواں سال کا اگست 1901 کے بعد سے لے کر اب تک کی 125 سالہ ریکارڈ شدہ تاریخ کا سب سے گرم ترین مہینہ ثابت ہوا ہے اور ملک کا اوسط درجہ حرارت 28.01 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے۔
بھارتی محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعداد و شمار کے مطابق اگست میں بھارت کا اوسط درجہ حرارت طویل مدتی اوسط سے 0.67 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اگست کے سب سے زیادہ اوسط درجہ حرارت کا سال 2023 میں قائم ہونے والا 28.0 ڈگری سینٹی گریڈ کا سابقہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگست کے دوران پورے بھارت میں مون سون کی بارشیں معمول سے 16 فیصد کم رہیں، جس کے باعث درجہ حرارت میں غیر معمولی اور مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بارشوں میں اس کمی اور حدت میں اضافے کی بنیادی وجہ سمندری و فضائی مظہر ’ال نینو‘ کا متحرک ہونا بتایا جا رہا ہے، جو دنیا بھر میں ہوا کے دباؤ اور بارش کے قدرتی نظام میں شدید تبدیلیاں لانے کا سبب بنتا ہے۔
جنوبی ایشیا اور خاص طور پر بھارت میں ال نینو کے اثرات کے باعث شدید خشک سالی اور حدت سے بھرپور موسم پیدا ہوتا ہے۔ ماحولیاتی سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ فوسل ایندھن (گیس، تیل اور کوئلے) کے کثرت سے استعمال سے پیدا ہونے والی گلوبل وارمنگ اور ال نینو کے ملاپ نے پہلے سے گرم ہوتی ہوئی زمین کے درجہ حرارت میں تباہ کن اضافہ کر دیا ہے، جس سے مستقبل میں مزید شدید ترین اور غیر معمولی موسمی حالات پیدا ہونے کا خطرہ موجود ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی آبادی کا حامل ملک بھارت ان شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور گرمی کی لہروں کی زدمیں ہے، جہاں حالیہ برسوں کے دوران کئی ریاستوں اور اضلاع میں درجہ حرارت خطرناک اور نا قابلِ برداشت حد تک بڑھتا ہوا دیکھا گیا ہے۔