امریکی فیڈرل ریزرو کا شرح سود میں 0.25 فیصد اضافہ: نئے چیئرمین کیون وارش کے دور کا پہلا بڑا معاشی فیصلہ

محمود احمد, September 17,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 17 ستمبر 2026ء

امریکی مرکزی بینک ‘فیڈرل ریزرو’ نے ملک میں مسلسل برقرار رہنے والی بلند افراط زر (مہنگائی) پر قابو پانے کی غرض سے پالیسی ریٹ میں ایک چوتھائی (0.25) فیصد کا اضافہ کر دیا ہے۔ فیڈرل ریزرو کی جانب سے جاری کردہ تاز ترین معاشی تخمینوں میں خبردار کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام سے قبل شرح سود میں مزید اضافہ ممکن ہے۔

فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی (FOMC) کے بدھ کو ہونے والے اہم اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلے کی منظوری دیتے ہوئے وفاقی فنڈز کی شرح کا ہدف 0.25 فیصد بڑھا کر 3.75 سے 4 فیصد کی حد میں مقرر کر دیا گیا ہے۔ فیڈرل ریزرو کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اگرچہ امریکی معاشی سرگرمیاں، صارفین کے اخراجات اور کاروباری سرمایہ کاری کی رفتار مضبوط ہے، تاہم افراط زر اب بھی ہدف سے نمایاں طور پر بلند سطح پر موجود ہے۔

شرح سود میں یہ اضافہ نئے چیئرمین کیون وارش کی سربراہی میں فیڈرل ریزرو کا پہلا بڑا اقدام ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق گزشتہ تین سال سے زائد عرصے کے دوران امریکی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں کیا جانے والا یہ پہلا اضافہ ہے۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین کیون وارش نے کہا کہ افراط زر طویل عرصے سے غیر معمولی حد تک زیادہ ہے اور گرما کے دوران موصول ہونے والے اعداد و شمار سے اس کے بنیادی رجحانات میں بہتری کا کوئی واضح اشارہ نہیں ملا۔

مرکزی بینک کے 18 پالیسی سازوں میں سے 16 نے رواں سال کی چوتھی سہ ماہی تک شرح سود کو 4 سے 4.25 فیصد کی حد تک لے جانے کی حمایت کی ہے۔ دوسری جانب شرح سود میں اضافے کے اس فیصلہ پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو کے اقدام پر شدید تنقید کی اور شرح سود کو فوراً ایک فیصد یا اس سے بھی نیچے لانے کا مطالبہ دہرایا۔ فیڈ کے اس اعلان کے بعد وال اسٹریٹ کے اہم انڈیکسز بشمول ڈاؤ جونز، ایس اینڈ پی 500 اور نیس ڈیک میں مندی جبکہ امریکی ڈالر کی قدر میں استحکام دیکھا گیا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر واشنگٹن میں فیڈرل ریزرو کمیٹی کے پریس سیکرٹریٹ اور رائٹرز معاشی ڈیسک کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ ڈیٹا کے عین مطابق ایڈٹ کی گئی ہے۔

ماخذ: فیڈرل ریزرو بینک واشنگٹن،