

منصور احمد june 19,2026
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء
امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کی کامیاب ترین ثالثی اور تاریخی جنگ بندی کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونی والی تیز ترین کمی کا فائدہ غریب عوام تک پہنچانے کے حکومتی دعووں پر ملک کے مقتدر صحافتی و سیاسی حلقوں نے کڑا رخ اختیار کر لیا ہے، تفصیلات کے مطابق ملک کی معروف اور سینئر اینکر پرسن و صحافی غریدہ فاروقی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے ایک انتہائی سخت اور سٹرٹیجک بیان میں وزیرِ اعظم پاکستان کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ”وزیرِ اعظم صاحب! پٹرول کی ملکی قیمت میں ‘خاطر خواہ کمی’ صرف اور صرف وہی تسلیم کی جائے گی کہ پٹرول کی فی لیٹر قیمت کو یکسر اسی سطح پر واپس لایا جائے جو مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ چھڑنے سے قبل ملک میں رائج تھی،“ غریدہ فاروقی نے حکومتی معاشی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کڑے الفاظ میں کہا کہ محض 10، 20 یا 50 روپے وغیرہ کی اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر کمی کر کے حکومت پپسے ہوئے عوام کو ٹرخانے کی کوشش نہ کرے اور آئی ایم ایف کے دباؤ یا اپنے ریونیو کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے غریب عوام کی جیبوں پر مزید ڈاکا ڈالنا بند کرے۔
دوسری جانب وزیرِ اعظم پاکستان نے قوم سے اپنے ایک مقتدر اور تاریخی خطاب میں مہنگائی کے مارے عوام کو خوشخبری سناتے ہوئے سنسنی خیز اعلان کیا ہے کہ آج پٹرول اور ڈیژل کی ہفتہ وار قیمتوں کا باقاعدہ جائزہ لیا جا رہا ہے اور حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بڑی اور “خاطر خواہ کمی” کا باضابطہ اعلان کرنے جا رہی ہے، وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ آج سے ٹھیک 3 مہینے قبل جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہولناک جنگ چھڑی تھی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو یکایک آگ لگ گئی تھی جس کا براہِ راست بوجھ پاکستان پر بھی پڑا، لیکن پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کے نتیجے میں ہونے والی تاریخی جنگ بندی کے بعد اب بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بہت تیزی سے نیچے آرہی ہیں اور یقیناً آنے والے دنوں میں اس میں مزید بڑی کمی واقع ہوگی، انہوں نے پُرعزم انداز میں کہا کہ اس تاریخی جنگ بندی سے اب پورے خطے میں معاشی خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوگا، تیل کی قیمتیں مسلسل نیچے آرہی ہیں اور مہنگائی کی وہ سیاہ رات اب ہمیشہ کے لیے ختم ہونے کو ہے جس نے محدود وسائل کے باعث ہماری معیشت کو جکڑ رکھا تھا۔
وزیرِ اعظم نے عالمی محاذ پر ملنے والی اس سٹرٹیجک کامیابی پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کی بدولت پوری دنیا میں ملک کا نام انتہائی عزت و وقار سے گونج رہا ہے اور دنیا کے ہر خطے میں پاکستان کا سفارتی وقار بلند ہوا ہے، انہوں نے انکشاف کیا کہ ”کل شام میری ایران کے صدر سے تفصیلی فون پر بات چیت ہوئی، جس کے دوران ایرانی صدر نے اس بحران کو ٹالنے اور جنگ بندی کرانے پر بار بار پاکستان کی حکومت اور مسلح افواج کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، اور انہوں نے خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ بہت جلد خود پاکستان کا باضابطہ دورہ کر کے یہاں کے غیور عوام کا شکریہ ادا کریں گے،“ وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ اس نازک قومی و بین الاقوامی معاملے پر ہماری پوری سیاسی و عسکری قیادت اور قومی وحدت ایک پیج پر ہے، انہوں نے اس کامیابی میں بھرپور حصہ ڈالنے پر نائب وزیرِ اعظم، وزیرِ داخلہ محسن نقوی (جنہوں نے ایران کے حوالے سے اپنا پورا کلیدی سفارتی کردار ادا کیا) اور قائدِ حزبِ اختلاف (اپوزیشن لیڈر) کا خصوصی شکریہ ادا کیا، اپنے خطاب کے آخر میں وزیرِ اعظم نے دوٹوک الفاظ میں اعتراف کیا کہ خطے کو اس ہولناک جنگ سے بچانے اور اس عظیم عالمی کامیابی کو ممکن بنانے میں سب سے زیادہ کلیدی اور سٹرٹیجک کردار فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا ہے، وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ ہمیں اس کامیابی کا کوئی ذاتی کریڈٹ لینے کا شوق نہیں ہے بلکہ پوری قوم کو عالمی سطح پر کریڈٹ دلوانے کا ایک جوش اور جذبہ ہمارے ذہنوں پر سوار تھا جو خدا کے فضل سے پورا ہو گیا۔