فیفا ورلڈکپ، لیونل میسی کو ریڈ کارڈ نہ ملنے پر شدید تنازع، ایونٹ کی شفافیت پر انگلیاں اٹھ گئیں

محمود احمد june 18,2026

میامی، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

جاری فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء میں ارجنٹینا اور الجزائر کے مابین کھیلے گئے میچ کے دوران ارجنٹائنی کپتان اور لیجنڈری فٹبالر لیونل میسی کو سنگین فاؤل پر ”ریڈ کارڈ“ نہ دیے جانے کے بعد عالمی ایونٹ کی شفافیت پر گہرے سوالات اٹھ گئے ہیں، میامی سے حاصل ہونے والی اسپورٹس تفصیلات کے مطابق ایک طرف جہاں مشتعل شائقین نے سوشل میڈیا پر فٹبال ورلڈکپ کو ہی باقاعدہ فکسڈ قرار دینا شروع کر دیا ہے، وہیں دوسری جانب معتبر فٹبال تجزیہ کاروں اور مبصرین نے بھی گراؤنڈ ریفری کے اس فیصلے کو سراسر غیر منصفانہ اور یکطرفہ قرار دیا ہے، مشہورِ زمانہ کھیلوں کے نشریاتی ادارے ”ای ایس پی این“ کے پینل مانیٹرنگ اور ماہرین کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہنا تھا کہ الجزائری دفاعی کھلاڑی کے پاؤں کے پچھلے حصے پر جان بوجھ کر اپنا بوٹ رکھ کر خطرناک انداز میں گرانے کی پاداش میں قانون کے مطابق لیونل میسی کو ۱۰۰ فیصد ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیجا جانا چاہیے تھا مگر ریفری نے اسے مکمل نظرانداز کیا۔

میچ کے سنسنی خیز ری پلے کو بار بار دیکھنے کے بعد دنیا بھر کے کھیلوں کے پنڈتوں اور فٹبال فینز کا متفقہ طور پر یہ ماننا ہے کہ اس انتہائی پرتشدد حرکت پر اسٹار کھلاڑی کو سخت ترین سزا دی جا سکتی تھی، تاہم پولینڈ سے تعلق رکھنے والے فیلڈ ریفری سزیمون نے اس ہولناک فاؤل پر میسی کو کوئی کارڈ تک نہ دکھایا اور سب سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ رہی کہ اس دوران جدید ترین ٹیکنالوجی ”وی اے آر“ (فيديو اسسٹنٹ ریفری) کی جانب سے بھی کوئی واضح مداخلت یا ری ویو سامنے نہیں آیا، فٹبال کے دیوانوں اور صارفین نے سوشل میڈیا پر سنگین دعویٰ کیا ہے کہ ٹورنامنٹ کی ویلیو بڑھانے کے لیے فیفا کی جانب سے جان بوجھ کر اسٹار فٹبالر لیونل میسی کو ریڈ کارڈ کی پابندی سے بچایا جا رہا ہے کیونکہ انتظامیہ اور اسپاٹ لائٹ کمپنیاں ہر حال میں چاہتی ہیں کہ آگے چل کر ورلڈکپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں میسی اور کرسٹیانو رونالڈو کا ایک آخری بڑا تاریخی مقابلہ دیکھنے کو ملے اور اسی لالچ میں الجزائر کے خلاف کھلی ناانصافی کی گئی جس سے فیفا کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔