میر رضا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری: شدید تشدد اور کمر میں گولی لگنے کے شواہد، پولیس ٹیم کی تبدیلی کا مطالبہ

محمود احمد, August 08,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

کراچی میں پراسرار حالات میں جان بحق ہونے والے مقتول میر رضا کی کیمسٹری و پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں ان کے جسم، سر اور چہرے پر شدید تشدد اور فائر آرم (گولی) کے واضح شواہد ملے ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے انکشافات کے بعد مقتول کے والد اور ان کے وکیل جبران ناصر نے پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کرتے ہوئے اعلیٰ پولیس حکام کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کے سر، چہرے، گردن، سینے اور جسم کے متعدد حصوں پر چوٹوں اور تشدد کے گہرے نشانات پائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقتول کو قتل سے قبل جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس میں تھوڑی اور ماتھے پر سخت چوٹیں شامل ہیں۔

میڈیکل رپورٹ میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ میر رضا کے دائیں جانب اوپری کمر پر گولی لگنے کا انٹری وؤنڈ موجود ہے۔ فائر آرم کی اس انجری کے باعث مقتول کی چھٹی پسلی فریکچر ہوئی جبکہ گولی کے اثرات پانچویں پسلی تک پہنچے، جس کے نتیجے میں اندرونی خون بہا اور پھیپھڑوں میں خون جمع ہو گیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معروف وکیل اور انسانی حقوق کے رہنما جبران ناصر نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ نے پولیس کے خودکشی کے دعوؤں کو مکمل طور پر باطل ثابت کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس شفاف تفتیش کرنے کے بجائے میر رضا کے لواحقین کو ہراساں کر رہی ہے اور اے آئی جی کراچی خاندان پر واقعے کو خودکشی تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

جبران ناصر نے مزید کہا کہ “ہمیں اے آئی جی اور ایس ایس پی کراچی کی موجودہ تحقیقاتی ٹیم پر بالکل بھروسہ نہیں رہا، اسی لیے ہم پوری تفتیشی ٹیم کی تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہیں اور اس کے لیے عدالت سے بھی رجوع کریں گے۔” مقتول کے والد نے بھی میڈیا کے سامنے روتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے بیٹے کو بے دردی سے قتل کیا گیا ہے، لہذا قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے سچ سامنے لایا جائے۔