

محمود احمد june 18,2026
لاس اینجلس (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء
جاری فیفا ورلڈک2026 کے دوران امریکی حکام کی جانب سے ایرانی فٹبال ٹیم کے ساتھ انتہائی ناروا اور متعصبانہ سلوک روا رکھنے کی سنگین تفصیلات سامنے آئی ہیں، لاس اینجلس سے موصولہ بین الاقوامی اسپورٹس رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے ایرانی فٹبال ٹیم کو نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گئے اپنے اہم ترین میچ کے فوری بعد امریکہ میں قیام کرنے کی اجازت دینے کے بجائے فی الفور ملک چھوڑ کر واپس میکسیکو میں قائم اپنے تربیتی کیمپ میں منتقل ہونے کا سخت صدارتی و انتظامی حکم جاری کیا ہے، عالمی کھیلوں کے قوانین کے برعکس امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایرانی کھلاڑیوں کو میچ کے بعد ہوٹل میں آرام کرنے اور فزیکل ریکوری کے لیے مناسب وقت بھی فراہم نہیں کیا گیا جو کہ اسپورٹس مین شپ کی کھلی خلاف ورزی ہے، ایرانی فٹبال فیڈریشن کے ذرائع کے مطابق یہ پریشان کن صورتحال صرف میچ کے بعد تک محدود نہیں رہی بلکہ میچ سے قبل جب ایرانی ٹیم اپنے تربیتی کیمپ میکسیکو سے امریکہ آرہی تھی تو اس وقت بھی امریکی امیگریشن اور سیکیورٹی حکام نے سخت تفتیش اور کڑی اسکریننگ کے نام پر ایرانی کھلاڑیوں اور آفیشلز کو ایئرپورٹ پر مسلسل ۵ گھنٹے تک روک کر شدید ذہنی و جسمانی اذیت کا نشانہ بنایا۔
ایرانی فٹبال ٹیم کے مایہ ناز کپتان مہدی تاریمی نے امریکی بیوروکریسی کے اس جابرانہ رویے پر شدید برہمی اور احتجاج کا اظہار کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ اس غیر ضروری اور متعصبانہ تفتیش کے باعث کھلاڑیوں کی فزیکل ریکوری اور کھیل پر توجہ شدید متاثر ہوئی ہے کیونکہ ورلڈکپ جیسے اتنے بڑے عالمی عسکری مقابلے کے لیے پچ پر اترنے سے پہلے ہر کھلاڑی کا ذہنی اور جسمانی طور پر مکمل تازہ دم ہونا اور پرسکون ہونا انتہائی ضروری ہوتا ہے مگر امریکی رویے نے ٹیم کو تھکاوٹ سے دوچار کیا، واضح رہے کہ ایران نے فیفا ورلڈکپ 2026 میں اپنا پہلا اہم اوپننگ میچ نیوزی لینڈ کے خلاف لاس اینجلس کے اسٹیڈیم میں کھیلا جو دونوں ٹیموں کے مابین سخت مقابلے کے بعد ۲-۲ گول سے برابر رہا تھا، ورلڈکپ شیڈول کے مطابق گروپ مرحلے میں ایران کا اگلا اہم ترین میچ آئندہ پیر کے روز بیلجیئم کے خلاف لاس اینجلس میں ہی کھیلا جانا ہے مگر امریکی حکام کی جانب سے ٹیم کو بار بار امریکہ سے باہر بھیجنے اور دوبارہ لانے کے اس کٹھن انتظامی عمل نے ایرانی فٹبال ٹیم کی اگلے میچ کی تیاریوں پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔