بحیرہ جنوبی چین کا مسئلہ چین اور آسیان تعلقات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے؛ ترجمان چینی وزارتِ خارجہ لین جیئن

محمود احمد, JULY 23,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے کہا ہے کہ بحیرہ جنوبی چین کا مسئلہ چین اور آسیان کے مضبوط اور بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کی راہ میں کسی طور بھی رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔

چینی خبر رساں ادارے سی جی ٹی این کے مطابق، ترجمان چینی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو حالیہ علاقائی صورتحال اور چین-آسیان تعلقات کی مستقبل میں ترقی پر میڈیا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دونوں اطراف کے قائدین کی مشترکہ حکمتِ عملی اور قیادت کے نتیجے میں چین اور آسیان تعاون کے بہترین ثمرات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین اس وقت آسیان کے 8 رکنی ممالک کے ساتھ ‘ہم نصیب معاشرے’ کی تعمیر کے حوالے سے اہم اتفاقِ رائے حاصل کر چکا ہے۔

ترجمان لین جیئن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بحیرہ جنوبی چین تمام علاقائی ممالک کا مشترکہ گھر ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور آسیان ممالک کے پاس اتنی دانش اور صلاحیت موجود ہے کہ وہ بحیرہ جنوبی چین کے تمام مسائل کو مناسب اور خوش اسلوبی کے ساتھ سنبھال سکیں تاکہ خطے میں امن، استحکام، باہمی تعاون اور دوستی کا ماحول قائم رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بحیرہ جنوبی چین میں امن و امان قائم رکھنے کی باگ ڈور علاقائی ممالک کے اپنے ہاتھوں میں ہونی چاہیے۔ چین تمام آسیان ممالک کے ساتھ مل کر ہر قسم کی بیرونی مداخلت اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پرعزم ہے اور بحیرہ جنوبی چین کے طے شدہ ‘ضابطۂ عمل’ پر مذاکرات کو مزید تیز کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔