مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسندوں کا قبضہ اور پرچم لہرانے کے اقدامات نا قابلِ برداشت؛8مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا مشترکہ بیان

محمود احمد, JULY 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 جولائی 2026ء

پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیز کارروائیوں بالخصوص اسرائیلی انتہا پسند وزراء کی قیادت میں آباد کاروں کے مسلسل داخلے اور وہاں خیمے نصب کرنے کے اقدامات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں پرچم لہرانا اور دیگر غیر قانونی اقدامات بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے دراندازی اور تشدد کو ہوا دینے والے یہ اقدامات خطے میں انتہا پسندی کو مزید بڑھاوا دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر قائم ہونے والے منصفانہ و دیرپا امن کی راہ میں شدید رکاوٹ ہیں۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو مقبوضہ بیت المقدس یا وہاں کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی بھی خودمختاری حاصل نہیں ہے۔ وزرائے خارجہ نے مقبوضہ شہر کے تاریخی، قانونی اور آبادیاتی تشخص کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اردن کی ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کی اہمیت پر زور دیا۔

مشترکہ بیان میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ مسجد اقصیٰ کا پورا 144 دونم کا احاطہ صرف اور صرف مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص ہے اور اس کا تمام تر انتظام و انصرام اردن کی وزارتِ اوقاف کے ماتحت محکمہ اوقاف کے پاس ہی رہے گا۔ وزرائے خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو ان غیر قانونی اور شرپسندانہ اقدامات سے روکنے کے لیے فوری اور مؤثر کردار ادا کرے۔

بحیرہ جنوبی چین کا مسئلہ چین اور آسیان تعلقات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے؛ ترجمان چینی وزارتِ خارجہ لین جیئن

محمود احمد, JULY 23,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے کہا ہے کہ بحیرہ جنوبی چین کا مسئلہ چین اور آسیان کے مضبوط اور بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کی راہ میں کسی طور بھی رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔

چینی خبر رساں ادارے سی جی ٹی این کے مطابق، ترجمان چینی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو حالیہ علاقائی صورتحال اور چین-آسیان تعلقات کی مستقبل میں ترقی پر میڈیا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دونوں اطراف کے قائدین کی مشترکہ حکمتِ عملی اور قیادت کے نتیجے میں چین اور آسیان تعاون کے بہترین ثمرات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین اس وقت آسیان کے 8 رکنی ممالک کے ساتھ ‘ہم نصیب معاشرے’ کی تعمیر کے حوالے سے اہم اتفاقِ رائے حاصل کر چکا ہے۔

ترجمان لین جیئن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بحیرہ جنوبی چین تمام علاقائی ممالک کا مشترکہ گھر ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور آسیان ممالک کے پاس اتنی دانش اور صلاحیت موجود ہے کہ وہ بحیرہ جنوبی چین کے تمام مسائل کو مناسب اور خوش اسلوبی کے ساتھ سنبھال سکیں تاکہ خطے میں امن، استحکام، باہمی تعاون اور دوستی کا ماحول قائم رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بحیرہ جنوبی چین میں امن و امان قائم رکھنے کی باگ ڈور علاقائی ممالک کے اپنے ہاتھوں میں ہونی چاہیے۔ چین تمام آسیان ممالک کے ساتھ مل کر ہر قسم کی بیرونی مداخلت اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پرعزم ہے اور بحیرہ جنوبی چین کے طے شدہ ‘ضابطۂ عمل’ پر مذاکرات کو مزید تیز کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔