این سی سی آئی اے کا پنجاب بھر میں اوڈ گینگ کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن: مالیاتی سائبر فراڈ میں ملوث 27 ملزمان گرفتار

محمود احمد, JULY 31,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے پنجاب بھر میں مالیاتی سائبر فراڈ، آن لائن ڈکیتیوں اور جعلی شناختی بھیس بدل کر شہریوں کو لوٹنے والے خطرناک ‘اوڈ گینگ’ کے خلاف وسیع پیمانے پر بڑا کریک ڈاؤن کیا ہے۔ اس کامیابی کے دوران ایجنسی نے لاہور، ملتان اور فیصل آباد سے مجموعی طور پر 27 ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے پاس سے بھاری تعداد میں سمارٹ فونز، غیر قانونی فعال سمیں اور دیگر ڈیجیٹل شواہد برآمد کر لیے ہیں۔

ترجمان این سی سی آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان انتہائی منظم انداز میں خود کو بینک افسران، کسٹمز، پولیس اہلکار، خیراتی اداروں کے نمائندے، ٹی سی ایس رائیڈر اور جعلی سرمایہ کاری کمپنیوں کے نمائندے ظاہر کر کے شہریوں کو چکمہ دیتے تھے۔ ملزمان سادہ لوح شہریوں سے ون ٹائم پاس ورڈ بینکنگ تفصیلات اور پاس ورڈز حاصل کر کے ان کے تمام جمع شدہ سرمائے کا صفایا کر دیتے تھے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں این سی سی آئی اے کی ٹیموں نے دو مختلف تابڑ توڑ کارروائیوں کے دوران 13 ملزمان کو گرفتار کیا جن میں محمد عرفان، محمد دانش، نبیل اختر، بدر الرحمن، محمد عدنان، ندیم عباس، اللہ رکھا، محمد عاطف اور محمد وسیم شامل ہیں۔ ملزمان کے قبضہ سے 13 موبائل فونز، 25 جعلی ایکٹیو سمیں اور اہم ترین ڈیجیٹل ثبوت ملے۔ اسی طرح ملتان میں چار مختلف آپریشنز کے دوران گینگ کے مزید 13 ملزمان گرفتار کیے گئے جن میں محمد عاصم بلوچ، محمد عثمان، خالد بلوچ، عبدالغفار اور اوڈ برادری سے تعلق رکھنے والے محمد جبران، محمد شان، محمد وقاص، محمد الیاس، محمد اقبال، محمد شفیق، محمد یوسف اور محمد نعیم اوڈ شامل ہیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملتان گینگ جعلی واٹس ایپ اور فرضی ویب سائٹس کے ذریعے لاکھوں روپے بٹور رہا تھا۔

فیصل آباد میں ایجنسی نے ایک اور اہم کارروائی کرتے ہوئے ملزم ناصر علی کو گرفتار کیا جو شہریوں کے بینک اکاؤنٹس ہیک کر کے رقوم کو جعلی جاز کیش اور ایزی پیسہ اکاؤنٹس میں منتقل کرتا تھا، جس کے قبضے سے 1 اینڈرائیڈ فون، 6 کی پیڈ فونز اور 23 جعلی سمیں برآمد کی گئیں۔ این سی سی آئی اے کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ سائبر کرائمز اور منظم گینگز کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ عوام الناس کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنا او ٹی پی، شناختی کوائف یا بینکاری معلومات کسی بھی غیر متعلقہ فرد کے ساتھ ہرگز شیئر نہ کریں۔