مشکل وقت میں ملک کی خاطر صوبوں نے وفاق کو سپورٹ کیا، آئین کے دائرے میں رہ کر گرانٹ دیں گے، مراد علی شاہ

محمود احمد june 18,2026

کراچی ( /نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واضح کیا ہے کہ موجودہ ملکی و عالمی معاشی صورتحال کے باعث مالی سال ۲۰۲۶-۲۷ کا بجٹ گزشتہ برسوں سے یکسر مختلف نوعیت کا ہے، مشکل گھڑی میں ملک کی خاطر تمام صوبوں نے وفاقی حکومت کو بھرپور سپورٹ کیا ہے تاہم تمام فریقین نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا ہے کہ ہر فیصلہ ملکی آئین کے مطابق کیا جائے گا کیونکہ آئین میں نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کو مکمل تحفظ حاصل ہے اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے کی رقم میں کسی قسم کی کٹوتی یا کمی نہیں کی جا سکتی، کراچی میں صوبائی وزراء ناصر حسین شاہ، مکیش کمار چاولہ اور جام خان شورو کے ہمراہ ایک پُر ہجوم پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت صوبے میں مسلسل ۱۸واں بجٹ پیش کر رہی ہے اور سندھ میں سرمایہ کاری، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی سرگرمیوں کا فروغ ہمیشہ ہماری اولین ترجیحات میں شامل رہا ہے، انہوں نے انکشاف کیا کہ ابتدا میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے میں کمی کی تجویز زیر غور آئی تھی تاہم صوبوں نے اپنے آئینی حقوق کا بھرپور دفاع کیا جس کے بعد وفاق، چاروں صوبائی حکومتوں اور اتحادی جماعتوں نے آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے آرٹیکل ۱۶۴ کے تحت مسئلہ حل کیا جس کے مطابق صوبائی حکومتیں قومی دفاع اور یکجہتی کے پیش نظر وفاق کو گرانٹ فراہم کر سکتی ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے بجٹ کی اندرونی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کی وصولیوں کا مجموعی ہدف ۱۵.۲۶۴ ٹریلین روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ ۱۳.۳۵ ٹریلین روپے کی وصولی تک صوبوں کو ان کا پورا مقررہ حصہ ملے گا اور اس سے زائد وصول ہونے والی رقم صوبے وفاق کو گرانٹ کی صورت میں دیں گے، انہوں نے بتایا کہ صوبائی بجٹ کا کل حجم ۳ ہزار ۵۲۵ ارب روپے ہے جبکہ ہمارے اخراجات ۲ ہزار ۵۶۰ ارب روپے ہیں، بجٹ میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے ۵۴ ارب ۲۵ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو صوبے کی مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہوں گے، ان کا کہنا تھا کہ سندھ کو وفاقی محصولات کی مد میں مئی تک ۴۴۱ ارب روپے کے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ صوبائی وصولیوں میں بھی ۵۲ ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ان تمام مالی چیلنجز کے باوجود مجموعی طور پر صوبائی بجٹ میں تقریباً ۳۰۰ ارب روپے کا خسارہ موجود ہے، مراد علی شاہ نے کسانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی تھوڑی سی سپورٹ سے صوبے میں گندم کی پیداوار ۱.۴ ملین ٹن کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے جبکہ صوبائی ٹیکس وصولی ۶۲۳ ارب روپے ہو چکی ہے، انہوں نے ملازمین کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں کم از کم ماہانہ اجرت ۴۳ ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں ۷ فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور سندھ حکومت آئینی تقاضوں کے مطابق صوبے کے حقوق کا تحفظ جاری رکھے گی۔