پارا ہائی کر دیا گیا، ہر عقل کی بات کرنے والے کو بھسم کرنا حکمتِ عملی مان لیا گیا ہے؛ مولانا فضل الرحمان کے خطاب پر فواد چوہدری کا تزویراتی ردِعمل

منصور احمد, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

سابق وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ سخت مقتدر خطاب اور ملک کے موجودہ سنگین سیاسی و آئینی بحران پر اپنے گہرے تزویراتی ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ملک کے فیصلہ سازوں اور مقتدر حلقوں کو موجودہ صورتحال کی سنگینی سے سخت خبردار کرتے ہوئے شدید تحمل، بردباری اور ٹھنڈے دماغ سے فیصلے کرنے کا مخلصانہ مشورہ دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک اہم تادیبی پیغام میں فواد چوہدری نے جمعیت لائر فورم کے کنونشن میں مولانا فضل الرحمان کی جانب سے مقتدر حلقوں کے خلاف کیے گئے سخت ترین خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی کے سربراہ کے اس حالیہ بیان اور دوٹوک مؤقف سے ملک کے مجموعی سیاسی ماحول کی تلخیوں میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اس انتہائی نازک اور حساس وقت میں ملک مزید تلخیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا، بلکہ اس وقت شدید تحمل اور سیاسی بردباری کا مظاہرہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

ملک کے مقتدر حلقوں اور مقتدر فیصلہ سازوں کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت مقتدر اشرافیہ کو بالکل ٹھنڈے دماغ کے ساتھ ملکی بقا کی خاطر سوچنا چاہیے۔ انہوں نے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس وقت سیاسی پارہ اس قدر ہائی کر دیا گیا ہے کہ ہر عقل، دانش اور آئین پسندی کی بات کرنے والے کو ‘بھسم’ کرنا یا سائیڈ لائن کرنا ہی مروجہ ریاستی حکمتِ عملی مان لیا گیا ہے، جو کہ ملکی مستقبل کے لیے انتہائی افسوسناک اور نقصان دہ ہے۔

موجودہ حکومتی اتحاد اور دیگر وفاقی سیاسی جماعتوں کے غیر سنجیدہ رویے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے فواد چوہدری نے مزید کہا کہ اس وقت ملک کی تمام نام نہاد وفاقی جماعتیں اس جاری سیاسی و آئینی جنگ کو صرف اور صرف اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر چھوڑ کر خود بالکل سائیڈ پر ہو چکی ہیں اور تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے تادیبی انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملک پہلے ہی تاریخ کے بدترین کثیر الجہتی بحرانوں کی زد میں ہے، لہٰذا اس تلخ اور کشیدہ سیاسی ماحول میں اب مزید کسی بھی قسم کا تادیبی اضافہ یا محاذ آرائی ریاست کے لیے بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔

انتخابات میں بدترین دھاندلی کی گئی؛ لوٹوں کے سہارے خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے کا آپشن مسترد کر دیا، مولانا فضل الرحمان

کاشف عباسی , JULY 19,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے موجودہ سیاسی و مقتدر نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کھلا دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ انتخابات میں بدترین دھاندلی کے ذریعے پارلیمنٹ اور آئین کو یرغمال بنایا گیا ہے۔ اسلام آباد میں جمعیت لائر فورم کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک مقتدر اور بڑے وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ مقتدر حلقے ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور انہیں بلوچستان حکومت میں شمولیت سمیت خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت گرا کر جے یو آئی کی حکومت بنانے کی پیشکش کی گئی تھی، جسے انہوں نے صاف مسترد کر دیا۔ انہوں نے صائب الفاظ میں کہا کہ وہ لوٹوں کے سہارے اور مقتدر بیساکھیوں پر بیٹھ کر اس گھوڑے پر سوار ہونے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے خلاف جاری پروپیگنڈے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ دائرہ اختیار اور غلط پالیسیوں سے اختلاف کرنے پر ان کی کردار کشی کی مہم چلائی جا رہی ہے، لیکن وہ کسی کے سامنے سرنڈر کرنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس افسر کے آفس سے ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا وہ فوری معافی مانگے۔ جے یو آئی کے سربراہ نے دل گرفتہ انداز میں کہا کہ انہوں نے باجوڑ دھماکوں سمیت اپنے علماء، اساتذہ اور 100 سے زائد کارکنوں کے جنازے اٹھائے ہیں، لیکن مقتدر حلقے کبھی ان کے جنازوں پر نہیں روئے، جبکہ وہ فوج کے ہر جنازے پر روئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک میں عدم اعتماد کی فضا خود مقتدر حلقوں کی غلط پالیسیوں نے پیدا کی ہے، جس کے باعث بنوں، لکی مروت اور ٹانک میں پولیس فورسز اور عوام کے اندر شدید ترین خلیج اور دوریاں جنم لے چکی ہیں۔

انہوں نے ماضی کے تزویراتی حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں بھی عوام سے البدر اور الشمس جیسے لشکر بنوائے گئے جس کے تلخ نتائج تاریخ کا حصہ ہیں، اور اب دوبارہ مقتدر حلقے عوام کو لشکر بنانے پر مجبور کر کے نئے دشمن پیدا کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ خوشامدی حکمرانوں نے اپنے رویوں سے عوام، پارلیمنٹ اور آئین کو کمزور جبکہ اسٹیبلشمنٹ کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے تادیبی طور پر واضح کیا کہ اس وقت ریاست کی ساری توانائیاں عوامی فلاح کے بجائے صرف اور صرف اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں اور مقتدر طبقہ اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہدا کے خون کو بطور ایندھن استعمال کر رہا ہے۔