کیپ ورڈی کے اسٹار گول کیپر وزینا کی والدہ کا ویزا منظور، اتوار کو بیٹے کا میچ دیکھنے میامی اسٹیڈیم پہنچیں گی

محمود احمد june 18,2026

میامی، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

جاری فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء میں اپنی جاندار پرفارمنس کی بدولت راتوں رات شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے کیپ ورڈی کے مایہ ناز گول کیپر ”وزینا“ کی والدہ اب اپنے بیٹے کو ایکشن میں دیکھنے کے لیے امریکہ کے مشہورِ زمانہ میامی اسٹیڈیم میں موجود ہوں گی، اسپورٹس ذرائع کے مطابق وزینا کی والدہ اینا کانڈیڈہ بھاری امریکن ویزا فیس کی وجہ سے اب تک امریکہ نہیں جا سکی تھیں لیکن امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے خصوصی طور پر ان کی ویزا فیس معاف کر کے ان کے امریکہ پہنچنے کے ہنگامی انتظامات شروع کر دیے ہیں، یو ایس ہاؤس ڈیموکریٹک لیڈر حکیمی جیفریز نے سوشل میڈیا پر اس بڑی خوشخبری کو شیئر کرتے ہوئے دنیا کو بتایا کہ انہوں نے امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو سے اس اہم معاملے پر خصوصی بات چیت کی تھی کہ وہ اپنے صوابدیدی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے چالیس سالہ اسٹار گول کیپر کی بوڑھی والدہ کو میچ دیکھنے کے لیے امریکہ بلانے میں مدد کریں، حکیمی جیفریز کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ سرکاری اعلان کرتے ہوئے دلی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ بھاری فیس کی وجہ سے رکی ہوئی وزینا کی والدہ اب اتوار کے روز کیپ ورڈی اور یوراگوئے کے مابین ہونے والا سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے کے لیے میامی کے اسٹیڈیم میں موجود ہوں گی کیونکہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ان کا ویزا جاری کر کے ان کے فضائی سفر کے انتظامات بھی سنبھال لیے ہیں۔

امریکہ روانگی کی منظوری پر وزینا کی والدیہ اینا کانڈیڈہ نے گہرے جذباتی انداز میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت دنیا کی خوش قسمت ترین ماں ہیں اور اپنے بیٹے سے ملنے اور اسے اتنے بڑے عالمی اسٹیج پر کھیلتے ہوئے دیکھنے کے لیے شدید بے چین ہیں، واضح رہے کہ فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء میں شریک کیپ ورڈی سمیت دنیا کے پانچ مخصوص ممالک کے شائقینِ فٹبال کے لیے سخت امریکی امیگریشن پالیسی کے تحت ناقابلِ واپسی ویزا فیس کی مد میں ۱۱ ہزار پاؤنڈ جمع کرانے کی کڑی شرط عائد تھی جو کہ رواں سال مئی کے مہینے میں تبدیل کی گئی تھی، اسی سخت قانون اور بھاری فیس کی وجہ سے وزینا کی فیملی امریکہ آنے سے قاصر تھی لیکن اب امریکی حکومت کے اس بڑے اور ہمدردانہ فیصلے کے بعد اسٹار گول کیپر کی والدہ اتوار کو اسٹیڈیم کے وی آئی پی اسٹینڈز میں بیٹھ کر اپنی ٹیم اور بیٹے کی حوصلہ افزائی کریں گی جس پر کیپ ورڈی کے فٹبال فینز نے امریکی حکام کا شکریہ ادا کیا ہے۔

کلمہ طیبہ کے تقدس اور احترام کا شاندار عالمی مظاہرہ، فٹبال کی سب سے بڑی تنظیم فیفا نے سعودی عرب کے قومی پرچم کے لیے منفرد اور الگ پروٹوکول اختیار کر لیا، ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے دوران دیگر ممالک کے جھنڈوں کی طرح میدان کی گھاس پر بچھانے کے بجائے خصوصی طور پر بلند مقام پر آویزاں کرنے کا تاریخی فیصلہ، میامی اسٹیڈیم میں مسلم امہ کے جذبات کی لاج رکھ لی گئی، یوراگوئے اور سعودی عرب کے مابین سنسنی خیز مقابلہ ایک ایک گول سے برابر

منصور احمد june 17,2026

میامی، امریکہ (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

بین الاقوامی فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے میدانوں سے مسلم امہ اور دنیا بھر کے شائقین کے لیے ایک انتہائی خوبصورت اور ایمان افروز خبر سامنے آئی ہے جہاں فٹبال کی سب سے بڑی عالمی تنظیم (فیفا) نے کلمہ طیبہ کے غیر معمولی احترام اور تقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی عرب کے قومی پرچم کے لیے اپنا دہائیوں پرانا روایتی پری میچ پروٹوکول یکسر تبدیل کر دیا ہے، امریکہ کے شہر میامی سے حاصل ہونے والی خصوصی کھیلوں کی تفصیلات کے مطابق فیفا فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے گروپ میچز کے دوران سعودی عرب کے قومی پرچم کو دیگر تمام ممالک کے جھنڈوں کی طرح میچ شروع ہونے سے قبل اسٹیڈیم کے گراؤنڈ پر بچھانے یا پھیلانے کے بجائے خصوصی طور پر ایک انتہائی بلند اور محترم مقام پر آویزاں کیا گیا جس نے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں اور کھیلوں کے شائقین کی توجہ اور دل جیت لیے ہیں، عام طور پر فیفا کے مروجہ انٹرنیشنل پری میچ پروٹوکول کے تحت میچ شروع ہونے سے قبل دونوں شریک ممالک کے دیو ہیکل پرچموں کو گراؤنڈ کی گھاس پر چٹائی کی طرح پھیلایا جاتا ہے تاہم سعودی عرب کے پرچم کے معاملے میں اس بار ایک بالکل منفرد، معزز اور مختلف طرزِ عمل اختیار کیا گیا جو کہ عالمی سطح پر مذہبی رواداری کی ایک بہترین مثال ہے۔

کھیلوں کے بین الاقوامی مبصرین کے مطابق فیفا کی جانب سے اس تاریخی تبدیلی کی بنیادی اور اصل وجہ سعودی عرب کے قومی پرچم پر درج مقدس ”کلمہ طیبہ“ ہے جو کہ دینِ اسلام کے بنیادی ترین عقیدے اور توحید و رسالت کی نمائندگی کرتا ہے، سعودی عرب کے ملکی قوانین، اسلامی شعائر اور دیرینہ مذہبی روایات کے مطابق کلمہ طیبہ والے اس قومی پرچم کو کسی بھی صورت زمین پر رکھنا، اس کے اوپر سے گزرنا، پاؤں لگانا یا اسے کسی بھی ایسے انداز میں استعمال کرنا جس سے ذرا سا بھی بے حرمتی یا بے توقیری کا تاثر پیدا ہو، انتہائی نامناسب اور سخت ممنوع سمجھا جاتا ہے، اسی شدید مذہبی حساسیت اور مسلمانوں کے پاک جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹورنامنٹ کی مرکزی انتظامیہ اور فیفا حکام نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سعودی پرچم کو زمین کی مٹی یا گھاس پر رکھنے کے بجائے اسٹیڈیم میں ایک مخصوص، معزز اور بلند مقام پر نصب کیا تاکہ اس کے تقدس، حرمت اور احترام کو سو فیصد برقرار رکھا جا سکے۔

دوسری جانب اگر میدان کے اندر کھیل کے مابین ہونے والے جوڑ کی بات کی جائے تو فیفا فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے اس انتہائی اہم میچ میں سعودی عرب اور عالمی شہرت یافتہ ٹیم یوراگوئے کے درمیان کھیلا گیا معرکہ سخت مقابلے کے بعد ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ہی ڈرا ہو گیا ہے، امریکہ کے مشہورِ زمانہ میامی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے گروپ ”ایچ“ کے اس اعصاب شکن اور سنسنی خیز میچ میں یوراگوئے اور سعودی عرب کے کھلاڑیوں نے ایک دوسرے کے گول پوسٹ پر تابڑ توڑ حملے کیے تاہم مقررہ وقت کے خاتمے تک دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ ۱-۱ گول سے برابر رہا اور دونوں ممالک کو ایک ایک پوائنٹ پر ہی اکتفا کرنا پڑا، اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں تماشائیوں نے جہاں سعودی فٹبال ٹیم کی جاندار پرفارمنس کو سراہا، وہی پرچم کے احترام میں فیفا کے اس بڑے فیصلے کی بھی کھل کر تعریف کی ہے۔