پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تجارتی اور صنعتی تعاون کے فروغ کے لیے 9 ویں مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس: خدمات کے شعبے میں تجارتی معاہدے اور میڈیا شراکت داری پر اتفاق

کاشف عباسی , August 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

پاکستان اور بیلاروس نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کے شعبوں میں باہمی شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر مکمل اتفاق کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک نے خدمات کے شعبے میں دوطرفہ تجارتی معاہدے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک مشترکہ فزیبلٹی سٹڈی گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ دونوں ملکوں کے قومی میڈیا اداروں کے درمیان نشریاتی تعاون اور مواد کے تبادلے کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے ہیں۔

وزارت اقتصادی امور ڈویژن سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون کے مشترکہ وزارتی کمیشن کا دو روزہ 9 واں اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور بیلاروس کے وزیر توانائی ڈزیانس ماروز نے کی۔ اجلاس میں دونوں جانب سے تجارت اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے اور بدلتے ہوئے عالمی حالات میں نئے تجارتی مواقع تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر مشترکہ وزارتی کمیشن کے متفقہ پروٹوکول پر دستخط کیے گئے جبکہ پاکستان ٹیلی ویژن اور بیلاروس کے نیشنل سٹیٹ ٹیلی ویژن اینڈ ریڈیو کے درمیان باہمی تعاون کی یادداشت پر بھی دستخط عمل میں آئے۔

صنعتی اور زرعی شعبوں میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے درمیان اشتراکِ عمل کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ زراعت کے شعبے میں سی فوڈ، پھلوں، بیجوں اور ڈیری پروڈکٹس کے لیے آن لائن بزنس ٹو بزنس اجلاسوں اور نمائشوں کے انعقاد پر فیصلہ ہوا۔ اس کے علاوہ سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں کوالٹی کنٹرول معیارات کو باہمی طور پر تسلیم کرنے کے طریقہ کار پر کام شروع کرنے کی تجویز دی گئی، جبکہ بیلاروس نے پانی کے تحفظ اور فضلے کے انتظام کی جدید ٹیکنالوجی میں تعاون کی پیشکش کی۔

پاکستانی جانب سے بیلاروس کی معیشت کے لیے ماہر اور غیر ماہر افرادی قوت کی منظم فراہمی کا طریقہ کار وضع کرنے کی آمادگی ظاہر کی گئی، جس سے پاکستانی نوجوانوں کے لیے بیرون ملک روزگار کے بہترین مواقع پیدا ہوں گے۔ دونوں ممالک کے چیئرمینوں نے اجلاس کے نتائج اور فیصلوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کو ایک نئی بلندی پر لے جائیں گے۔