


منصور احمد, August 14,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 اگست 2026ء
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو فارماسیوٹیکل صنعت کا عالمی مرکز بنانا حکومت کا اہم ہدف ہے، اور فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو 2035ء تک ملکی برآمدات کو 100 ارب ڈالر سے زائد تک لے جانے کے قومی ہدف میں اپنا فعال حصہ متعین کرنا ہوگا۔
‘اڑان پاکستان’ کے تحت فارماسیوٹیکل برآمدات میں سہولت سے متعلق منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کی گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی فارما برآمدات 20 سال کی بلند ترین سطح یعنی 457 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، تاہم اب ہمیں معمولی اضافے سے آگے بڑھ کر اس شعبے کو اربوں ڈالر کی صنعت میں تبدیل کرنا ہوگا۔
پروفیسر احسن اقبال نے فارماسیوٹیکل انڈسٹری پر زور دیا کہ وہ تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ ایک ماہ کی مشاورت کے بعد سال 2030ء اور اس کے بعد کا جامع روڈ میپ تیار کر کے حکومت کے سامنے پیش کرے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت پالیسی اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کو دور کرنے اور عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے کے لیے مکمل تعاون کرے گی۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ پاکستان میں فارماسیوٹیکل خام مال کا تقریباً 85 فیصد حصہ باہر سے درآمد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ ملک کو درآمدی انحصار کم کر کے مقامی پیداواری صلاحیت کو مضبوط بنانا ہوگا۔ انہوں نے ریسرچ لیبارٹریز کو صرف مقالوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی تحقیق اور جدت پر توجہ دینے کی ہدایت کی تاکہ “میڈ ان پاکستان” کی برانڈنگ کو عالمی سطح پر معیار اور اعتماد کی علامت بنایا جا سکے۔