ٹیکس اصلاحات، وسائل میں اضافہ اور معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن تیز رفتار معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں: وفاقی وزیر احسن اقبال

کاشف عباسی , September 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کو تیز رفتار، پائیدار اور مستحکم معاشی ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لیے روایتی طرزِ حکمرانی اور پرانے معاشی طریقہ کار سے نکل کر جدید ڈیجیٹل معیشت کی جانب تیزی سے منتقل ہونا پڑے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بنیادی ٹیکس اصلاحات، قومی وسائل میں خاطر خواہ اضافہ اور معیشت کی کامل ڈیجیٹلائزیشن ‘اڑان پاکستان’ کے طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے بنیادی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

قومی اقتصادی مشن، ٹیکس اصلاحات اور معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات اور وسائل میں اضافہ کا اہم مشن ‘اڑان پاکستان’ کے تحت قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کی جانب سے منظور کیے گئے 11 قومی اقتصادی مشنز میں کلیدی مقام رکھتا ہے، اور یہی مشن درحقیقت پورے معاشی اصلاحاتی پروگرام کے لیے بنیادی مالیاتی انجن کی حیثیت رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قابلِ اعتماد اور پائیدار ذرائع سے ملکی آمدن میں اضافہ کیے بغیر دیگر 10 قومی اقتصادی مشنز کو کامیابی سے چلانے کے لیے درکار مالی وسائل کی فراہمی ممکن نہیں بنائی جا سکتی۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ قومی اقتصادی کونسل نے جن 11 قومی اقتصادی مشنز کی منظوری دی ہے، ان کا بنیادی اور حتمی مقصد پاکستان کو سال 2035ء تک 1 ٹریلین (ایک کھرب) ڈالر کی دیوہیکل معیشت بنانا ہے۔

احسن اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ ‘اڑان پاکستان’ کے تمام تر معاشی اہداف مکمل طور پر قابلِ حصول ہیں، تاہم ان کو حاصل کرنے کے لیے معیشت کے ہر چھوٹے بڑے شعبے میں بنیادی تبدیلی، کڑی اصلاحات اور نفاذ درکار ہے۔ موجودہ روایتی نظام کو برقرار رکھتے ہوئے 1 ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوگا، اسی لیے معمول کے سست روی والے طریقہ کار سے ہٹ کر تیز رفتار معاشی و ساختار تبدیلی لانا پڑے گی۔

انہوں نے واضح الفاظ میں ہدایت کی کہ پاکستان کو اب معاشی میدان میں ’’کچھوے کی رفتار‘‘ کے بجائے ’’ڈیجیٹل رفتار‘‘ سے آگے بڑھنا ہوگا۔ پائیدار معاشی ترقی کے لیے ملک کو پرانے تکنیکی طریقہ کار سے مکمل طور پر نکل کر ایک تیز رفتار، جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی اور شفاف ڈیجیٹل معیشت کی طرف منتقل ہونا پڑے گا۔

وفاقی وزیر نے معاشی صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حکومت نے ملک میں بنیادی معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے، لیکن صرف اس موجودہ سطح کا استحکام طویل المیعاد پائیدار ترقی کے لیے ہرگز کافی نہیں ہے۔ معاشی ترقی کی رفتار کو عالمی سطح پر معتبر بنانے کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں اضافہ اور عوامی ترقیاتی سرگرمیوں (پی ایس ڈی پی) کے لیے مطلوبہ مالی وسائل کی فراہمی بلاشبہ سب سے لازمی جزو ہے۔

انہوں نے ماضی سے موازنہ کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ سال 2018ء میں پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں ترقیاتی بجٹ کا تناسب کافی زیادہ تھا، جبکہ موجودہ صورتحال میں ترقیاتی بجٹ کی سطح نمایاں طور پر سکڑ کر کم ہو چکی ہے۔ تقریباً دو ہزار ارب روپے کے محدود ترقیاتی بجٹ کے ذریعے حاصل ہونے والے ظاہری استحکام کو ہم کبھی بھی مکمل یا حتمی معاشی استحکام قرار نہیں دے سکتے۔

پروفیسر احسن اقبال نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا قومی ترقیاتی بجٹ مسلسل سکڑ رہا ہے، اور بجٹ کا موجودہ روایتی ڈھانچہ نئے ترقیاتی اخراجات کے لیے گنجائش پیدا کرنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر زیرِ التوا اور جاری ترقیاتی منصوبوں کو وقت پر فنڈز فراہم کر کے مکمل نہیں کیا جا سکتا تو نئے مفادِ عامہ کے منصوبوں کا آغاز کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ اس تشویشناک صورتحال سے نمٹنے کے لیے معیشت میں نئے وسائل پیدا کرنے اور موجودہ وسائل کو زیادہ موثر اور شفاف انداز میں متحرک کرنے کی اشد ضرورت ہے، جس کے لیے ملک کے ٹیکس نظام میں انقلابی اور بنیادی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ذاتی کاوشوں اور خصوصی دلچسپی سے گزشتہ دو برس کے دوران ملک میں ٹیکس وصولیوں اور ریونیو کی جمع آوری میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، لیکن اب اصل چیلنج عوام اور صنعتوں پر ٹیکس کی شرح میں کمی لاتے ہوئے ٹیکس نیٹ کا دائرہ کار وسیع کرنا اور مجموعی وصولیوں میں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ عام شہری اور تاجر پر سے ٹیکس کا اضافی بوجھ کم کرنا اور باقاعدہ ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد بڑھانا ہماری ملکی معاشی پالیسی کی پہلی اور اہم ترین ترجیح ہونی چاہیے۔ ٹیکس اصلاحات اور معیشت کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ملکی وسائل بڑھانے کے ساتھ ساتھ غیر رسمی معیشت کو زیادہ سے زیادہ دستاویزات کے دائرے میں لانا ہوگا۔

احسن اقبال نے برآمدات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تیز رفتار معاشی بحالی اور ترقی کے لیے برآمدات (ایکسپورٹس) میں غیر معمولی اور ریکارڈ اضافہ ناگزیر ہے، اور یہ موضوع اس وقت ریاست کی اہم ترین قومی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ منصوبہ بندی کی یہ بنیادی آئینی و انتظامی ذمہ داری ہے کہ وہ وزیراعظم کی رہنمائی میں ایک جامع اور قابلِ عمل قومی ترقیاتی منصوبہ تیار کر کے تمام متعلقہ وزارتوں کو فراہم کرے اور اس کے ایک ایک نقطے پر موثر عملدرآمد یقینی بنائے۔

وفاقی وزیر نے وزارتِ منصوبہ بندی کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وزارت کی تجزیاتی اور تحقیقی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے تمام اہم صنعتی شعبوں کے لیے برآمدات کے واضح، جرات مندانہ اور معین اہداف مقرر کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جلد از جلد یہ طے کیا جائے کہ کن مخصوص شعبوں سے کتنی برآمدات حاصل کی جا سکتی ہیں اور ان مطلوبہ اہداف کے حصول کے لیے کون سے عملی و تکنیکی اقدامات فوری طور پر ضروری ہیں، کیونکہ پاکستان کا مستقبل صرف اور صرف ٹیکنالوجی، شفافیت اور برآمدات پر مبنی معیشت سے وابستہ ہے۔

پاکستان کو فارماسیوٹیکل صنعت کا عالمی مرکز بنانا ہمارا ہدف ہے: وفاقی وزیر احسن اقبال کا ‘اڑان پاکستان’ گول میز کانفرنس سے خطاب

منصور احمد, August 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو فارماسیوٹیکل صنعت کا عالمی مرکز بنانا حکومت کا اہم ہدف ہے، اور فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو 2035ء تک ملکی برآمدات کو 100 ارب ڈالر سے زائد تک لے جانے کے قومی ہدف میں اپنا فعال حصہ متعین کرنا ہوگا۔

‘اڑان پاکستان’ کے تحت فارماسیوٹیکل برآمدات میں سہولت سے متعلق منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کی گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی فارما برآمدات 20 سال کی بلند ترین سطح یعنی 457 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، تاہم اب ہمیں معمولی اضافے سے آگے بڑھ کر اس شعبے کو اربوں ڈالر کی صنعت میں تبدیل کرنا ہوگا۔

پروفیسر احسن اقبال نے فارماسیوٹیکل انڈسٹری پر زور دیا کہ وہ تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ ایک ماہ کی مشاورت کے بعد سال 2030ء اور اس کے بعد کا جامع روڈ میپ تیار کر کے حکومت کے سامنے پیش کرے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت پالیسی اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کو دور کرنے اور عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے کے لیے مکمل تعاون کرے گی۔

وفاقی وزیر نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ پاکستان میں فارماسیوٹیکل خام مال کا تقریباً 85 فیصد حصہ باہر سے درآمد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ ملک کو درآمدی انحصار کم کر کے مقامی پیداواری صلاحیت کو مضبوط بنانا ہوگا۔ انہوں نے ریسرچ لیبارٹریز کو صرف مقالوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی تحقیق اور جدت پر توجہ دینے کی ہدایت کی تاکہ “میڈ ان پاکستان” کی برانڈنگ کو عالمی سطح پر معیار اور اعتماد کی علامت بنایا جا سکے۔

سی پیک 2.0 کے تحت صنعتی و کاروباری تعاون میں پیش رفت: چینی وفد کی احسن اقبال سے ملاقات، برآمدات میں اضافے اور بی ٹو بی شراکت داری پر اتفاق

محمود احمد, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی، زرعی اور کاروباری تعاون کو وسعت دینے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے اقتصادی امور پریس کے سینئر ایڈوائزر سن ڈونگ شینگ کی قیادت میں سی پیک سیکرٹریٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال اور سینیئر پالیسی سازوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے چینی وفد کو پاکستان کے قومی اقتصادی ایجنڈے ”اڑان پاکستان“ سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج برآمدات کی کمزور بنیاد ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چین سالانہ 2.6 ٹریلین ڈالر کی درآمدات کرتا ہے جبکہ اس میں پاکستان کا حصہ صرف 3 ارب ڈالر کے قریب ہے، جسے بڑھانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں چین نے پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکالا اور اب سی پیک 2.0 کے ذریعے پاکستان اپنے برآمدی خسارے پر قابو پانے کے لیے پرعزم ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے صنعتی انقلاب 4.0 اور 5.0 کے تحت آٹومیشن، روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی میں چینی تجربات سے استفادہ کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے زور دیا کہ سی پیک 2.0 کا اصل محور کاروبار سے کاروبار تعاون ہے، جس کے تحت صنعتی، زرعی اور معدنی شعبوں میں علاقائی و عالمی سطح پر نجی شعبوں کا اشتراکِ عمل ضروری ہے۔

چینی وفد کے سربراہ مسٹر سن ڈونگ شینگ نے پاک چین دوستی کی مضبوطی کا اعادہ کرتے ہوئے سی پیک فیز ون کی کامیابیوں کو سراہا۔ انہوں نے زراعت، صنعت، پیداواری صلاحیت میں اضافے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی شمولیت اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے فروغ پر زور دیا۔

اجلاس کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سی پیک 2.0 کے پانچ کوریڈورز اور پاکستان کے ”اڑان پاکستان“ فریم ورک کے درمیان تزویراتی ہم آہنگی کو عملی جامہ پہنایا جائے گا تاکہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے آگے بڑھ کر صنعتی ترقی، مسابقت، اور کاروباری شراکت داری کے ذریعے مشترکہ خوشحالی کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔

وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کا جولائی 2026ء کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ جاری کرتے ہوئے اہم خطاب: “اڑان پاکستان” کے تحت ملکی معاشی استحکام کو پائیدار ترقی، روزگار اور عوامی خوشحالی میں بدلا جائے گا

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے وزارتِ منصوبہ بندی کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ برائے جولائی 2026ء کے باضابطہ اجرا اور نئے مالی سال 2026-27 کے لیے اہداف و حکمتِ عملی کے آغاز پر میڈیا سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ غیر یقینی عالمی حالات، جغرافیائی کشیدگی، توانائی کی عالمی رسد میں رکاوٹوں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستان معاشی استحکام کے سفر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح مشکل فیصلوں سے حاصل ہونے والے معاشی استحکام کو ہر قیمت پر برقرار رکھتے ہوئے اسے پائیدار ترقی، سرمایہ کاری، روزگار اور عوامی خوشحالی میں تبدیل کرنا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ معاشی استحکام عوام کی قربانیوں، بہتر مالی نظم و ضبط اور مؤثر معاشی فیصلوں کا نتیجہ ہے، اور “اڑان پاکستان” کے تحت اس معاشی استحکام کو مشترکہ خوشحالی میں تبدیل کرنے کی رفتار مزید تیز کی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے معاشی حقائق پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی معیشت نے مضبوط بحالی کا مظاہرہ کیا اور شرحِ نمو 3.2 فیصد سے بڑھ کر 3.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس دوران زرعی شعبے کی شرحِ نمو 2.9 فیصد، صنعتی شعبے کی 3.5 فیصد جبکہ خدمات کے شعبے کی شرحِ نمو 4.1 فیصد رہی، جس سے مجموعی معاشی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری آئی۔ جولائی تا مئی لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں 5.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 22 میں سے 16 بڑے صنعتی شعبوں نے مثبت ترقی دکھائی اور گاڑیوں کی صنعت میں 58.8 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی قیمتوں کے دباؤ کے باوجود مہنگائی کی شرح مقررہ ہدف سے کم رہی، جبکہ ترسیلاتِ زر 8.6 فیصد اضافے کے ساتھ 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اشیا و خدمات کی مجموعی برآمدات 40.9 ارب ڈالر رہیں اور جاری کھاتوں کا خسارہ صرف 139 ملین ڈالر تک محدود رہا۔ بین الاقوامی اداروں نے بھی پاکستان کی معاشی اصلاحات اور زرمبادلہ ذخائر میں بہتری کا اعتراف کیا ہے۔ مالی سال 2026-27 کے لیے شرحِ نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ آئندہ معاشی ترقی کا انحصار پیداواری صلاحیت، برآمدات، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور نجی شعبے کے فعال کردار پر ہوگا۔ حکومت قوتِ خرید کے تحفظ، غربت میں کمی، کمزور طبقات کی معاونت اور نوجوانوں کے لیے روزگار کی فراہمی کو اولیت دے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اوگرا کی مقررہ قیمتوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور ناجائز منافع خوری و ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ مالیاتی محاذ پر ایف بی آر کی محصولات 11.7 کھرب روپے سے بڑھ کر 13 کھرب روپے ہو گئیں، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 15.2 کھرب روپے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران سی ڈی ڈبلیو پی کے 21 اجلاسوں میں 192 منصوبوں کی منظوری دی گئی جبکہ 96 ایکنک کو بھیجے گئے، جن سے تقریباً 2 لاکھ 89 ہزار براہِ راست اور 4 لاکھ 24 ہزار بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور جائزہ کاری سے قومی خزانے کو 12.6 ارب روپے کی بچت ہوئی۔

تعلیم، نوجوانوں اور بین الاقوامی تعاون پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کو صنعتی انقلابات 4.0 اور 5.0 کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے نصاب کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور “یو ایس-پاکستان نالج کوریڈور” کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔ حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران یونیورسٹی آف الینوائے نے پاکستان میں اپنا کیمپس قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اڑان پاکستان” کے تحت 2029ء تک قومی برآمدات کو 63 ارب ڈالر تک لے جانے کے ہدف پر کام جاری ہے، جبکہ پاکستان نے ترکیہ، ازبکستان اور ڈنمارک کے ساتھ زراعت، تعلیم، تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے اختتام پر کہا کہ جو معیشت چند برس قبل دیوالیہ پن کے دہانے پر تھی، وہ آج پائیدار بحالی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔