بشکیک میں ایس سی او اجلاس کے موقع پر پوتن کی مسعود پزشکیان سے ملاقات: مشکل وقت میں ایران کی ہر ممکن مدد جاری رکھنے کا روسی اعلان

محمود احمد, September 01,2026

بشکیک/ماسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ایران کی قیادت اور عوام کے عزم و ہمت کو سراہتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ماسکو انتظامیہ ’اس مشکل اور حساس دور‘ میں تہران کی ہر ممکن مدد کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

یکم ستمبر کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے اہم موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ایک دباؤ سے بھرپور فضا میں ہونے والی باہمی ملاقات کے دوران صدر پوتن نے کہا کہ روس اپنے قومی مفادات، جغرافیائی سرحدوں اور خودمختاری کے دفاع میں ایرانی قوم کی جرات اور استقامت کی انتہائی قدر کرتا ہے۔

روسی خبر رساں ادارے ’تاس‘ کے مطابق روسی صدر نے ایرانی ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس انتہائی پیچیدہ اور مشکل دور میں ہم ایران کو درکار ہر قسم کی معاونت و سامان فراہم کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس موضوع پر دونوں ممالک کے حکام کے درمیان پیشگی تفصیل سے بات چیت ہو چکی ہے اور روس کی جانب سے ضروری عسکری و لاجسٹک سامان کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔

اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران صدر ولادیمیر پوتن نے روس اور ایران کے درمیان گہرے ہوتے تجارتی اور اقتصادی تعلقات کی موجودہ رفتار کو بھی سراہا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ خطے میں پھیلی موجودہ شدید ‘عسکری اور سیاسی صورتحال کے باوجود’ دونوں ممالک کے تجارتی و معاشی روابط مثبت سمت میں مسلسل پیش رفت کر رہے ہیں۔

روسی صدر کا کہنا تھا کہ باہمی تجارت میں یہ بہتری بنیادی طور پر ‘روس۔ایران بین الحکومتی کمیشن’ کی فعال اور مؤثر کارکردگی کا نتیجہ ہے، جو باقاعدگی کے ساتھ اپنے اجلاس منعقد کر رہا ہے اور جس کا تازہ ترین اور انتہائی اہم اجلاس حال ہی میں کامران ثابت ہوا ہے۔

کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے 25ویں تاریخی سربراہی اجلاس کا آغاز: انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے اہم ملاقات

محمود احمد, August 31,2026

بشکیک (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے دو روزہ 25ویں سالگرہ کے تاریخی سربراہی اجلاس کے موقع پر انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی سیکیورٹی اور تجارتی راہداریوں سمیت خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔

کرغزستان میں منعقد ہونے والے اس 25ویں سالگرہ کے یادگار اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے صدر ولادیمیر پوتن، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایک درجن سے زائد دیگر ممالک کے سربراہانِ مملکت و حکومت شرکت کر رہے ہیں۔ روس، چین، انڈیا، پاکستان، ایران، بیلاروس اور وسطی ایشیا کے چار ممالک اس اہم تنظیم کے باقاعدہ رکن ہیں، اور یہ سربراہی اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب تنظیم اپنے قیام کا ربع صدی کا سفر مکمل کر رہی ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ شنگھائی تعاون تنظیم کے اس ایونٹ کو کثیر قطبی عالمی نظامکے فروغ اور مغربی بلاک کے مقابلے میں خطے کے اتحاد کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

یہ اہم سربراہی اجلاس ایک ایسے انتہائی کشیدہ عالمی تناظر میں منعقد ہو رہا ہے جب روس کے یوکرین پر حملے کو ساڑھے چار سال کا طویل عرصہ بیت چکا ہے، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری ہمہ گیر عسکری جنگ کو چھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔ ایسے میں ایس سی او اجلاس کو عالمی جیو پولیٹکس میں ایک انتہائی حساس سفارتی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔