نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے حاشیے پر اہم ملاقات: ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی گفتگو

محمود احمد, September 11,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقات کی ہے، جس میں دونوں اہم ایشیائی ممالک کے درمیان کثیر الجہتی تعاون کے فروغ اور اسٹریٹجک معاہدوں پر عمل درآمد جاری رکھنے کے عزم کا دہرایا گیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا اور سفارتی ذرائع کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز منعقد ہونے والی اس معتبر ملاقات میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایران اور بھارت کے تاریخی اور تجارتی روابط کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی طے پانے والے اسٹریٹجک معاہدوں، بالخصوص چابہار بندرگاہ اور مواصلاتی راہداریوں کی ترقی کے منصوبوں پر پیش رفت اور پیشرفت کو مسلسل برقرار رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

یہ اہم ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب نئی دہلی میں برکس کا سالانہ سربراہی اجلاس مکمل شدومد اور عالمی برادری کی توجہ کے ساتھ جاری ہے۔ اس عالمی سربراہی اجلاس میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور چین کے صدر شی جن پنگ سمیت دنیا کے دیگر تمام اہم برکس رکن ممالک کے سربراہانِ مملکت اور حکومتی نمائندے بھرپور شرکت کر رہے ہیں۔

اس دوطرفہ ملاقات سے قبل برکس کے مرکزی اقتصادی سربراہی اجلاس سے اپنے جامع خطاب کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے رکن ممالک کے درمیان بینکنگ، مالیاتی اور تجارتی شعبوں میں تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط، باہمی اور موثر بنانے پر خاص زور دیا تھا۔

ایرانی صدر نے امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی یکطرفہ اقتصادی پابندیوں اور مالیاتی دباؤ کے بڑھتے ہوئے عالمی رجحان کا واضح حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقتصادی و مالیاتی ناکہ بندی اور تجارتی ہتھکنڈوں کے سیاسی استعمال سے آزاد اور خودمختار ممالک کے درمیان جائز بین الاقوامی تجارت کو سنگین نوعیت کے خطرات لاحق ہو رہے ہیں، جن کا مقابلہ صرف اور صرف برکس کے موثر معاشی اشتراک سے ہی ممکن ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی جائیں گے: بیجنگ کا باضابطہ اعلان

محمود احمد, September 10,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

چین کی وزارت خارجہ نے باضابطہ تصدیق کر دی ہے کہ صدر شی جن پنگ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی خاص دعوت پر 12 اور 13 ستمبر کو بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کا اہم دورہ کریں گے، جہاں وہ 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں چین کی نمائندگی کرتے ہوئے شرکت کریں گے۔

بیجنگ کی جانب سے چینی صدر شی جن پنگ کے اس اہم دورۂ بھارت کو چین اور بھارت کے مابین اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کی بحالی اور برکس بلاک کے تمام رکن ممالک کے باہمی معاشی و سیاسی تعاون کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر شی جن پنگ 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں عالمی معاشی صورتحال، کثیر قطبی نظام اور علاقائی تحفظ سے متعلق چینی پالیسی کا حتمی خاکہ پیش کریں گے۔

سینیئر چینی قیادت کی آمد اور عالمی رہنماؤں کے تحفظ کے پیش نظر بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں سیکیورٹی کے بے مثال اور انتہائی سخت انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق دہلی پولیس کے اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ حساس علاقوں بالخصوص تغلق روڈ کے پورے زون میں تقریباً 500 جدید ترین سی سی ٹی وی کیمرے اور خودکار سینسرز نصب کر دیے گئے ہیں تاکہ تمام تر رفت و آمد، سیکیورٹی اور سمارٹ نگرانی کے انتظامات کو فول پروف اور انتہائی موثر بنایا جا سکے۔

واضح رہے کہ برکس دنیا کی تیز ترین اور ابھرتی ہوئی بڑی ملکی معیشتوں کے درمیان قائم اقتصادی و تجارتی تعاون کا ایک معتبر عالمی پلیٹ فارم ہے۔ اس اہم اتحاد کا نام ابتدائی طور پر اس کے بانی ممالک یعنی برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ کے انگریزی ناموں کے پہلے حروف کے ملاپ سے تشکیل پایا تھا، جس میں بعد ازاں دیگر اہم معیشتیں بھی شامل کی گئی ہیں۔

برکس فورم کا بنیادی مقصد رکن ممالک کے درمیان معاشی، تجارتی، تکنیکی، سیاسی اور مالیاتی شعبوں میں مضبوط تعاون کو فروغ دینا اور دنیا کے سامنے مغرب کے اثر و رسوخ کے مقابلے میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مرکزی کردار اور خودمختاری کو موثر انداز میں مضبوط کرنا ہے۔

کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے 25ویں تاریخی سربراہی اجلاس کا آغاز: انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے اہم ملاقات

محمود احمد, August 31,2026

بشکیک (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے دو روزہ 25ویں سالگرہ کے تاریخی سربراہی اجلاس کے موقع پر انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی سیکیورٹی اور تجارتی راہداریوں سمیت خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔

کرغزستان میں منعقد ہونے والے اس 25ویں سالگرہ کے یادگار اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے صدر ولادیمیر پوتن، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایک درجن سے زائد دیگر ممالک کے سربراہانِ مملکت و حکومت شرکت کر رہے ہیں۔ روس، چین، انڈیا، پاکستان، ایران، بیلاروس اور وسطی ایشیا کے چار ممالک اس اہم تنظیم کے باقاعدہ رکن ہیں، اور یہ سربراہی اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب تنظیم اپنے قیام کا ربع صدی کا سفر مکمل کر رہی ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ شنگھائی تعاون تنظیم کے اس ایونٹ کو کثیر قطبی عالمی نظامکے فروغ اور مغربی بلاک کے مقابلے میں خطے کے اتحاد کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

یہ اہم سربراہی اجلاس ایک ایسے انتہائی کشیدہ عالمی تناظر میں منعقد ہو رہا ہے جب روس کے یوکرین پر حملے کو ساڑھے چار سال کا طویل عرصہ بیت چکا ہے، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری ہمہ گیر عسکری جنگ کو چھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔ ایسے میں ایس سی او اجلاس کو عالمی جیو پولیٹکس میں ایک انتہائی حساس سفارتی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

انڈیا میں جن زی کو لبھانے کی کوشش: نریندر مودی کا انسٹاگرام پر نیا بے تکلفانہ انداز

محمود احمد, August 23,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

انڈیا کی سیاست میں ڈیجیٹل مواصلات کا انداز تیزی سے بدل رہا ہے۔ 75 سالہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی، جو طویل عرصے سے سکرپٹڈ تقاریر اور رسمی نشریات کے ذریعے اپنی ایک سخت گیر اور بااثر سیاسی رہنما کی شبیہ قائم رکھے ہوئے تھے، اب ملک کی نئی نسل بالخصوص ’جن زی‘ سے پیار اور بے تکلفانہ انداز میں رابطہ استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حالیہ ہفتوں کے دوران مودی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ میں ایک واضح اور نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ وہ ٹائم لائن جو ماضی میں صرف سرکاری و محتاط انداز میں تیار کی گئی تصاویر تک محدود تھی، اب اس میں انسٹاگرام ٹرینڈز جیسے ’گیٹ ریڈی وِد می‘ طرز کی ویڈیوز، موبائل سے خود بنائی گئی سیلفی ویڈیوز اور نوجوانوں سے براہِ راست ‘دوست’ کہہ کر مخاطب ہونے کے کلپس شامل ہیں۔ حال ہی میں نئی دہلی میں طلبہ کی ایک گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے جن زی کے مقبول عام مکالموں کا سہارا لیا اور کہا کہ آج کا انڈین نوجوان اپنے خاندان کی پہلی نسل ہے جو راکٹ، ڈرون اور جدید کمپیوٹر چپس بنانے کے شعبے میں آگے بڑھ رہی ہے۔

واضح رہے کہ انسٹاگرام پر نریندر مودی کے 10 کروڑ 60 لاکھ (106 ملین) سے زیادہ فالوورز ہیں، جس کی بدولت وہ دنیا میں اس پلیٹ فارم پر سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے بین الاقوامی سیاسی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ اگرچہ بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سنہ 2014ء کے عام انتخابات کے بعد سے ڈیجیٹل سیاست اور سوشل میڈیا میڈیا مہمات میں مہارت حاصل رہی ہے، لیکن مودی کا یہ نیا ‘غیر رسمی انداز’ بی جے پی کی روایتی ڈیجیٹل پالیسی کا حصہ نہیں تھا، بلکہ رواں سال ملک بھر میں نوجوانوں اور طلبہ کی جانب سے مختلف مسائل پر کیے گئے احتجاجی مظاہروں کے بعد مودی کی سوشل میڈیا ٹیم نے اس نئی حکمتِ عملی کو تیزی سے اپنایا ہے۔