چینی سپلائی چین کمپنی کا آئی سی سی آئی کا دورہ، فارما اور ہیلتھ کیئر شعبوں میں سرمایہ کاری پر اتفاقِ رائے

منصور احمد, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

چین کی معروف اور پیش رو سپلائی چین کمپنی ‘یوزونگھے (ہوبئی)’ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ونس ما کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی اور کثیر الجہتی چینی تاجر وفد نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کا باضابطہ دورہ کیا، جس کا بنیادی مقصد پاکستان میں فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر، میڈیکل ٹیکنالوجی اور سپلائی چین کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع اور نئے مواقع کا گہرائی سے جائزہ لینا تھا تاکہ دونوں دوست ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی و صنعتی تعاون کو مزید بلندیوں تک پہنچایا جا سکے۔ دورے کے دوران ہونے والے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی وفد کے قائد ونس ما نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی کمپنی اور چینی سرمایہ کار پاکستان کو ایک ابھرتی ہوئی، متحرک اور انتہائی پرکشش مارکیٹ کی نظر سے دیکھتے ہیں اور وہ یہاں محض تجارت ہی نہیں بلکہ براہِ راست سرمایہ کاری، جدید چینی ٹیکنالوجی کی پاکستان منتقل اور مقامی کمپنیوں کے ساتھ مل کر جوائنٹ وینچرز (مشترکہ منصوبے) قائم کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ چینی اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان یہ قریبی اور مضبوط صنعتی تعاون جہاں ایک طرف پاکستان میں صحت کی بنیادی سہولیات کے معیار کو بلند کرنے اور فارماسیوٹیکل سپلائی چین کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، وہی دوسری جانب جدید ترین ٹیکنالوجی، مہارت اور تحقیق کے تبادلے سے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے لیے تجارت اور سرمائے کے نئے افق کھولے گا۔ ونس ما نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ اسلام آباد چیمبر میں ہونے والی بی ٹو بی یعنی تاجر سے تاجر کی سطح پر مذاکراتی ملاقاتیں دونوں ممالک کی تجارتی برادری کے درمیان دیرپا اور پائیدار معاشی تعلقات کی مضبوط بنیاد ثابت ہوں گی۔

چینی وفد کا گرمجوشی سے پرخلوص خیرمقدم کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ اس اعلیٰ سطحی چینی وفد کا دورہ پاکستان اور چین کے درمیان تیزی سے فروغ پاتے ہوئے معاشی اور صنعتی تعلقات کا ایک روشن مظہر ہے، جو خاص طور پر دواسازی، صحتِ عامہ اور سپلائی چین مینجمنٹ کے شعبوں میں ایک نئے سنہری باب کا آغاز ثابت ہوگا۔ انہوں نے وفد کو بتایا کہ اسلام آباد اور اس کے گردونواح کے تمام تر صنعتی خطے کو پاکستان کا سب سے اہم فارماسیوٹیکل، سرجیکل اور ہیلتھ کیئر حب تسلیم کیا جاتا ہے، جہاں چینی کمپنیاں مشترکہ منصوبوں، نجی سرمائے کی فراہمی، پروسیسنگ ٹیکنالوجی اور صنعتی سہولیات کے ذریعے وسیع فائس حاصل کر سکتی ہیں۔ انہوں نے آئی سی سی آئی کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ چیمبر چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں قابلِ اعتماد اور بااعتماد تجارتی شراکت داروں سے جوڑنے اور تمام تر درکار سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنا فعال اور کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔

تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے دونوں ممالک کے جیو پولیٹیکل اور اقتصادی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ، بائیوٹیکنالوجی، ہیلتھ کیئر میں ہونے والی جدید جدت طرازیوں اور جدید ترین سپلائی چین کے شعبوں میں چین کی عالمی سطح پر مسلمہ مہارت اور دوسری طرف پاکستان کی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت و روز بروز پھیلتی ہوئی صارفین کی مارکیٹ، دونوں اقوام کے لیے باہمی مفاد پر مبنی معاشی تعاون کا ایک مثالی ماحول فراہم کرتی ہیں۔ مزید برآں، آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد عرفان چوہدری نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان تعمری ملاقاتوں سے پاکستان کی دواسازی کی صنعت کو چین کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ملے گی اور نئی تجارتی راہداریاں کھلیں گی۔ اس اہم موقع پر چینی وفد کے دیگر ارکان جن میں لیو ہی شامل تھے، کے ساتھ ساتھ اسلام آباد چیمبر کے ایگزیکٹو ممبران ذوالقرنین عباسی، وسیم چوہدری، عمران منہاس، روحیل انور بٹ، سابق سینئر نائب صدر خالد چوہدری، اور آئی سی سی آئی کے دیگر اراکین اسرار مشوانی، عظمیٰ شیراز اور وفاقی دارالحکومت کی جید کاروباری و صنعتی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور دوطرفہ اقتصادی روابط کو جلد از جلد عملی شکل دینے کے عزم کو دہرایا۔

پورٹس اور بندرگاہوں کی جدید کاری حکومت کی اولین ترجیح؛ چینی سرمایہ کاروں کو میری ٹائم، لاجسٹکس اور گرین شپنگ میں سرمایہ کاری کی باضابطہ دعوت

منصور احمد, JULY 21,2026

بیجنگ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں منعقدہ مقتدر “ریجنل ٹرانزٹ ٹریڈ ہب انیشی ایٹو” سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو علاقائی تجارت اور لاجسٹکس کا انتہائی اہم مرکز قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے تزویراتی خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان جغرافیائی اور اقتصادی طور پر خطے کا سب سے بڑا تجارتی راہداری کا مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

بیجنگ میں تقریب سے خطاب کے دوران وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری نے زور دے کر کہا کہ گوادر پورٹ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا سب سے اہم اور بنیادی اقتصادی محور ہے، جبکہ حکومتِ پاکستان اس وقت ملکی تمام بندرگاہوں کی جدید کاری اور ڈیجیٹلائزیشن کو اپنی اولین اور تادیبی ترجیح بنا چکی ہے۔ انہوں نے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے میری ٹائم اور لاجسٹکس کے شعبوں میں کھل کر سرمایہ کاری کرنے کی باضابطہ دعوت دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ حکومت تمام غیر ملکی اور بالخصوص چینی سرمایہ کاروں کو مکمل شفاف، محفوظ اور سرمایہ کار دوست ماحول فراہم کر رہی ہے۔

وفاقی وزیرِ بحری امور نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ لاجسٹکس، ڈیجیٹل تجارت اور گرین شپنگ جیسے جدید شعبوں میں دونوں ممالک کے مابین باہمی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک-چین تزویراتی شراکت داری اب ایک بالکل نئے معاشی و اقتصادی دور میں داخل ہو چکی ہے، جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے میں پائیدار خوشحالی، باہمی تجارت اور مواصلاتی رابطہ سازی کو نچلی سطح تک فروغ دینے میں اہم ترین کردار ادا کرے گی۔