پائیدار قومی ترقی اور پائیدار معاشی استحکام کے لیے خواتین کو مکمل طور پر بااختیار بنانا ناگزیر ہے: قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی

کاشف عباسی , September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

قائم مقام صدر مملکت اور چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں پائیدار قومی، معاشی اور جمہوری ترقی اس وقت تک مکمل اور مستحکم نہیں ہو سکتی جب تک ملک کی نیمی آبادی یعنی خواتین کو تمام ریاستی اداروں، معیشت اور پالیسی سازی میں مساوی نمائندگی اور قیادت کے مکمل مواقع فراہم نہ کیے جائیں۔

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے زیرِ اہتمام منعقدہ “پاکستان ویمن لیڈرشپ اینڈ پالیسی سمٹ 2026” کے عظیم الشان اور پروقار اجلاس سے بطور مہمانِ خصوصیہ خطاب کرتے ہوئے قائم مقام صدر نے چیمبر آف کامرس اور تمام دیگر شراکت داروں کی کاوشوں کو شاندار الفاظ میں سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس دو انتہائی اہم اور ناگزیر قومی ترجیحات یعنی خواتین کی قائدانہ صلاحیتوں کی آبیاری اور موثر و عملی پالیسی سازی کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنے کا سبب بنی ہے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے سمٹ میں موجود معاشی ماہرین، صنعتکاروں اور پالیسی سازوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی حقیقی معاشی طاقت کو بیدار کرنے کے لیے یہ یقینی بنانا ہوگا کہ خواتین صرف ترقی اور فوائد سے مستفید ہونے والی محض صارفین نہ ہوں، بلکہ وہ معاشی میدان میں بحیثیت کامیاب تاجر، صنعتکار، پیش ور ماہر، ڈیجیٹل جدت کار اور قائدانہ کردار ادا کرنے والی رہنما کے طور پر معیشت کی بنیادی محرک بنیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چاہے کسی بھی دور دراز علاقے یا پس منظر سے تعلق رکھنے والی خاتون ہو، اسے معیاری تعلیم، مالی وسائل، جدید ترین ٹیکنالوجی، بین الاقوامی مارکیٹوں اور اعلیٰ سطح کی فیصلہ سازی تک بلاامتیاز مساوی اور آسان رسائی میسر ہونی چاہیے۔

قائم مقام صدر مملکت نے اپنے خطاب میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے انقلابی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس عالمی سطح پر تسلیم شدہ پروگرام کے ذریعے مالی معاونت کی رقم براہِ راست مستحق خواتین کے ہاتھوں میں پہنچانے سے گھریلو نظام کے اندر معاشی فیصلہ سازوں کے طور پر ان کے وجود کو بے پناہ تقویت ملی ہے۔ ان کے مطابق یہ محض عارضی امداد نہیں بلکہ مالی انحصار سے خود مختاری اور باوقار بااختیاری کی جانب ایک اہم تاریخی تبدیلی کی علامت ہے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے تمام بینکوں اور مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ وہ خواتین کی زیرِ قیادت کام کرنے والے کاروباروں اور نئے اسٹارٹ اپس کے لیے مالی سرمائے اور قرضوں کی فراہمی کے عمل کو انتہائی آسان اور سہل بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قومی سطح پر ایک ایسا شفاف ماحولیاتی نظام قائم کرنا ہوگا جہاں جب کسی خاتون کے پاس کوئی بھی تخلیقی یا تجارتی تصور ہو تو اسے سستے اور آسان مالی وسائل، منڈیوں تک رسائی، اور میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھنے کی تمام تر سہولیات بغیر کسی صنفی رکاوٹ کے فراہم کی جائیں۔

قائم مقام صدر نے پاکستان کی تاریخ کی ان عظیم اور جرات مند خواتین کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے تمام روایتی رکاوٹوں کو توڑ کر ملکی تاریخ کو نئی سمت دی۔ انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان، بیگم شائستہ اکرام اللہ اور بالخصوص سابق وزیراعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے ایک مسلم اکثریتی ملک کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم بن کر ایسی چٹانوں کو توڑا جنہیں تسخیر کرنا طویل عرصے تک ناممکن سمجھا جاتا تھا، اور ان کا وہ تاریخی سفر آج بھی خواتین کو عوامی زندگی میں آگے آنے اور قیادت سنبھالنے کی مسلسل ترغیب دیتا ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر قائم مقام صدر نے اعلان کیا کہ جب خواتین کی قیادت مضبوط ہوتی ہے تو خاندان خوشحال ہوتے ہیں، خواتین کی معاشی شمولیت سے قومیں ترقی کرتی ہیں اور جب خواتین پالیسی سازی میں شریک ہوتی ہیں تو جمہوریت زیادہ شفاف، منصفانہ اور پائیدار بنتی ہے۔ تقریب کے اختتام پر قائم مقام صدر نے اسلام آباد چیمبر کے نمایاں ارکان میں شیلڈز اور اسناد بھی تقسیم کیں، جبکہ چیمبرز کی قیادت کی جانب سے قائم مقام صدر کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔

چینی سپلائی چین کمپنی کا آئی سی سی آئی کا دورہ، فارما اور ہیلتھ کیئر شعبوں میں سرمایہ کاری پر اتفاقِ رائے

منصور احمد, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

چین کی معروف اور پیش رو سپلائی چین کمپنی ‘یوزونگھے (ہوبئی)’ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ونس ما کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی اور کثیر الجہتی چینی تاجر وفد نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کا باضابطہ دورہ کیا، جس کا بنیادی مقصد پاکستان میں فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر، میڈیکل ٹیکنالوجی اور سپلائی چین کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع اور نئے مواقع کا گہرائی سے جائزہ لینا تھا تاکہ دونوں دوست ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی و صنعتی تعاون کو مزید بلندیوں تک پہنچایا جا سکے۔ دورے کے دوران ہونے والے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی وفد کے قائد ونس ما نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی کمپنی اور چینی سرمایہ کار پاکستان کو ایک ابھرتی ہوئی، متحرک اور انتہائی پرکشش مارکیٹ کی نظر سے دیکھتے ہیں اور وہ یہاں محض تجارت ہی نہیں بلکہ براہِ راست سرمایہ کاری، جدید چینی ٹیکنالوجی کی پاکستان منتقل اور مقامی کمپنیوں کے ساتھ مل کر جوائنٹ وینچرز (مشترکہ منصوبے) قائم کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ چینی اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان یہ قریبی اور مضبوط صنعتی تعاون جہاں ایک طرف پاکستان میں صحت کی بنیادی سہولیات کے معیار کو بلند کرنے اور فارماسیوٹیکل سپلائی چین کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، وہی دوسری جانب جدید ترین ٹیکنالوجی، مہارت اور تحقیق کے تبادلے سے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے لیے تجارت اور سرمائے کے نئے افق کھولے گا۔ ونس ما نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ اسلام آباد چیمبر میں ہونے والی بی ٹو بی یعنی تاجر سے تاجر کی سطح پر مذاکراتی ملاقاتیں دونوں ممالک کی تجارتی برادری کے درمیان دیرپا اور پائیدار معاشی تعلقات کی مضبوط بنیاد ثابت ہوں گی۔

چینی وفد کا گرمجوشی سے پرخلوص خیرمقدم کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ اس اعلیٰ سطحی چینی وفد کا دورہ پاکستان اور چین کے درمیان تیزی سے فروغ پاتے ہوئے معاشی اور صنعتی تعلقات کا ایک روشن مظہر ہے، جو خاص طور پر دواسازی، صحتِ عامہ اور سپلائی چین مینجمنٹ کے شعبوں میں ایک نئے سنہری باب کا آغاز ثابت ہوگا۔ انہوں نے وفد کو بتایا کہ اسلام آباد اور اس کے گردونواح کے تمام تر صنعتی خطے کو پاکستان کا سب سے اہم فارماسیوٹیکل، سرجیکل اور ہیلتھ کیئر حب تسلیم کیا جاتا ہے، جہاں چینی کمپنیاں مشترکہ منصوبوں، نجی سرمائے کی فراہمی، پروسیسنگ ٹیکنالوجی اور صنعتی سہولیات کے ذریعے وسیع فائس حاصل کر سکتی ہیں۔ انہوں نے آئی سی سی آئی کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ چیمبر چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں قابلِ اعتماد اور بااعتماد تجارتی شراکت داروں سے جوڑنے اور تمام تر درکار سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنا فعال اور کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔

تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے دونوں ممالک کے جیو پولیٹیکل اور اقتصادی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ، بائیوٹیکنالوجی، ہیلتھ کیئر میں ہونے والی جدید جدت طرازیوں اور جدید ترین سپلائی چین کے شعبوں میں چین کی عالمی سطح پر مسلمہ مہارت اور دوسری طرف پاکستان کی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت و روز بروز پھیلتی ہوئی صارفین کی مارکیٹ، دونوں اقوام کے لیے باہمی مفاد پر مبنی معاشی تعاون کا ایک مثالی ماحول فراہم کرتی ہیں۔ مزید برآں، آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد عرفان چوہدری نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان تعمری ملاقاتوں سے پاکستان کی دواسازی کی صنعت کو چین کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ملے گی اور نئی تجارتی راہداریاں کھلیں گی۔ اس اہم موقع پر چینی وفد کے دیگر ارکان جن میں لیو ہی شامل تھے، کے ساتھ ساتھ اسلام آباد چیمبر کے ایگزیکٹو ممبران ذوالقرنین عباسی، وسیم چوہدری، عمران منہاس، روحیل انور بٹ، سابق سینئر نائب صدر خالد چوہدری، اور آئی سی سی آئی کے دیگر اراکین اسرار مشوانی، عظمیٰ شیراز اور وفاقی دارالحکومت کی جید کاروباری و صنعتی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور دوطرفہ اقتصادی روابط کو جلد از جلد عملی شکل دینے کے عزم کو دہرایا۔