پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ اور معیشت کے لیے بڑا پیش رفت: قومی پرائیویٹ ایکویٹی پالیسی فریم ورک کی تیاری تیزی سے جاری

کاشف عباسی , September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

حکومتِ پاکستان نے ملکی و بین الاقوامی طویل مدتی سرمائے کو متحرک کرنے اور کاروباری شعبے کو پیداواری سرمائے کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ‘قومی پرائیویٹ ایکویٹی پالیسی فریم ورک’ پر کام تیز کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں قومی پرائیویٹ ایکویٹی پالیسی فریم ورک کی تیاری کے لیے قائم کی گئی اعلیٰ سطح کمیٹی کے دوسرے اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اس پالیسی کا بنیادی مقصد صرف نئے مالیاتی ڈھانچے بنانا نہیں بلکہ حقیقی سرمائے کو عملی اور پیداواری سرمایہ کاری میں تبدیل کرنا ہونا چاہیے۔

اجلاس کے آغاز میں کمیٹی ارکان کی جانب سے پاکستان کی طرف سے عالمی مارکیٹ میں 3 ارب ڈالر مالیت کے یورو بانڈز کے انتہائی کامیاب اجرا اور عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد پر وزیر خزانہ کو مبارکباد پیش کی گئی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی کیپٹل مارکیٹ کا یہ مثبت ردِعمل پاکستان کی معاشی سمت پر عالمی اعتماد کا بین ثبوت ہے اور اس سے ملک کے طویل مدتی فنانسنگ ذرائع کو وسیع کرنے کا بہترین ماحول میسر آیا ہے۔

اجلاس کے دوران سٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پرائیویٹ ایکویٹی اور وینچر کیپیٹل کے لیے تیار کردہ قانونی، ٹیکس اور ضابطہ کاری ورک سٹریمز کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں بینکوں، ڈی ایف آئیز انشورنس کمپنیوں اور پنشن فنڈز جیسے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی پرائیویٹ ایکویٹی میں شمولیت، سرمائے کے اخراج و آمد کو آسان بنانے اور انٹرنیشنل فنانشل رپورٹنگ سٹینڈرڈز کے مطابق اکاؤنٹنگ طریقہ کار وضع کرنے پر غور کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ ایکویٹی ڈھانچوں کے لیے “ٹیکس نیوٹرلٹی” اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ویلیو ایشن طریقہ ہائے کار اپنانے پر اتفاق کیا گیا تا کہ ٹیکس کا دوہرا بوجھ پڑے بغیر حقیقی شفاف سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ ایک مضبوط اور شفاف ایکوسسٹم کے قیام سے نہ صرف مقامی فنڈ مینجمنٹ کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ملکی پیداواریت کو بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔

اس اعلیٰ سطح اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، مشیر نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال اور نجی و سرکاری شعبے کے سینئر نمائندگان نے شرکت کی۔