پنجاب کا مالی سال 27-2026 کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اور پنشنرز کے لیے 3.5 فیصد اضافے کا بڑا اعلان، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی موجودگی میں اپوزیشن کا شدید ہنگامہ اور ”جعلی بجٹ نامنظور“ کے نعرے، محصولات کے اہداف میں 42 فیصد سے زائد کے ریکارڈ اضافے کی تجویز

منصور احمد june 16,2026

لاہور (بیورو رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

پنجاب حکومت نے مالی سال 27-2026 کا سالانہ بجٹ صوبائی اسمبلی کے ایوان میں پیش کر دیا ہے جس میں مہنگائی کے مارے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ۷ فیصد جبکہ بزرگ پنشنرز کی پنشن میں ۳.۵ فیصد اضافے کا باقاعدہ اعلان کیا گیا ہے، لاہور سے حاصل ہونے والی سنسنی خیز سیاسی اور معاشی تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا یہ اہم ترین بجٹ اجلاس اسپیکر ملک محمد احمد خان کی زیرِ صدارت مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ چالیس منٹ کی غیر معمولی تاخیر سے شروع ہوا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی خصوصی شرکت کی، بجٹ اجلاس کا آغاز ہوتے ہی ایوان میں اپوزیشن ارکان نے شدید ترین ہنگامہ آرائی کی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی فوری رہائی کے حق میں فلک شگاف نعرے بازی شروع کر دی، جیسے ہی وزیرِ خزانہ نے بجٹ تقریر پڑھنا شروع کی تو اپوزیشن کے احتجاج میں مزید شدت اور تلخی آگئی اور اپوزیشن ارکان غصے میں اپنی نشستوں سے اٹھ کر اسپیکر ڈائس کے بالکل قریب جمع ہو گئے، اس دوران ”جعلی بجٹ نامنظور“ اور ”خان کو رہا کرو“ کے شدید نعرے پورے ایوان میں گونجتے رہے جبکہ کئی مشتعل اپوزیشن ارکان نے احتجاجاً بجٹ دستاویزات اور سرکاری کاغذات پھاڑ کر اسپیکر ڈائس کی فضا میں اچھال دیے جس سے ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا۔

بجٹ کے پسِ منظر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پنجاب کابینہ نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس بجٹ کی باقاعدہ حتمی منظوری دی تھی، نئے بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے ریلیف اقدامات کے علاوہ صوبے کے مالیاتی و ریونیو اہداف میں بھی انتہائی نمایاں اور تاریخی اضافہ کیا گیا ہے، حکومت نے صوبائی خزانہ بھرنے کے لیے بورڈ آف ریونیو کے اہداف میں ۲۵ فیصد جبکہ محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کے ریونیو اہداف میں ۷۷ فیصد اضافے کی کڑی تجویز دی ہے، سرکاری بجٹ دستاویزات کے مطابق پنجاب کے اپنے محصولات (ٹیکسز) کے مجموعی اہداف میں ۴۲.۷ فیصد کا بڑا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ صوبائی حکومت کا سخت مؤقف ہے کہ یہ بجٹ عوام پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر ترقیاتی منصوبوں کی جلد تکمیل، عوامی فلاح و بہبود اور سخت مالی نظم و ضبط کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑی محنت سے تیار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر اور متحدہ اپوزیشن نے حکومت کے اس بجٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے عوامی توقعات کے برعکس اور غریب کش قرار دیا ہے، سیاسی مبصرین کے مطابق پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے پہلے ہی روز ہونے والا یہ شدید ہنگامہ اور ہولناک احتجاج آئندہ دنوں میں صوبائی سیاست کے درجہ حرارت اور ماحول کو مزید گرم کر سکتا ہے، جبکہ بجٹ تجاویز اور مختلف محکموں کے مطالباتِ زر پر تفصیلی اور گرما گرم بحث آئندہ آنے والے روزانہ کے اجلاسوں میں باقاعدہ جاری رہے گی۔