پاکستان میں 9000 افراد کے بینک اکاؤنٹس میں 750 ارب روپے موجود ہونے کا سنسنی خیز انکشاف، اتنی بھاری رقم کے باوجود انکم ٹیکس صفر ظاہر کیا گیا، 98.9 فیصد ٹیکس فائلرز آمدن چھپاتے ہیں، چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ

کاشف عباسی ,june 19,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین راشد لنگڑیال نے ملکی تاریخ میں ٹیکس چوری اور معاشی بے ضابطگیوں کے حوالے سے ایک انتہائی چونکا دینے والا اور سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں صرف 9000 امیر ترین افراد کے بینک اکاؤنٹس میں اس وقت مجموعی طور پر 750 ارب روپے کے بھاری اموال اور بینک ڈپازٹس موجود ہیں، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اہم ترین اجلاس میں مقتدر بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے انکشاف کیا کہ ان 9000 کھرب پتی افراد نے اتنی بڑی دولت رکھنے کے باوجود اپنے انکم ٹیکس گوشواروں (ریٹرنز) میں اپنی آمدنی کو بالکل صفر ظاہر کر رکھا ہے جو کہ ملکی معیشت کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے۔

قائمہ کمیٹی کے سامنے ٹیکس چوروں کا کڑا کٹھ چٹھا کھولتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر نے مزید بتایا کہ پاکستان میں ٹیکس کا نظام کس قدر پامال ہو چکا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کے 98.9 فیصد ٹیکس ریٹرن فائلرز جان بوجھ کر اپنی حقیقی آمدن کو قانون سے چھپاتے اور حد سے زیادہ کم ظاہر کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ کڑوا سچ اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارے ٹیکسیشن کے پورے ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر سٹرٹیجک بے ضابطگیاں اور خامیاں موجود ہیں جن کا فائدہ اٹھا کر بااثر اشرافیہ ٹیکس نیٹ سے صاف بچ نکلتی ہے اور سارا بوجھ غریب عوام پر آ گرتا ہے۔

راشد لنگڑیال نے اس سنگین صورتحال سے نمٹنے اور کڑی مانیٹرنگ کے لیے ایف بی آر کے نئے انقلابی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اب ملک میں روایتی نظام کو یکسر بدل کر ایک جدید اور خودکار “فیس لیس ٹیکسیشن سسٹم” متعارف کرانے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے، اس ڈیجیٹل نظام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہوگی کہ اس میں ٹیکس افسر اور ٹیکس دہندہ (اسیسٹی) کے درمیان کسی بھی قسم کا کوئی براہِ راست رابطہ یا ملاقات نہیں ہو سکے گی جس سے رشوت ستانی اور ملی بھگت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ارکان کو مطلع کیا گیا کہ جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے اب ٹیکس نیٹ کو ہر صورت مؤثر اور وسیع بنانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں تاکہ معاشی نظام میں شفافیت کو 100 فیصد یقینی بنا کر اربوں روپے کی ہونی والی اس منظم ٹیکس چوری کو آہنی ہاتھوں سے روکا جا سکے۔