سپریم کورٹ آف پاکستان کی پہلی پختون خاتون جج جسٹس مسرت ہلالی عہدے سے ریٹائر، فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد

کاشف عباسی , August 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان کی ممتاز اور خیبرپختونخوا سے تعاق رکھنے والی پہلی خاتون جج جسٹس مسرت ہلالی اپنی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد عہدے سے ریٹائر ہو گئی ہیں۔ ان کے اعزاز میں سپریم کورٹ کے پرنسپل سیٹ اسلام آباد میں چیف جسٹس پاکستان کی زیرِ صدارت فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

اس تاریخی و وقار تقریب میں سپریم کورٹ کے ججز، لاء افسران اور وکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریفرنس میں سپریم کورٹ کے 9 ججز نے اسلام آباد سے بالمشافہ شرکت کی جبکہ 4 ججز نے کراچی اور 3 ججز نے لاہور رجسٹری سے ویڈیو لنک کے ذریعے حصہ لیا۔

اپنے اعزاز میں منعقدہ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس مسرت ہلالی جذبات سے مغلوب ہو گئیں اور اپنے مرحوم والدین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے والدین کی بے حد مشکور ہیں جن کی تربیت، دعاؤں اور رہنمائی کی بدولت وہ اس اعلیٰ مقام تک پہنچیں۔ اپنے والد کا ذکر کرتے ہوئے ان کی آنکھیں نم ہو گئیں اور انہوں نے کہا کہ والد کے ساتھ کم وقت گزارنے کا موقع ملا لیکن زندگی کے اہم اسباق انہی سے سیکھے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ جج مقرر ہوئیں تو اسی دوران ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا جس کا دکھ انہیں آج بھی ہے کہ وہ اپنی والدہ کو اس منصب پر فائز نہ دیکھ سکیں۔

جسٹس مسرت ہلالی نے چیف جسٹس پاکستان اور تمام ساتھی ججز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ججز کی دوستی، اعتماد اور تعاون نے ہر مرحلے پر ان کو حوصلہ دیا۔ اپنے عدالتی سفر کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ خیبرپختونخوا کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے بار کا انتخاب جیتا، جس کے بعد وہ پشاور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس اور پھر صوبے سے سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج بننے کے تاریخی اعزاز کی حامل رہیں۔

انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ججز آتے جاتے رہتے ہیں لیکن آئین اور انصاف کی حکمرانی ہمیشہ قائم رہنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مکمل اطمینان کے ساتھ ریٹائر ہو رہی ہیں کیونکہ جو کچھ بھی انہوں نے حاصل کیا وہ والدین کی دعاؤں، محنت اور ساتھی ججز کی حمایت سے ممکن ہوا۔

فل کورٹ ریفرنس کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کا خصوصی پیغام پڑھ کر سنایا جس میں جسٹس مسرت ہلالی کی قانون، عدالتی خدمات، اعلیٰ پیشہ ورانہ دیانت اور انصاف کی فراہمی کے لیے ان کے کلیدی کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔