

کاشف عباسی , August 27,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء
پاکستان نے انتہائی اہم اور بین الاقوامی علاقائی توانائی منصوبے ‘کاسا-1000’ کے تحت بجلی کی ترسیل اور تجارت کے بنیادی ڈھانچے پر پیش رفت بڑی حد تک مکمل کر لی ہے، جس کے تحت کنورٹر اسٹیشن پر مجموعی کام 99.7 فیصد جبکہ اس سے منسلک گراؤنڈنگ الیکٹرو اسٹیشن پر 99.5 فیصد تک کام کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے۔ دستیاب سرکاری دستاویزات اور منصوبے کی تازہ ترین صورتِ حال کے مطابق پاکستان میں 500 کلو وولٹ بائی پول ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ کنورٹر اسٹیشن کے ساتھ 66 کلو وولٹ گراؤنڈنگ الیکٹرو اسٹیشن تعمیر کیا جا رہا ہے۔ کنورٹر اسٹیشن پر انجینئرنگ اور ڈیزائن کا 97 فیصد، خریداری کا 100 فیصد، سول ورکس اور تنصیب کا 99.9 فیصد، جبکہ ٹیسٹنگ و کمیشننگ کا 99 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ دوسری جانب الیکٹرو اسٹیشن کی تنصیب اور سول ورکس 99 فیصد جبکہ ٹیسٹنگ اور کمیشننگ 98 فیصد تک مکمل ہے۔
دستاویز کے مطابق اگرچہ پاکستان کی جانب کا ڈھانچہ تکمیل کے اخری مراحل میں ہے، تاہم اس کی حتمی کمیشننگ افغانستان میں ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر مکمل ہونے تک معطل اور زیرِ التوا رہے گی، جس کے ستمبر 2027ء تک مکمل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس دوران یہ اسٹیشنز یکم اپریل 2026ء سے 29 فروری 2028ء تک بین الاقوامی کمپنی میسرز ہٹاچی کی دیکھ بھال اور تحویل میں رہیں گے، جبکہ اس منصوبے کے باقاعدہ تجارتی آپریشنز یکم مئی 2028ء سے شروع ہونے کی توقع ہے۔ مالیاتی تفصیلا ت کے مطابق پاکستانی حصے کے لیے عالمی بینک کے دو قرضوں کی سہولت حاصل ہے، جس میں 12 کروڑ ڈالر والے پہلے قرضے سے 82.86 فیصد رقم جبکہ 6 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے دوسرے قرضے سے 87.41 فیصد رقم استعمال کی جا چکی ہے، اور دونوں معاہدوں کی حتمی اختتامی تاریخ 31 دسمبر 2028ء مقرر ہے۔