

محمود احمد, August 30,2026
تہران/مسقط/ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اعلان کیا ہے کہ تہران اور سلطنتِ عمان (مسقط) کے مابین سٹریٹجک آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی سمندری راستے سے بحری جہازوں کی آمد و رفت کو ممکن بنانے کے لیے ایک عارضی سمندری راہداری کے قیام پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران اس دنیا کی سب سے اہم آبی گزرگاہ کو اس وقت تک مکمل اور باضابطہ طور پر نہیں کھولے گا جب تک امریکہ کو اس کے سیکیورٹی و معاشی وعدوں اور ذمہ داریوں پر عمل درآمد کا پابند نہیں بنا لیا جاتا۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سخت موقف اپنائے ہوئے زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی ٹریفک کے لیے بدستور بند ہے اور فی الوقت اگر کوئی تجارتی یا تیل بردار جہاز اس آبی راستے سے گزرتا ہے تو یہ صرف اور صرف ایران کی پیشگی اطلاع اور باضابطہ اجازت سے ہی ممکن ہو پاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عارضی راہداری کا مقصد صرف محدود انسانی اور ضروری مقاصد کی بحالی ہے، لیکن گزرگاہ کے مکمل تحفظ کا انحصار واشنگٹن کے رویے پر منحصر ہے۔
دوسری جانب، مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی معاشی پیش رفت کے تحت متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ملک میں قائم ’بینک مصر‘ کی تمام اماراتی شاخوں کا تفصیلی اور ہنگامی معائنہ مکمل کر لیا ہے۔ اماراتی مرکزی بینک کا یہ اقدام واشنگٹن کی جانب سے عائد کردہ تازہ ترین سخت اقتصادی پابندیوں کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے تحت ‘بینک مصر’ کو امریکی ڈالر اور مالیاتی نظام سے منقطع کر دیا گیا ہے۔ امریکی مالیاتی حکام کے مطابق مصر کے اس مرکزی بینک پر پابندی کا فیصلہ ایران پر سیاسی و معاشی دباؤ کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی وسیع تر عالمی پالیسی کا حصہ ہے۔