امریکہ اور ایران جنگ کے اثرات سے معیشت کو بچانے کے لیے اقدامات جاری؛ آبنائے ہرمز پر انحصار ختم کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے پر کام تیز

محمود احمد, September 07,2026

ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ ان کا ملک توانائی کی برآمدات، عالمی تجارت اور ملکی معاشی سرگرمیوں کو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر متبادل راستے اور جدید بنیادی ڈھانچہ تیار کر رہا ہے۔

انور قرقاش نے ابوظہبی میں انعقاد پذیر ہِلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی واضح اور سخت الفاظ میں کہا کہ متحدہ عرب امارات کی توانائی کی عالمی برآمدات اور بنیادی تجارتی و معاشی سرگرمیوں کو علاقائی کشیدگی، بدامنی یا جنگی حالات کے باعث کسی بھی صورت یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔

صدارتی مشیر نے اپنے خطاب میں تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات اپنی مشرقی ساحلی پٹی پر واقع بندرگاہوں کی مجموعی استعداد کار میں غیر معمولی اضافہ کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پائپ لائنز، ریلوے نیٹ ورک اور نئے تجارتی راستوں کو بھی تیزی سے وسعت دی جا رہی ہے تاکہ توانائی کی منتقلی اور عالمی تجارت کے لیے ہر وقت آبنائے ہرمز کے متبادل راستے باآسانی دستیاب رہیں۔

ایران کے ساتھ مستقبل کے سفارتی تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انور قرقاش نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک فعال تعلق دوبارہ قائم تو کیا جا سکتا ہے، تاہم حالیہ عسکری حملوں اور پرتشدد واقعات کے بعد باہمی اعتماد کی مکمل بحالی میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

انہوں نے خلیجی عرب ریاستوں کی مجموعی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے درپیش سلامتی کے خطرے کے بارے میں اگرچہ خلیجی ممالک کے مابین عمومی اتفاقِ رائے موجود تھا، لیکن اس کے باوجود ایک مشترکہ، مضبوط اور مربوط عسکری و معاشی حکمتِ عملی اختیار کرنے میں خلیجی ریاستیں مطلوبہ حد تک کامیاب نہیں ہو سکیں۔

انور قرقاش کے مطابق موجودہ نازک صورتحال نے خلیجی ممالک کو اپنی سلامتی، بقا اور معاشی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے مزید خود انحصاری اور متبادل ذرائع پیدا کرنے کا شدید احساس دلایا ہے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری شدید کشیدگی نے پہلے ہی عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل اور تیل کی بین الاقوامی منڈیوں پر گہرا دباؤ بڑھا رکھا ہے۔

کویت کی ‘احمد الجابر’ اور امارات کی ‘المنہاد’ ایئر بیسز پر ایران کے تباہ کن میزائل و ڈرون حملے: امریکی سیکیورٹی و مواصلاتی نظام مفلوج کرنے کا دعویٰ

محمود احمد, September 03,2026

تہران/کویت سٹی (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

خلیجی خطے میں برپا تباہ کن عسکری محاذ آرائی میں ایران نے پے در پے کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت میں قائم معروف امریکی عسکری مرکز ‘احمد الجابر ایئر بیس’ اور متحدہ عرب امارات کی ‘المنہاد ایئر بیس’ پر سنگین اور تباہ کن میزائل و ڈرون حملے کیے ہیں۔

ایرانی افواج کے شعبہ دفاع و تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جمعرات کی صبح جاری کردہ باضابطہ عسکری اعلامیے کے مطابق، ایرانی سپاہ اور بری فورسز نے جدید بیلسٹک و کروز میزائلوں اور بارود سے لیس ’انتحاری‘ ڈرونز کی مدد سے کویت میں واقع ‘احمد الجابر ایئر بیس’ پر قائم اہم امریکی سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، عسکری آلات کے گوداموں اور امریکی لڑاکا طیاروں کے بم پروف ہینگروں کو براہِ راست اور کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی افواج کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان اچانک اور جرات مندانہ حملوں کے نتیجے میں امریکی فوج کے حساس ترین سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، ڈیٹا سنٹرز اور متعدد جدید لڑاکا طیاروں کی بیرکس اور ہینگرز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

اسی تسلسل میں ایرانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے متحدہ عرب امارات میں واقع ‘المنہاد ایئر بیس’ کو بھی دوبارہ نشانہ بنایا، جہاں امریکی عسکری اہلکاروں کی رہائش گاہوں، بیرکس اور الرٹ پر موجود اعلیٰ طاقت والے ریڈار سسٹمز کو یک مشت تباہ کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب، ان ایرانی دعووں سے چند ہی لمحے قبل کویتی افواج کے کمانڈر انچیف اور وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں تصدیق کی تھی کہ ایران کی سمت سے آنے والے درجنوں مشتبہ ڈرونز اور کروز میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کرنے کے لیے کویت کا قومی فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال اور آپریشنل کر دیا گیا ہے جبکہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

ایران کا کاظم غریب آبادی کا بڑا اعلان: تہران اور مسقط کے درمیان آبنائے ہرمز میں عارضی سمندری راہداری پر اتفاق، مکمل بحالی امریکی اقدامات سے مشروط

محمود احمد, August 30,2026

تہران/مسقط/ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اعلان کیا ہے کہ تہران اور سلطنتِ عمان (مسقط) کے مابین سٹریٹجک آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی سمندری راستے سے بحری جہازوں کی آمد و رفت کو ممکن بنانے کے لیے ایک عارضی سمندری راہداری کے قیام پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران اس دنیا کی سب سے اہم آبی گزرگاہ کو اس وقت تک مکمل اور باضابطہ طور پر نہیں کھولے گا جب تک امریکہ کو اس کے سیکیورٹی و معاشی وعدوں اور ذمہ داریوں پر عمل درآمد کا پابند نہیں بنا لیا جاتا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سخت موقف اپنائے ہوئے زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی ٹریفک کے لیے بدستور بند ہے اور فی الوقت اگر کوئی تجارتی یا تیل بردار جہاز اس آبی راستے سے گزرتا ہے تو یہ صرف اور صرف ایران کی پیشگی اطلاع اور باضابطہ اجازت سے ہی ممکن ہو پاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عارضی راہداری کا مقصد صرف محدود انسانی اور ضروری مقاصد کی بحالی ہے، لیکن گزرگاہ کے مکمل تحفظ کا انحصار واشنگٹن کے رویے پر منحصر ہے۔

دوسری جانب، مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی معاشی پیش رفت کے تحت متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ملک میں قائم ’بینک مصر‘ کی تمام اماراتی شاخوں کا تفصیلی اور ہنگامی معائنہ مکمل کر لیا ہے۔ اماراتی مرکزی بینک کا یہ اقدام واشنگٹن کی جانب سے عائد کردہ تازہ ترین سخت اقتصادی پابندیوں کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے تحت ‘بینک مصر’ کو امریکی ڈالر اور مالیاتی نظام سے منقطع کر دیا گیا ہے۔ امریکی مالیاتی حکام کے مطابق مصر کے اس مرکزی بینک پر پابندی کا فیصلہ ایران پر سیاسی و معاشی دباؤ کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی وسیع تر عالمی پالیسی کا حصہ ہے۔

ایران کی متحدہ عرب امارات پر میزائل حملوں کے الزامات کی تردید، یو اے ای کا تہران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالیاتی لین دین معطل کرنے کا اعلان

محمود احمد, August 19,2026

تہران/ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی ایک نئی لہر کے دوران ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے متحدہ عرب امارات کے ان بیانات اور الزامات کو صریحاً مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے یو اے ای کی سرزمین پر میزائل داغے ہیں۔ ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران پر لگائے جانے والے یہ تمام الزامات بالکل بے بنیاد، من گھڑت اور علاقے کی صورتحال کو مزید خراب کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔

دوسری جانب، ان الزامات اور مبینہ حملوں کے فوری ردِعمل میں متحدہ عرب امارات کی حکومت نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تمام قسم کے تجارتی، معاشی اور مالیاتی لین دین کو اگلے نوٹس تک معطل کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ اماراتی حکام کی جانب سے اس فیصلے سے متعلق تمام متعلقہ بینکنگ، تجارتی اور مالیاتی اداروں کو احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق متحدہ عرب امارات کے اس یکطرفہ فیصلے کے بعد دونوں خلیجی ممالک کے درمیان سالہا سال سے قائم اربوں ڈالر کے تجارتی تعلقات، کاروباری ساہوکاری اور مالیاتی روابط شدید متاثر ہوں گے، جس سے پورے خلیجی خطے کی معاشی صورتحال، تجارتی نقل و حمل اور سفارتی تعلقات پر انتہائی گہرے اور منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔