کے پی ٹی کے تحت بھٹ آئی لینڈ کراچی میں 35 واں مفت میڈیکل کیمپ: 513 ساحلی رہائشیوں کو مفت طبی سہولیات، ادویات اور لیبارٹری ٹیسٹس کی فراہمی

روزینہ اسماعیل, August 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے ملک کی بین الاقوامی بندرگاہوں کو روزگار کے مواقع، ٹیکس محصولات کی جمع آوری، لاجسٹکس سپلائی چین، صنعتی و تجارتی سرگرمیوں، اور واٹر فرنٹ کی جدید تخلیقِ نو کے ذریعے بندرگاہی شہروں کی پائیدار ترقی میں فعال کردار ادا کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بندرگاہیں اور ساحلی شہر تاریخی و معاشی طور پر ایک دوسرے کے لازمی جزو ہیں، اور اس باہمی رشتے کو مزید مضبوط کرنے کی شدید ضرورت ہے۔

وزارتِ بحری امور کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق، وفاقی وزیر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بندرگاہی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والے اقتصادی فوائد کا دائرہ کار اکثر پورٹ کی حدوں سے نکل کر پورے ملک تک پھیل جاتا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ماحولیاتی اور سماجی اثرات عموماً پورٹ کے قریبی شہروں اور آبادیوں پر ہی مرتکز رہتے ہیں۔ شہری اقتصادی ترقی میں بندرگاہوں کے کلیدی کردار پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے آس پاس کی مقامی ساحلی کمیونٹیز کو صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں پورٹ اتھارٹیز کے روایتی کردار کو فعال طریقے سے بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کے “ہیلتھ کیئر بیونڈ باؤنڈریز” (حدود سے پار صحت کی سہولیات) کے وژن پر عملدرآمد کرتے ہوئے، کراچی پورٹ ٹرسٹ نے کراچی کے سمندری جزیرے ‘بھٹ آئی لینڈ’ میں اپنے 35 ویں مفت طبی کیمپ کا انعقاد کیا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ساحلی و جزیراتی آبادیوں تک معیاری طبی علاج کی رسائی کو ممکن بنانا تھا۔ کیمپ کے دوران کی ماہر طبی ٹیم نے جزیرے کے 513 غریب رہائشیوں کا تفصیلی معائنہ کیا اور انہیں مفت ادویات کے ساتھ ساتھ لیبارٹری ٹیسٹس کی سہولیات بھی فراہم کیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بھٹ آئی لینڈ کا میڈیکل کیمپ حکومتِ پاکستان کے اس جامع وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کے جوار میں مقیم کمزور آبادیوں کو پائیدار قومی ترقی کے فوائد میں برابر کا حصہ دار بنایا جا رہا ہے۔ پورٹ حکام کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، طبی کیمپ سے مستفید ہونے والوں میں 202 مرد، 201 خواتین اور 110 بچے شامل تھے، جبکہ موقع پر ہی 70 کے قریب ضروری لیبارٹری ٹیسٹ بھی سرانجام دیے گئے۔

طبی معائنے کے دوران ہیپاٹائٹس بی اور سی کی بروقت تشخیص کے لیے ایک خصوصی سکریننگ ڈرائیو بھی چلائی گئی تاکہ جزیرے کی پسماندہ آبادی میں متعدی بیماریوں کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ کیمپ کے اعداد و شمار کے مطابق، رپورٹ ہونے والے تقریباً 70 فیصد کیسز جلد سے متعلق بیماریوں سے متعلق تھے، جبکہ سانس کی تکالیف، معدے کی شکایات، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے دائمی مریض بھی پائے گئے۔ اس کے علاوہ کے سپیچ تھراپسٹ نے ماؤں کے لیے بچوں میں اعصابی عوارض اور بولنے کی تاخیر پر شعور بیدار کرنے کے سیشنز منعقد کیے، جس میں ابتدائی تشخیص اور تھراپی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کے پی ٹی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ ساحلی جزائر کے رہائشیوں کو ان کے گھر کی دہلیز پر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کی مہم کو بلاتعطل جاری رکھے۔

رینجرز، سندھ پولیس اور اینٹی انکروچمنٹ فورس کا مشترکہ کریک ڈاؤن؛ سینڈز پٹ، ویسٹ وارف، گلشنِ سکندر آباد اور سستی بستی میں تجاوزات مسمار

منصور احمد, JULY 17,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

وزیراعظم کی قائم کردہ خصوصی ٹاسک فورس کی براہِ راست ہدایات پر کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) نے سرکاری اراضی پر قائم غیر قانونی تجاوزات کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا اور فیصلہ کن مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے کروڑوں روپے مالیت کی 19 ایکڑ تزویراتی اراضی قبضہ مافیا سے واگزار کرا لی ہے۔ اس گرینڈ آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستان رینجرز، سندھ پولیس، اینٹی انکروچمنٹ فورس اور کے پی ٹی کے مختلف فعال شعبوں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بھرپور تعاون اور کے پی ٹی کے عملے کی مربوط حکمتِ عملی کے تحت غیر قانونی قابضین کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی گئی، جس کے نتیجے میں نہ صرف 19 ایکڑ وسیع و عریض رقبہ آزاد کرایا گیا بلکہ دو اہم پلاٹس بھی واپس اپنے قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔

کے پی ٹی حکام کے مطابق، اس کثیر الجہتی انسدادِ تجاوزات مہم کے دوران کراچی کے اہم ساحلی اور صنعتی زونز، بالخصوص سینڈز پٹ، گلشنِ سکندر آباد، سستی بستی اور ویسٹ وارف میں قائم غیر قانونی تعمیرات کو مکمل طور پر زمین بوس کیا گیا۔ آپریشن کے دوران بھاری مشینری کا استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی کچی جھونپڑیاں، پکی چار دیواریاں، غیر قانونی پتھریلی بنیادیں اور قائم کیے گئے مویشی فارمز مسمار کر دیے گئے۔ اس کے ساتھ ہی، عدالتی احکامات کی روشنی میں ویسٹ وارف کے دو اہم پلاٹس کو بھی غیر قانونی تسلط سے کامیابی سے واگزار کروا کر مستقل بنیادوں پر کے پی ٹی کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

وزیراعظم کی ٹاسک فورس کے تحت کراچی میں جاری انسدادِ تجاوزات مہم کو مزید تیز اور سخت کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ترجمان نے عزم کا اظہار کیا ہے کہ پورٹ کی حدود اور اس کے ملحقہ علاقوں میں سرکاری اراضی پر کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی یا قبضے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، اور قیمتی اراضی کے تحفظ اور قبضہ مافیا کے مکمل خاتمے کے لیے رینجرز اور پولیس کے اشتراک سے یہ تزویراتی مہم آئندہ بھی پوری قوت کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔