فاسٹ بولر محمد عباس کا لارڈز کے میدان پر تاریخی کارنامہ: سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کا 25 سالہ ریکارڈ توڑ دیا

محمود احمد, September 07,2026

ندن (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

پاکستان کے 36 سالہ تجربہ کار فاسٹ بولر محمد عباس نے کرکٹ کے قبلہ اول کہلائے جانے والے تاریخی میدان لارڈز میں اپنی جادوئی اور بے مثال سوئنگ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک نیا قومی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ محمد عباس نے لارڈز گراؤنڈ پر سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے والے پاکستانی بولرز کی فہرست میں سابق کپتان اور سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کا سالوں پرانا قائم کردہ تاریخی ریکارڈ باضابطہ طور پر پاش پاش کر دیا ہے۔ اس شاندار کارکردگی نے دنیا بھر میں موجود کرکٹ کے شائقین اور ماہرین کی توجہ ایک بار پھر اپنی طرف مبذول کروا لی ہے۔

سرکاری و بین الاقوامی اعداد و شمار کے مطابق محمد عباس نے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں اب تک مجموعی طور پر صرف 4 ٹیسٹ اننگز میں انتہائی قلیل اور حیران کن 11.41 کی بولنگ اوسط کا مظاہرہ کرتے ہوئے 17 وکٹیں اپنے نام کی ہیں۔ اس شاندار کامیابی اور وکٹوں کی مجموعی تعداد کے ساتھ ہی محمد عباس اب لارڈز کے تاریخی ہوم گراؤنڈ پر سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے پاکستانی فاسٹ بولرز کی فہرست میں اپنے دور کے عظیم بولر وقار یونس کے ساتھ مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر آ گئے ہیں، جو کہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور روشن باب ہے۔

اگر لارڈز کے میدان پر پاکستانی بولرز کے مجموعی اعداد و شمار اور تاریخی ریکارڈز پر نظر ڈالی جائے تو اس میدان پر پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ سابق فاسٹ بولر محمد عامر کے پاس محفوظ ہے، جنہوں نے 7 ٹیسٹ اننگز میں 18 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔ فہرست میں دوسرے نمبر پر سابق برق رفتار بولر وقار یونس موجود ہیں جنہوں نے 5 اننگز میں 17 وکٹیں حاصل کیں، اور اب محمد عباس نے صرف 4 اننگز میں 17 وکٹیں لے کر وقار یونس کی برابری کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔

اس فہرست میں دوسرے اور تیسرے درجے پر موجود سابق کھلاڑیوں کی بات کی جائے تو اس سے قبل سوئنگ کے سلطان اور سابق قومی کپتان وسیم اکرم نے لارڈز کی 6 اننگز میں مجموعی طور پر 12 وکٹیں حاصل کی تھیں، جنہیں اب محمد عباس نے اپنی شاندار بولنگ کے ذریعے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ وسیم اکرم جیسے عظیم کھلاڑی کے ریکارڈ کو توڑنا کسی بھی جدید دور کے بولر کے لیے ایک ناقابلِ فراموش اور شاندار اعزاز تسلیم کیا جاتا ہے۔ مزید برآں، پاکستان کے سابق عالمی شہرت یافتہ لیگ اسپنر مشتاق احمد بھی اس فہرست میں اہم مقام رکھتے ہیں جنہوں نے 4 اننگز میں 11 وکٹیں اپنے نام کر رکھی ہیں۔

محمد عباس نے حال ہی میں انگلینڈ کے خلاف کھیلے گئے دوسرے لارڈز ٹیسٹ میچ میں اپنی اعلیٰ ترین بولنگ کی مہارت کا شاندار مظاہرہ کیا

انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 ستمبر سے برمنگھم میں ہوگا

محمود احمد, September 07,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

انگلینڈ اور پاکستان کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان جاری تین ٹیسٹ میچوں پر مشتمل تاریخی سیریز کا تیسرا اور آخری میچ 9 سے 13 ستمبر تک ایجبسٹن، برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔

میزبان انگلینڈ نے ابتدائی دونوں ٹیسٹ میچوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن اور ناقابلِ شکست برتری حاصل کر رکھی ہے۔ انگلینڈ نے لیڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دی تھی، جبکہ لارڈز کے تاریخی میدان پر کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں بھی میزبان ٹیم نے 194 رنز سے کامیابی حاصل کی۔

پاکستانی ٹیم نے اس ٹیسٹ سیریز کے باقاعدہ آغاز سے قبل انگلینڈ کی کاؤنٹی کرکٹرز پر مشتمل سلیکٹ الیون کے خلاف تین روزہ مشقی میچ میں 7 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی، تاہم وہ اس فارم کو اہم ٹیسٹ میچوں میں برقرار رکھنے میں ناکام رہی۔

سلسلے کا آخری معرکہ بدھ 9 ستمبر سے ایجبسٹن میں شروع ہو رہا ہے جو 13 ستمبر تک جاری رہے گا۔ یہ اہم میچ مقامي وقت کے مطابق صبح 11 بجے شروع ہوگا۔ انگلش ٹیم کی قیادت جو روٹ کر رہے ہیں اور میزبان کرکٹ بورڈ نے آخری معرکے کے لیے 15 رکنی حتمی ڈریسنگ روم کا اعلان کر دیا ہے جہاں ان کی نظریں مکمل کلین سویپ پر مرکوز ہیں۔

دوسری جانب مسلسل دو شکستوں کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے قومی ٹیم کی کوچنگ کی کمان سرفراز احمد سے لے کر مائیک ہیسن کے سپرد کر دی ہے، جبکہ ٹیم میں بھی متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ قومی ٹیم اخری میچ میں فتح حاصل کر کے سیریز کا اختتام مثبت انداز میں کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

ہیڈنگلے ٹیسٹ میں پاکستان کی بدترین شکست: انگلینڈ کے باؤلرز کی تباہ کن باؤلنگ، گرین شرٹس کو اننگز اور 103 رنز سے ناکامی کا سامنا

محمود احمد, August 22,2026

لیڈز (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اگست 2026ء

ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز 1-1 سے ڈرا کرنے کے بعد انگلینڈ کے دورے پر موجود قومی کرکٹ ٹیم کو ہیڈنگلے کے تاریخی میدان پر شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انگلینڈ کی تیز رفتار باؤلنگ جوڑی اولی رابنسن اور جوش ٹونگ کی شاندار اور تباہ کن باؤلنگ کی بدولت میزبان ٹیم نے پاکستان کو اننگز اور 103 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دے کر سیریز میں فتح اپنے نام کر لی ہے۔ میچ کی پہلی اننگز میں پاکستانی بلے باز انگلش تیز باؤلرز کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور پوری ٹیم محض 171 رنز کے معمولی مجموعے پر ڈھیر ہو گئی۔ اولی رابنسن اور جوش ٹونگ نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی اننگز میں 5،5 وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستانی اننگز کے جواب میں انگلینڈ کی ٹیم نے جاندار بیٹنگ لائن کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی اننگز میں 409 رنز کا پہاڑ جیسا مجموعہ کھڑا کر دیا۔ پاکستان کی جانب سے علی عثمان نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے 5 وکٹیں حاصل کیں، لیکن انگلش بلے بازوں نے میچ پر اپنی گرفت مضبوط رکھی۔ انگلینڈ کی جانب سے جارڈن کاکس، تجربہ کار جو روٹ، ہیری بروک اور ڈین لارنس نے عمدہ نصف سنچریاں اسکور کر کے ٹیم کی پوزیشن کو مزید مستحکم بنایا اور پاکستان پر 238 رنز کی بھاری برتری حاصل کر لی۔

پاکستان کو اننگز کی ہزیمت سے بچنے کے لیے دوسری اننگز میں 238 رنز کا خسارہ ختم کرنا تھا، لیکن قومی بلے باز دوسری اننگز میں بھی انگلش باؤلنگ کے سامنے مکمل طور پر بے بس نظر ائے۔ پوری پاکستانی ٹیم صرف 37.3 اوورز میں 135 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی، جس کے نتیجے میں انہیں اننگز اور 103 رنز سے عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انگلینڈ کی سرزمین پر 2000ء کے بعد یہ پاکستان کا چھٹا سب سے کم ترین ٹیسٹ اسکور ہے۔ اس سے قبل 2010ء میں ایجبسٹن کے مقام پر 72 رنز پر آل آؤٹ ہونا انگلینڈ میں پاکستان کا اب تک کا سب سے کم ترین ٹیسٹ اسکور ہے، جبکہ لارڈز میں 74، ٹرینٹ برج پر 80، اولڈ ٹریفورڈ میں 119 اور ہیڈنگلے میں 134 رنز شامل ہیں۔

یہ تاریخی بیٹنگ ناکامی پاکستان کی انگلینڈ کے خلاف اننگز کے اعتبار سے چھٹی سب سے بڑی شکست ہے۔ اس سے قبل 2010ء کے لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کو اننگز اور 225 رنز کی سب سے بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ علاوہ ازیں 1954ء میں ٹرینٹ برج پر اننگز اور 129 رنز، 2006ء میں اولڈ ٹریفورڈ میں اننگز اور 120 رنز، 1978ء میں لارڈز کے مقام پر اننگز اور 120 رنز اور 1962ء میں ہیڈنگلے میں اننگز اور 117 رنز سے شکستیں پاکستان کی انگلینڈ کے خلاف اننگز کی بڑی ناکامیوں میں شمار ہوتی ہیں۔ اس میچ کی ہار نے ایک بار پھر بیرونِ ملک ٹیسٹ میچز میں پاکستانی بلے بازوں کی تکنیکی خامیوں اور فاسٹ باؤلنگ کے خلاف سنگین کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

سنیل نارائن کی عثمان طارق کو بالنگ ایکشن تنازع پر تنقید کو نظر انداز کرنے کی ہدایت: بھارتی میڈیا پروپیگنڈے پر پاکستان کے ابھرتے ہوئے اسپنر کا انکشاف

منصور احمد, August 14,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 14 اگست 2026ء

پاکستان کے 28 سالہ ابھرتے ہوئے مسٹری اسپنر عثمان طارق نے انکشاف کیا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے عالمی شہرت یافتہ بالنگ آل راؤنڈر سنیل نارائن نے ان کے غیر روایتی بالنگ ایکشن پر اٹھنے والے تنازعات کے دوران فون کر کے قیمتی مشورے اور مکمل حمایت کی پیشکش کی تھی۔

سابق پاکستانی ٹیسٹ بیٹر فواد عالم کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عثمان طارق نے بتایا کہ سنیل نارائن نے انہیں تقریباً 30 منٹ فون پر بات کرتے ہوئے حوصلہ دیا اور کہا: “یہ لوگ جو کچھ بھی کہہ یا کر رہے ہیں، ان باتوں پر بالکل توجه نہ دیں۔ وہ یہ سب کچھ صرف اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ وہ آپ کی بالنگ کو سمجھ نہیں پا رہے۔ آپ بس اپنے کھیل اور کارکردگی پر توجہ مرکوز رکھیں۔”

یاد رہے کہ کیریبین پریمیئر لیگ میں ٹرنباگو نائٹ رائیڈرز اور بعد ازاں پاکستان قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے والے عثمان طارق کو انگلینڈ کے ٹام بینٹن اور آسٹریلیا کے کیمرون گرین کی جانب سے بالنگ ایکشن پر اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے علاوہ آئی سی سی مینز ٹی-20 ورلڈ کپ 2026ء میں پاک بھارت اہم معرکے سے قبل بھارتی میڈیا نے بھی عثمان طارق کے خلاف شدید پروپیگنڈا کیا تھا۔ تاہم، عثمان طارق نے اپنے موقف میں واضح کیا کہ ان کی کہنی کی قدرتی بناوٹ کی وجہ سے بازو میں خم نظر آتا ہے، لیکن ان کا ایکشن آئی سی سی کی 15 ڈگری کی قانونی حد کے بالکل اندر ہے۔

عثمان طارق کے بالنگ ایکشن کو ماضی میں دو مرتبہ رپورٹ کیا گیا تھا، تاہم آئی سی سی سے منظور شدہ بائیو مکینکس لیب نے ٹیسٹنگ کے بعد انہیں مکمل طور پر کلیئر قرار دے دیا تھا۔ عثمان طارق اب پاکستان ٹیم کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں اور میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔

انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل سابق سپیڈ سٹار شعیب اختر کی قومی ٹیم کو تنبیہ: سیمنگ ٹریکس پر پاکستانی بیٹرز کا کڑا امتحان ہوگا

منصور احمد, August 14,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 14 اگست 2026ء

سابق قومی فاسٹ بولر اور راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے معروف شعیب اختر نے انگلینڈ کے خلاف آئندہ آنے والی اہم ٹیسٹ سیریز سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انگلینڈ کے سیمنگ ٹریکس پر گرین شرٹس کے لیے سنبھلنا انتہائی مشکل اور چیلنجنگ ہوگا۔

پاکستان اور انگلینڈ کے مابین تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا مقابلہ 19 اگست سے لیڈز میں شروع ہو رہا ہے۔ ایک مقامی سپورٹس پلیٹ فارم پر گفتگو کرتے ہوئے 51 سالہ شعیب اختر نے پیشگوئی کی کہ انگلینڈ اپنے سیمرز کو سازگار حالات فراہم کرنے اور پاکستانی بیٹرز کو زیرِ دباؤ لانے کے لیے خاص طور پر فاسٹ بولنگ کے لیے سازگار پچز تیار کرے گا۔

سابق فاسٹ بولر کا کہنا تھا کہ انگریز ٹیم ان تمام غلطیوں کا جائزہ لے کر میدان میں اترے گی جو پاکستان نے حالیہ ویسٹ انڈیز کے دورے کے دوران کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ میزبان انگلینڈ وہ غلطی ہرگز نہیں دہرائے گا جو ویسٹ انڈیز سے ہوئی اور جس کا فائدہ اٹھا کر پاکستان میچ میں کامیابی کے قریب پہنچا تھا۔ سیمرز فرینڈلی کنڈیشنز میں ہماری بیٹنگ لائن اپ کا حقیقی امتحان ہوگا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان یہ تین ٹیسٹ میچوں کی اہم سیریز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ ہے، جس کے تمام میچز دونوں ٹیموں کی عالمی رینکنگ کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے انگلینڈ میں وارم اپ میچ کے دورانیے میں کمی: چار روزہ میچ اب تین روز میں کھیلا جائے گا

محمود احمد, August 12,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

انگلینڈ کے دورے پر موجود پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے وارم اپ میچ کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کی باہمی رضامندی سے پریکٹس میچ کا دورانیہ چار دن سے کم کر کے تین دن کر دیا گیا ہے۔

کینٹ کرکٹ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان اور پی سی سی سلیکٹ الیون کے درمیان یہ وارم اپ میچ اب 13 اگست سے دی کاؤنٹی گراؤنڈ، بیکنہم میں کھیلا جائے گا۔ ابتدائی شیڈول کے تحت یہ میچ چار روز پر محیط تھا تاہم دونوں کرکٹ بورڈز کی باہمی موافقت کے بعد اسے تین روز تک محدود کر دیا گیا ہے۔

میچ کے شیڈول میں اس تبدیلی کے بعد کینٹ کرکٹ نے شائقینِ کرکٹ کے ٹکٹوں سے متعلق تفصیلی ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جن شائقین نے 12 اگست کے کھیل کے لیے ٹکٹ خریدے تھے، ان کی تمام تر رقم مکمل طور پر واپس کر دی جائے گی، جبکہ 13، 14 اور 15 اگست کے لیے خریدے گئے پہلے سے تمام ٹکٹس برقرار رہیں گے اور گراؤنڈ میں داخلے کے لیے قابلِ قبول ہوں گے۔

یہ تین روزہ وارم اپ میچ انگلینڈ کے خلاف آنے والی اہم ٹیسٹ سیریز سے قبل قومی کرکٹ ٹیم کے لیے تیاریوں کا ایک سنہری اور حتمی موقع فراہم کرے گا۔ دورانیہ کم ہونے کے باوجود قومی اسکاڈ کو انگلش پچز کی کنڈیشنز، موسم اور ماحول سے آہنگ ہونے میں مدد ملے گی، جبکہ ٹیم مینجمنٹ کو بھی ٹیسٹ سیریز سے قبل تمام کھلاڑیوں کی موجودہ فارم، تکنیک اور کارکردگی کا جائزہ لینے کا بھرپور موقع ملے گا۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف شاندار فارم: بابر اعظم بطور قومی ٹیسٹ کپتان بہترین اوسط رکھنے والے بیٹر بن گئے

محمود احمد, August 09,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

پاکستان کی قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اور عالمی شہرت یافتہ بیٹر بابر اعظم نے کرکٹ کی دنیا میں ایک اور شاندار سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ وہ پاکستان کی ٹیسٹ تاریخ میں بطور قائد (کپتان) سب سے بہترین بیٹنگ اوسط رکھنے والے بیٹر بن گئے ہیں۔

حال ہی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اختتام پذیر ہونے والی ٹیسٹ سیریز میں کپتان بابر اعظم نے زبردست فارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 اننگز میں 96.50 کی بہترین اوسط سے مجموعی طور پر 193 رنز بنائے۔ وہ اس پورے سیریز کے سب سے کامیاب اور سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی رہے۔

سیریز کے پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بابر اعظم نے 23 رنز بنائے جبکہ دوسری اننگز میں ذمہ دارانہ نصف سنچری اسکور کی۔ دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں ان کی 88 رنز کی قائدانہ اننگز نے قومی ٹیم کو 43 رنز کی اہم اور کلیدی برتری دلائی۔ بعد ازاں سیریز کے آخری میچ کی آخری اننگز میں بابر نے محض 30 گیندوں پر 2 چھکوں اور 2 چوکوں کی مدد سے ناقابلِ شکست 24 رنز بنا کر پاکستان کو 75 رنز کا ہدف باآسانی دلا دیا۔

اعداد و شمار کے مطابق بابر اعظم اب تک بطور ٹیسٹ کپتان 22 میچز میں 53.33 کی اوسط سے 1,920 رنز بنا چکے ہیں، جن میں 4 شاندار سنچریاں اور 13 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ یہ بطور کپتان 1,000 یا اس سے زائد ٹیسٹ رنز بنانے والے کسی بھی پاکستانی بیٹر کی سب سے زیادہ اوسط ہے۔

بطور ٹیسٹ کپتان بہترین بیٹنگ اوسط کی اس تاریخی فہرست میں دوسرے نمبر پر سلیم ملک ہیں جنہوں نے 52.35 کی اوسط سے 1,047 رنز بنائے۔ سابق کپتان عمران خان 52.34 کی اوسط سے 2,408 رنز بنا کر تیسرے، انضمام الحق 52.10 کی اوسط سے 2,397 رنز بنا کر چوتھے، مصباح الحق 51.39 کی اوسط سے 4,214 رنز بنا کر پانچویں جبکہ جاوید میانداد 50.08 کی اوسط سے 2,354 رنز بنا کر چھٹے نمبر پر موجود ہیں۔

بابر اعظم کی اس ریکارڈ ساز کارکردگی پر کرکٹ کے ماہرین اور شائقین کی جانب سے انہیں بے حد سراہا جا رہا ہے۔